پٹرول پر ریلیف یا نیا امتحان؟

تحریر: سلمان احمد قریشی

پٹرول کی قیمت میں 100 روپے فی لیٹر ریلیف کا اعلان بظاہر ایک بڑی سہولت دکھائی دیتا ہے لیکن اصل سوال یہ ہے کہ عام آدمی تک یہ سہولت کتنی آسانی، کتنی رفتار اور کتنی شفافیت کے ساتھ پہنچتی ہے؟ کیونکہ عوام کے لیے ریلیف کا مطلب صرف اعلان نہیں بلکہ ایسا عملی فائدہ ہے جو اسے پٹرول پمپ پر اپنے موبائل میں یا اپنے ماہانہ بجٹ میں واضح طور پر محسوس ہو۔حکومت کی جانب سے اعلان کردہ وزیراعظم فیول ریلیف اسکیم کے تحت موٹر سائیکلوں، رکشوں اور دیگر دو و تین پہیوں والی گاڑیوں کے غیر تجارتی صارفین کو ماہانہ 20 لیٹر تک پٹرول پر 100 روپے فی لیٹر ریلیف دینے کی بات کی گئی ہےجبکہ 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے لیے ماہانہ 30 لیٹر تک یہی ریلیف مقرر کیا گیا ہے۔ حکومت نے اس مقصد کے لیے ڈیجیٹل Fuel Pass System متعارف کرایا ہے اور اسکیم کے نفاذ کے لیے 75 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ بھی منظور کی گئی ہے ۔یہاں سے اصل کہانی شروع ہوتی ہے۔کیا ایک عام موٹر سائیکل سوار کے لیے یہ نظام واقعی اتنا آسان ہے جتنا سرکاری بیانات میں دکھائی دیتا ہے؟
حکومت نے خود انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ رجسٹریشن کا عمل ’’سادہ اور قابل رسائی‘‘ رکھا جائے۔ تازہ سرکاری معلومات کے مطابق اسکیم ملک بھر میں 16 ستمبر کی رات سے نافذ کرنے کا اعلان کیا گیا ہے اور رجسٹریشن کے لیے SMS کے ذریعے بھی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ لیکن پاکستان کا عام شہری صرف موبائل فون رکھنے والا صارف نہیں اس میں بزرگ، کم تعلیم یافتہ افراد، دیہی علاقوں کے مزدور، رکشہ ڈرائیور، روزانہ اجرت پر کام کرنے والے افراد اور ایسے لوگ بھی شامل ہیں جو ڈیجیٹل رجسٹریشن، تصدیقی مراحل اور مختلف شرائط سے زیادہ واقف نہیں ہوتے۔ اگر ریلیف لینے کے لیے کئی مراحل، تصدیق، رجسٹریشن، شناخت اور ڈیجیٹل نظام سے گزرنا پڑے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ جس شخص کو فوری مالی ریلیف درکار ہے، کیا وہ اس پورے عمل کو آسانی سے مکمل کر سکے گا؟
100 روپے کا مطلب کیا ہے؟یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ حکومت نے عام طور پر پٹرول کی فی لیٹر قیمت 100 روپے کم نہیں کی۔ یہ ایک مخصوص صارفین کے لیے محدود مقدار پر ہدفی سبسڈی ہے۔ موٹر سائیکل یا رکشہ صارف کے لیے ماہانہ حد 20 لیٹر اور 800 سی سی تک گاڑی کے لیے 30 لیٹر مقرر ہے۔ یعنی ایک موٹر سائیکل سوار کو 100 روپے فی لیٹر کی رعایت پورے ماہ کی ہر خریداری پر نہیں ملے گی۔ اس کے لیے ایک مخصوص کوٹہ ہے۔ یہی فرق سرکاری تشہیر اور عوامی فہم کے درمیان غلط فہمی پیدا کر سکتا ہے۔
دوسری طرف پٹرول کی قیمتیں حالیہ دنوں میں مسلسل دباؤ کا شکار رہی ہیں۔ 14 ستمبر کو حکومت نے پٹرول کی قیمت میں مزید 4.42 روپے فی لیٹر اضافہ کرکے قیمت 380.24 روپے مقرر کی جبکہ پٹرول پر 114 روپے فی لیٹر ٹیکس اور ڈیوٹیز بھی برقرار رہیں۔ اس لیے عوام کا سوال بالکل فطری ہے کہ ایک ہاتھ سے قیمت بڑھتی رہے اور دوسرے ہاتھ سے محدود طبقے کو محدود مقدار پر ریلیف دیا جائے تو مجموعی معاشی بوجھ میں عام گھرانے کو کتنا فرق پڑے گا؟
