پہچان نام سے نہیں، کام اور قابلیت سے بنتی ہے

تحریر و تجزیہ: محمد زاہد مجید انور

*ہم دن رات صرف اس لیے محنت نہیں کرتے کہ خود کو دوسروں سے بہتر ثابت کریں، بلکہ ہماری جدوجہد کا اصل مقصد یہ ہوتا ہے کہ ایک دن ہماری پہچان ہمارا جنس نہیں بلکہ ہمارا کام، کردار، صلاحیت اور قابلیت ہو۔ زندگی میں اصل کامیابی دوسروں کو پیچھے چھوڑنے کا نام نہیں بلکہ اپنے کل سے بہتر بننے کا نام ہے۔دنیا میں ہر انسان کے خواب، حالات اور منزل الگ ہوتی ہے۔ کوئی وسائل کی فراوانی میں آگے بڑھتا ہے تو کوئی محدود وسائل کے باوجود اپنی محنت، عزم اور مستقل مزاجی سے اپنی شناخت بناتا ہے۔ ایسے لوگ حالات کا شکوہ کرنے کے بجائے اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے پر توجہ دیتے ہیں۔ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ وقتی تعریف سے زیادہ اہم وہ مقام ہے جو انسان اپنے عمل اور کردار سے حاصل کرتا ہے۔محنت کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔ اگر اس کا نتیجہ فوری طور پر سامنے نہ بھی آئے تو یہ انسان کے اندر تجربہ، اعتماد، حوصلہ اور قابلیت ضرور پیدا کرتی ہے۔ کامیاب لوگ اپنی زندگی میں آنے والی مشکلات کو رکاوٹ نہیں بلکہ سیکھنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ یہی سوچ انہیں عام لوگوں سے ممتاز کرتی ہے۔آج کے دور میں مقابلہ بہت زیادہ ہے۔ ہر شعبے میں بے شمار لوگ اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے کوشاں ہیں۔ ایسے ماحول میں صرف خواہش کافی نہیں، بلکہ مسلسل محنت، بہتر منصوبہ بندی، علم، ہنر اور وقت کی قدر ضروری ہے۔ جو شخص اپنے کام کو عبادت سمجھ کر دیانت داری اور خلوص سے انجام دیتا ہے، وہ دیر یا سویر اپنی الگ پہچان بنانے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔انسان کی اصل پہچان اس کے عہدے، دولت، لباس یا ظاہری نمود و نمائش سے نہیں ہوتی۔ اصل پہچان اس کے کردار، رویے، خدمت، قابلیت اور اس کام سے بنتی ہے جو وہ معاشرے کے لیے انجام دیتا ہے۔ ایک معمولی عہدے پر فائز باصلاحیت اور مخلص انسان بھی اپنے کردار سے وہ عزت حاصل کر سکتا ہے جو بڑے عہدے رکھنے والوں کو بھی نصیب نہیں ہوتی۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم دوسروں سے اپنا موازنہ کرنے کے بجائے اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنانے پر توجہ دیں۔ اگر آج ہم کل کی نسبت زیادہ علم رکھتے ہیں، بہتر کام کر رہے ہیں، اپنی غلطیوں سے سیکھ رہے ہیں اور اپنے مقصد کے قریب جا رہے ہیں تو یہی حقیقی کامیابی ہے۔زندگی میں ایسے مراحل بھی آتے ہیں جب محنت کے باوجود کامیابی دور دکھائی دیتی ہے۔ ایسے وقت میں انسان کو مایوس ہونے کے بجائے اپنے مقصد پر یقین رکھنا چاہیے۔ کیونکہ کامیابی ہمیشہ فوری طور پر نہیں ملتی، بعض اوقات مسلسل جدوجہد ہی انسان کو اس مقام تک پہنچاتی ہے جہاں لوگ اس کی مثالیں دینے لگتے ہیں۔ہمیں اپنے بچوں اور نوجوان نسل کو بھی یہی سبق دینا ہوگا کہ زندگی میں صرف نام بنانے کے بجائے ایسا کام کریں جس سے نام خود بن جائے۔ اپنی قابلیت کو تعلیم، ہنر، تحقیق، خدمت اور مثبت سوچ کے ذریعے مضبوط کریں۔ دوسروں کو نیچا دکھانے کے بجائے اپنے معیار کو بلند کریں۔آخرکار انسان دنیا سے اپنے عہدے یا ظاہری حیثیت کے ساتھ نہیں بلکہ اپنے کام اور کردار کے اثرات کے ساتھ رخصت ہوتا ہے۔ اس لیے ہماری کوشش یہ ہونی چاہیے کہ ہماری شناخت کسی سفارش، عہدے یا وقتی شہرت کی محتاج نہ ہو بلکہ جب ہمارا نام لیا جائے تو لوگ ہمارے کام، کردار اور قابلیت کو یاد کریں۔حقیقی کامیابی یہی ہے کہ انسان دوسروں سے بہتر ثابت ہونے کے بجائے خود کو اس قابل بنا دے کہ اس کی پہچان اس کے کام سے ہو، اس کا احترام اس کے کردار سے ہو اور اس کی قدر اس کی قابلیت کی بنیاد پر کی جائے۔*