مشترکہ کھاتے ختم، زمین کی تقسیم کا نیا نظام؛ کسی فریق کے انکار کے باوجود بھی ونڈہ ممکن،مشترکہ جائیداد کے تنازعات کا خاتمہ، ریونیو نظام میں اہم تبدیلی سے شہریوں کو بڑا ریلیف ملنے کی امید

تحریر : محمد زاہد مجید انور

*زمین اور جائیداد کے مشترکہ کھاتے پنجاب میں طویل عرصے سے ایک ایسا پیچیدہ مسئلہ چلے آ رہے ہیں جو نہ صرف خاندانوں کے درمیان تنازعات کا باعث بنتے ہیں بلکہ کئی مرتبہ یہی معمولی نوعیت کے جائیدادی اختلافات برسوں تک جاری رہنے والی دشمنیوں، مقدمہ بازی اور لڑائی جھگڑے میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ دیہی علاقوں میں مشترکہ زمین، مشترکہ کھاتوں اور قبضے کے معاملات بعض اوقات اس قدر سنگین شکل اختیار کر لیتے ہیں کہ خاندانوں کے درمیان تعلقات بھی متاثر ہوتے ہیں اور قیمتی وقت و سرمایہ عدالتوں اور سرکاری دفاتر کے چکروں میں ضائع ہوتا رہتا ہے۔ایسے حالات میں مشترکہ کھاتوں کی تقسیم اور زمین کے ونڈے کے حوالے سے ریونیو نظام میں کی جانے والی اہم تبدیلی شہریوں کے لیے ایک بڑی پیش رفت قرار دی جا سکتی ہے۔ نئے طریقہ کار کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ مشترکہ جائیداد کے مالکان کو غیر ضروری تاخیر، اختلافات اور طویل کارروائی سے نجات دلائی جائے اور ہر شریک کو اس کے قانونی حصے کے مطابق زمین الگ کروانے کا راستہ فراہم کیا جائے۔باہمی رضامندی سے تقسیم کا آسان راستہ،اگر مشترکہ کھاتے میں شامل تمام فریق باہمی رضامندی سے اپنی زمین تقسیم کروانا چاہتے ہوں تو ان کے لیے نسبتاً آسان طریقہ کار موجود ہے۔ متعلقہ مالکان پٹواری، تحصیلدار یا اراضی ریکارڈ سنٹر سے رجوع کرکے ضروری بیان اور قانونی کارروائی مکمل کر سکتے ہیں، جس کے بعد مشترکہ کھاتے کو قواعد و ضوابط کے مطابق تقسیم کروایا جا سکتا ہے۔اصل پیچیدگی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب مشترکہ کھاتے میں شامل ایک یا ایک سے زیادہ فریق زمین تقسیم کرنے سے انکار کر دیں۔ ماضی میں ایسے معاملات طویل عرصے تک زیرِ التوا رہنے کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں، لیکن نئے طریقہ کار میں اس مسئلے کا بھی حل تلاش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ایک فریق کے انکار سے تقسیم نہیں رکے گی، سیکرٹری ریونیو شفقت اللہ مشتاق کے مطابق، اگر مشترکہ کھاتے کے کسی فریق کی جانب سے تقسیم سے انکار کیا جاتا ہے تو بھی معاملہ غیر معینہ مدت تک رکا نہیں رہے گا۔ متعلقہ فریق کو تحصیلدار کے سامنے درخواست دینا ہوگی، جس کے بعد تحصیلدار پٹواری کے ذریعے تمام متعلقہ فریقین کو کارروائی میں شامل ہونے کے لیے طلب کرے گا۔اگر کوئی فریق طلب کیے جانے کے باوجود کارروائی میں شریک نہیں ہوتا تو دستیاب ریونیو ریکارڈ، زمین کی نوعیت، قبضے اور دیگر متعلقہ عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے قانونی طریقہ کار کے مطابق تقسیم کا عمل آگے بڑھایا جا سکے گا۔یہ تبدیلی اس لحاظ سے اہم ہے کہ کسی ایک شریک کی عدم رضامندی یا مسلسل عدم حاضری کو مشترکہ جائیداد کی تقسیم میں غیر معینہ مدت تک رکاوٹ بننے سے روکنے کی کوشش کی گئی ہے۔تحصیلدار کے لیے دو ماہ کی مدت،نئے طریقہ کار میں ریونیو افسران کی ذمہ داری بھی واضح کرنے کی بات کی گئی ہے۔ سیکرٹری ریونیو کے مطابق اگر تحصیلدار مقررہ مدت، یعنی دو ماہ میں ونڈہ مکمل نہیں کرتا تو اس کے خلاف انتظامی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے، جبکہ معاملہ اسسٹنٹ کمشنر کے پاس منتقل ہونے کی صورت بھی موجود ہوگی۔اس پہلو کو انتہائی اہم قرار دیا جا سکتا ہے، کیونکہ عوام کی ایک بڑی شکایت یہ رہی ہے کہ زمین کے معاملات میں فائلیں ایک دفتر سے دوسرے دفتر تک منتقل ہوتی رہتی ہیں اور شہری مہینوں بلکہ بعض اوقات برسوں تک اپنے جائز حق کے حصول کے لیے سرکاری دفاتر کے چکر لگاتے رہتے ہیں۔