پیٹرول اور گھریلو خوشیاں

تحریر
طاہر ساون

ہر روز پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ اب صرف ایک معاشی خبر نہیں رہا بلکہ یہ عام آدمی کی ذہنی کیفیت پر اثر انداز ہونے والا ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ جب صبح کا آغاز ہی مہنگائی کی نئی خبر سے ہو اور رات کو سونے سے پہلے بجلی، گیس اور اشیائے خوردونوش کے بڑھتے دام ذہن پر بوجھ بن جائیں، تو انسان کے اندر بے چینی اور اضطراب پیدا ہونا فطری بات ہے۔
پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں جہاں پہلے ہی اکثریت محدود آمدن پر گزارہ کر رہی ہے، وہاں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ایک ڈومینو ایفیکٹ کی طرح کام کرتا ہے۔ ٹرانسپورٹ مہنگی ہوتی ہے، اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھتی ہیں، اور نتیجتاً ہر چیز عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی چلی جاتی ہے۔ ایک مزدور، ایک کلرک، یا ایک چھوٹا دکاندار، جو پہلے ہی اپنے ماہانہ بجٹ کو بڑی مشکل سے متوازن رکھتا تھا، اب مکمل طور پر بے بس نظر آتا ہے۔
مہنگائی کا سب سے بڑا اثر گھریلو زندگی پر پڑتا ہے۔ جب آمدن کم اور اخراجات زیادہ ہو جائیں تو گھر کا سکون متاثر ہوتا ہے۔ میاں بیوی کے درمیان چھوٹے چھوٹے مسائل بڑے جھگڑوں میں بدل جاتے ہیں۔ بچوں کی ضروریات پوری نہ ہونے پر والدین احساسِ محرومی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہی وہ حالات ہیں جہاں سے گھریلو ناچاقیاں جنم لیتی ہیں، اور ایک خوشحال گھرانہ آہستہ آہستہ ذہنی دباؤ اور بے سکونی کی طرف بڑھنے لگتا ہے۔
آخر یہ سلسلہ کب تک چلتا رہے گا؟ کیا عام آدمی صرف مہنگائی کا بوجھ اٹھانے کے لیے رہ گیا ہے؟ کیا اس ملک میں پالیسی سازی کرتے وقت کبھی اس مزدور کے بارے میں سوچا جاتا ہے جو دن بھر محنت کرنے کے باوجود اپنے بچوں کے لیے دودھ اور تعلیم کا بندوبست نہیں کر پاتا؟
حاکم وقت کی اولین ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپنے عوام کی فلاح و بہبود کو یقینی بنائے۔ معاشی پالیسیاں بناتے وقت صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ عوام کی حقیقی زندگیوں کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ اگر پیٹرول کی قیمت بڑھانا ناگزیر بھی ہو، تو اس کے اثرات کو کم کرنے کے لیے متبادل اقدامات بھی ہونے چاہئیں۔ عوام کو ریلیف دینے کے لیے سبسڈی، بنیادی اشیاء کی قیمتوں پر کنٹرول، اور تنخواہوں میں مناسب اضافہ وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت زمینی حقائق کو سمجھے اور ایسے فیصلے کرے جو عوام کے لیے آسانی پیدا کریں، نہ کہ ان کی مشکلات میں اضافہ کریں۔ کیونکہ ایک ریاست کی اصل طاقت اس کے خوشحال شہری ہوتے ہیں، نہ کہ محض معاشی اعداد و شمار۔
اگر حالات اسی طرح چلتے رہے تو نہ صرف معیشت بلکہ معاشرتی ڈھانچہ بھی متاثر ہوگا۔ اس لیے وقت کا تقاضا ہے کہ فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عام آدمی کو اس مہنگائی کے طوفان سے نکالا جا سکے اور اس کے چہرے پر دوبارہ سکون اور اطمینان کی جھلک نظر آئے۔