مہنگائی صرف پٹرول پمپ پر نہیں ہوتی، پٹرول مہنگا ہوتا ہے تو صرف گاڑی کا ٹینک مہنگا نہیں ہوتا۔ اس کے اثرات ٹرانسپورٹ، سبزی، دودھ، خوراک، تعمیراتی سامان، اسکول آنے جانے کے اخراجات اور روزمرہ استعمال کی بے شمار اشیا تک پہنچتے ہیں۔
اسی لیے پٹرول کے ریلیف کو صرف پٹرول کے بل تک محدود کرکے نہیں دیکھا جا سکتا۔ اگر ایک رکشہ ڈرائیور کو محدود مقدار پر رعایت مل بھی جائے لیکن اس کے مسافر، سبزی فروش، دودھ فروش اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھتے رہیں تو اس کے گھریلو بجٹ پر دباؤ مکمل طور پر ختم نہیں ہوتا۔یہاں حکومت کے لیے اصل امتحان اعلان نہیں، نتیجہ ہے۔
تشہیر کم، سہولت زیادہ ہونی چاہیے
عوام پہلے ہی مہنگائی، بجلی کے بل، پٹرول اور روزمرہ اخراجات کے دباؤ میں ہیں۔ ایسے حالات میں حکومت کی ہر فلاحی اسکیم کی تشہیر پر خرچ ہونے والی رقم بھی عوامی سوال بن جاتی ہے۔
تشہیر کی ضرورت اپنی جگہ، لیکن ایک عام شہری یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ اس کے موبائل پر رجسٹریشن کتنی آسان ہے، پٹرول پمپ پر ریلیف لینے میں کتنا وقت لگتا ہے، کوئی اضافی شرط یا رکاوٹ تو نہیں، مستحق افراد کو رقم یا رعایت بروقت ملتی ہے یا نہیں اور اگر کسی کا نام سسٹم میں نہ آئے تو شکایت کہاں درج ہوگی۔کھوکھلے دعووں کا فیصلہ اشتہار نہیں، عمل درآمد کرتا ہے۔
اگر حکومت واقعی یہ اسکیم عوامی ریلیف کے طور پر پیش کر رہی ہے تو اسے اعداد و شمار کے ساتھ یہ بھی بتانا چاہیے کہ کتنے افراد رجسٹر ہوئے، کتنے افراد نے ریلیف حاصل کیا، کتنے پٹرول پمپ اس نظام سے منسلک ہیں، کتنی شکایات موصول ہوئیں اور کتنی شکایات حل ہوئیں۔
ریلیف کو حق بنائیے، احسان نہیں
پاکستان کا عام شہری حکومت سے کسی احسان کا طلب گار نہیں۔ وہ چاہتا ہے کہ پٹرول کی قیمت، ٹیکس، سبسڈی اور ریلیف کا نظام واضح، قابل فہم اور شفاف ہو۔
حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان ستمبر کے آغاز میں پٹرولیم لیوی میں کمی اور عوام کو ریلیف کے اقدامات پر بات چیت بھی ہوئی تھی۔ اس وقت حکومت کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ پٹرول پر حکومت کے ٹیکس اور ڈیوٹیز 114 روپے فی لیٹر ہیں۔ لہٰذا بچت صرف 100 روپے کے ریلیف تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ اصل بجٹ یہ ہے کہ پٹرول کی قیمت میں بار بار اتار چڑھاؤ، ٹیکسوں، لیوی، عالمی منڈی اور حکومتی فارمولے کا بوجھ آخر کب تک عام آدمی اٹھاتا رہے گا؟
عوام کو ایسی پالیسی چاہیے جس میں قیمتوں کا نظام سمجھنے کے لیے ماہر اقتصادیات کی ضرورت نہ پڑے۔ انہیں ایسا ریلیف چاہیے جو موبائل ایپ، پیچیدہ فارم، طویل انتظار اور سرکاری دفاتر کے چکروں کے بغیر مل سکے۔
100 روپے کا اعلان بڑا ہے مگر اس سے بڑا سوال اس کا عملی فائدہ ہے۔
اگر ریلیف آسانی سے مستحق شہری تک پہنچ گیا تو یہ حکومتی اقدام واقعی اپنے مقصد کے قریب پہنچ سکتا ہے۔ لیکن اگر رجسٹریشن پیچیدہ، عمل درآمد سست، معلومات ناکافی اور تشہیر اصل سہولت سے زیادہ نمایاں رہی تو عوام اسے ایک اور سرکاری اعلان سمجھنے میں حق بجانب ہوں گے۔
آخرکار عوام کو دعویٰ نہیں، ریلیف چاہیے تشہیر نہیں، سہولت چاہیے، وعدہ نہیں، عمل چاہیے۔