اگر مقررہ مدت میں فیصلے اور تقسیم کا عمل مکمل کرنے کی پابندی مؤثر انداز میں نافذ ہو جاتی ہے تو اس سے نہ صرف عوام کو ریلیف ملے گا بلکہ ریونیو انتظامیہ کی کارکردگی اور جواب دہی بھی بہتر ہوگی۔اپیل کا نیا نظام بھی اہم پیش رفت،اس نظام کا ایک اور اہم پہلو اپیل کا طریقہ کار ہے۔ اگر کوئی فریق تحصیلدار یا اسسٹنٹ کمشنر کے فیصلے سے مطمئن نہ ہو تو اسے اپیل کا حق حاصل ہوگا۔ فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق معاملہ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو کے سامنے اپیل کے لیے پیش کیا جا سکتا ہے، جبکہ مزید اختلاف کی صورت میں معاملہ ممبر بورڈ آف ریونیو کے سامنے جائے گا۔خاص طور پر یہ بات اہم ہے کہ دوسری اپیل کے حوالے سے روایتی طویل سلسلے کو مختصر کرتے ہوئے معاملہ براہِ راست بورڈ آف ریونیو تک پہنچانے کی بات کی گئی ہے، جہاں حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔اس اقدام کا مقصد بظاہر یہی ہے کہ زمین کے تقسیم سے متعلق معاملات غیر ضروری طور پر مختلف دفتروں میں زیرِ التوا نہ رہیں اور متاثرہ فریق کو ایک واضح اور نسبتاً تیز رفتار اپیل کا راستہ میسر ہو مشترکہ کھاتے صرف زمین نہیں، رشتوں کا بھی مسئلہ ہیں حقیقت یہ ہے کہ مشترکہ جائیداد کا مسئلہ صرف ریونیو ریکارڈ یا زمین کی پیمائش تک محدود نہیں۔ اس کے پیچھے خاندانوں کے اختلافات، وراثتی تنازعات، قبضے کے دعوے اور نسل در نسل چلنے والے جھگڑے بھی شامل ہوتے ہیں۔ کئی خاندان صرف اس لیے ایک دوسرے سے دور ہو جاتے ہیں کہ زمین کا حصہ کس کے پاس ہے اور کس کا قبضہ کہاں تک ہے۔اسی لیے اگر شفاف، میرٹ پر مبنی اور مقررہ مدت کے اندر زمین کی تقسیم کا نظام مؤثر طور پر نافذ کیا جاتا ہے تو یہ صرف ایک انتظامی اصلاح نہیں بلکہ معاشرتی امن کی جانب بھی اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔عوام کو قانونی راستہ اختیار کرنا چاہیےضرورت اس امر کی ہے کہ شہری اپنے مشترکہ کھاتوں کے معاملات میں غیر ضروری لڑائی جھگڑے، طاقت کے استعمال یا بااثر افراد کے ذریعے معاملات حل کرنے کے بجائے قانونی اور ریونیو طریقہ کار اختیار کریں۔ اگر کسی شخص کا زمین میں قانونی حصہ ہے تو اسے چاہیے کہ وہ متعلقہ ریونیو افسر سے رجوع کرے، مکمل ریکارڈ فراہم کرے اور قانون کے مطابق اپنے حصے کی تقسیم کے لیے درخواست دے۔دوسری طرف ریونیو افسران کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے ساتھ شفاف رویہ اختیار کریں، ریکارڈ کی درستگی کو یقینی بنائیں اور کسی فریق کے ساتھ امتیازی سلوک نہ ہونے دیں۔ زمین کا معاملہ شہری کی زندگی بھر کی جمع پونجی سے متعلق ہوتا ہے، اس لیے اس میں معمولی سی غلطی بھی بڑے تنازع کو جنم دے سکتی ہے۔فیصلہ خوش آئند، اصل کامیابی مؤثر عملدرآمد میں ہےسیکرٹری ریونیو شفقت اللہ مشتاق کے مطابق چیف سیکرٹری پنجاب اور سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو کی جانب سے یہ اقدام شہریوں کو مشترکہ جائیداد کے پیچیدہ معاملات سے نجات دلانے کی کوشش ہے۔ بلاشبہ پالیسی اور قانون میں تبدیلی اپنی جگہ اہم ہے، تاہم کسی بھی اصلاح کی اصل کامیابی اس وقت سامنے آتی ہے جب عام شہری کو اس کا فائدہ عملی طور پر ملے۔اگر درخواست سے لے کر تقسیم، ریکارڈ کی درستگی اور اپیل تک تمام مراحل شفاف، آسان، مقررہ مدت کے اندر اور رشوت و سفارش سے پاک بنا دیے جائیں تو مشترکہ کھاتوں کا مسئلہ بڑی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔زمین کے جھگڑے نسلیں برباد کرتے ہیں، جبکہ منصفانہ تقسیم رشتے بھی بچاتی ہے اور معاشرے میں امن بھی قائم کرتی ہے۔ پنجاب میں مشترکہ کھاتوں کی تقسیم کے لیے سامنے آنے والی یہ اصلاحات اسی صورت میں ایک تاریخی قدم بن سکتی ہیں جب ان پر بلاامتیاز، تیزی اور شفافیت کے ساتھ عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔*