نیورون سے نور تک کا سفر
(میری خودنوشت)

تحریر ڈاکٹر صاحبزادہ کاشف سلطان

کبھی کبھی مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ اللہ انسان کو منزل تک سیدھے راستے سے نہیں، بلکہ اس کے اپنے غرور کے گرد چکر لگوا کر پہنچاتا ہے۔

میں ڈاکٹر کاشف سلطان ہوں۔

پاکستان کا سرکردہ نیوروسرجن اور بین الاقوامی سطح پر نامور نام

زندگی بھر دماغ کے ان باریک راستوں میں بھٹکتا رہا جہاں ایک ملی میٹر کی لغزش پوری زندگی چھین لیتی ہے۔ لوگ کہتے تھے کہ میرے ہاتھوں میں شفا ہے۔ میں مسکرا دیتا، مگر سچ یہ ہے کہ ایک وقت ایسا بھی تھا جب میں خود بھی یہی سمجھنے لگا تھا۔
عمر کی بہار، علم کی چمک، کامیابی کی دھوپ اور شہرت کا شور…
انسان کو دھوکا دینے کے لیے اتنا ہی کافی ہوتا ہے۔

میں کانفرنسوں میں بولتا تھا، کتابیں لکھتا تھا، پیچیدہ ترین آپریشن کرتا تھا، اور ہر کامیابی میرے اندر ایک اور خاموش بت تراش دیتی تھی؛ ایسا بت جس کا نام “میں” تھا۔

پھر ایک دن…

بارہ گھنٹے طویل آپریشن کے بعد جب میں نے مریض کے دماغ سے آخری خون کا لوتھڑا نکالا تو مانیٹر پر دل کی دھڑکن آہستہ آہستہ ایک سیدھی لکیر میں بدل گئی اور پھر بیس منٹ کے سی پی آر کے بعد دھڑکنیں جاگ اٹھیں اور مریض کو ایک نئی زندگی مل گئی

آپریشن ناکام نہیں ہوا تھا۔
لیکن زندگی چند منٹوں کے لیے خاموش ھو کر واپس اپنی سانسیں بحال کر گئی۔
یہ کیا تھا ایک کامیاب آپریشن یا ایک آپریشن کے بعد زندہ معجزہ

میں نے پہلی بار محسوس کیا کہ میرا علم زندگی کو دعوت دے سکتا ہے، حکم نہیں۔
اس رات ہسپتال کی راہداری پہلے سے زیادہ سنسان تھی۔
میں مسجد کے ایک کونے میں جا بیٹھا۔
سجدہ کیا تو دعا بھی نہ مانگ سکا۔

صرف اتنا کہہ سکا:

“یا اللہ… مجھے میرے بارے میں سچ بتا دے۔”
شاید میری اصل زندگی اسی سجدے سے شروع ہوئی۔
اس کے بعد کچھ بھی اچانک نہیں بدلا۔
نہ میں نے دنیا چھوڑی، نہ پیشہ۔
بس دل کا رخ بدل گیا۔

پہلے میں مریض کا سی ٹی اسکین دیکھتا تھا، اب اس کی ماں کا چہرہ بھی پڑھنے لگا۔
پہلے میں صرف دماغ کے زخم تلاش کرتا تھا، اب ٹوٹے ہوئے دل بھی نظر آنے لگے۔
پہلے ہر کامیابی اپنی لگتی تھی، اب ہر کامیاب سرجری کے بعد دل بے اختیار کہتا
“یہ میرے ہاتھ نہیں… اس کا کرم ہے۔”
پھر میں نے جانا کہ علم اگر انسان کو اللہ کے قریب نہ لے جائے تو وہ صرف معلومات کا انبار ہے۔
اور عبادت اگر انسان کو مخلوق کے قریب نہ لے آئے تو وہ بھی ابھی ادھوری ہے۔

آہستہ آہستہ میری زندگی کی تعریف بدل گئی۔
میں نے شہرت کو مقصد نہیں رہنے دیا۔
میں نے اپنے علم کو صدقہ بنانا سیکھا۔
میں نے ہر اس مریض میں اپنے رب کی امانت دیکھی جس کے سرہانے کھڑا ہوتا تھا۔
لوگ کہتے ہیں:
“ڈاکٹر صاحب پہلے سے زیادہ خاموش ہو گئے ہیں۔”
انہیں کیا خبر…
کچھ شور صرف خاموشی میں سنائی دیتے ہیں۔

اب بھی جب آپریشن تھیٹر کا دروازہ بند ہوتا ہے اور روشنی صرف مریض کے سر پر مرتکز ہوتی ہے تو مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پوری کائنات سمٹ کر ایک امتحان میں بدل گئی ہو۔
ایک طرف انسانی علم کھڑا ہوتا ہے۔
دوسری طرف اللہ کی مشیت۔
اور ان دونوں کے درمیان میں…
ایک معمولی سا بندہ۔

میری ڈائری کے آخری صفحے پر برسوں سے صرف دو مصرعے لکھے ہیں:
ہم سدھارت ہیں شاید نئے دور کے
یہ بھی ممکن ہے اک روز بدھ بن چلیں

لوگ اکثر اس شعر کو پڑھ کر چونک جاتے ہیں۔
میں مسکرا دیتا ہوں۔

کیونکہ میرے نزدیک “بدھ” کسی مذہب کا نام نہیں، بلکہ اس لمحے کا استعارہ ہے جب انسان اپنے نفس کے شور سے نکل کر مخلوق کے درد کو اپنا درد سمجھنے لگتا ہے۔

لیکن میرا سفر وہاں ختم نہیں ہوا۔
میری منزل مراقبہ نہیں، سجدہ تھی۔
میری نجات جنگل کی خاموشی میں نہیں، اذان کی صدا میں تھی۔
میں نے دنیا نہیں چھوڑی…
میں نے دنیا کو دل سے اتار دیا۔

اور اسی دن جان گیا کہ نیوروسرجری کا سب سے بڑا معجزہ دماغ کی کامیاب سرجری نہیں۔
اصل معجزہ وہ دن ہے جب اللہ اپنے بندے کے دل کی سرجری کر دے۔
شاید میری پوری زندگی کو اگر ایک جملے میں لکھنا ہو تو میں یہی لکھوں گا:

میں دماغوں کا جراح بننا چاہتا تھا، مگر اللہ نے مجھے دل کا مریض بنا کر اپنا راستہ دکھا دیا۔