*نقب زنوں، چوروں اور منشیات فروشوں کے گرد گھیرا تنگ، ون ویلنگ کے خاتمے اور محفوظ معاشرے کیلئے ڈی پی او اخلاق اللہ تارڑ کا دوٹوک لائحہ عمل*

*تحریر و تجزیہ: محمد زاہد مجید انور*

*ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ میں امن و امان کے قیام، شہریوں کے جان و مال کے تحفظ اور جرائم کی روک تھام کیلئے پولیس کی جانب سے مختلف سطحوں پر اقدامات جاری ہیں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ٹوبہ ٹیک سنگھ اخلاق اللہ تارڑ نے واضح کیا ہے کہ ضلع بھر میں نقب زنی، چوری، منشیات فروشی اور دیگر جرائم کی بیخ کنی پولیس کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، جبکہ ایک محفوظ اور پُرامن معاشرے کے قیام کیلئے پولیس افسران کو اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتیں بھرپور انداز میں بروئے کار لانے کی ہدایت کی گئی ہے۔اس سلسلے میں ڈی پی او اخلاق اللہ تارڑ کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں پولیس افسران اور متعلقہ ونگز کے نمائندگان نے شرکت کی۔ اجلاس میں ضلع بھر میں امن و امان کی صورتحال، جرائم کی روک تھام، تفتیشی امور اور شہریوں کے تحفظ سے متعلق مختلف معاملات کا جائزہ لیا گیا۔ ڈی پی او نے پولیس افسران کو ہدایت کی کہ جرائم کی روک تھام کیلئے محض روایتی اقدامات پر انحصار کرنے کے بجائے جدید تقاضوں کے مطابق مؤثر اور مربوط حکمت عملی اختیار کی جائے۔انہوں نے تجارتی مراکز، بازاروں اور مارکیٹوں میں چوری اور نقب زنی کی وارداتوں کی روک تھام کیلئے تاجر برادری اور مارکیٹوں کے عہدیداران کو اعتماد میں لینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ باہمی تعاون کے ذریعے چوکیداروں اور سکیورٹی گارڈز کی تعیناتی کو یقینی بنایا جائے۔ تجارتی علاقوں میں مؤثر نگرانی، مشکوک سرگرمیوں کی بروقت نشاندہی اور پولیس و تاجر برادری کے درمیان رابطے کو مزید مضبوط بنا کر جرائم کی روک تھام میں مدد حاصل کی جا سکتی ہے۔ڈی پی او اخلاق اللہ تارڑ نے منشیات کے پھیلاؤ کو معاشرے خصوصاً نوجوان نسل کیلئے ایک سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ ہیروئن اور آئس سمیت مہلک منشیات کی خرید و فروخت اور استعمال کے سدباب کیلئے نتیجہ خیز اور مربوط حکمت عملی اختیار کی جائے۔ منشیات فروشوں کے خلاف بلا تفریق قانونی کارروائی کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی پر بھی خصوصی توجہ دی جائے تاکہ نوجوانوں کو اس تباہ کن لت سے محفوظ رکھنے کیلئے معاشرے کے تمام طبقات اپنا کردار ادا کریں۔ان کا کہنا تھا کہ پولیس، والدین، اساتذہ، تاجر برادری، سماجی تنظیمیں اور شہری اگر منشیات کے خلاف مشترکہ شعور اجاگر کریں تو اس مسئلے سے نمٹنے کی کوششیں زیادہ مؤثر ہو سکتی ہیں۔ نوجوان نسل کسی بھی معاشرے کا قیمتی سرمایہ ہوتی ہے، اس لیے انہیں منشیات جیسے تباہ کن رجحانات سے محفوظ رکھنا اجتماعی ذمہ داری ہےاجلاس کے دوران ڈی پی او نے انوسٹی گیشن ونگ کی کارکردگی پر بھی خصوصی توجہ دیتے ہوئے ہدایت کی کہ زیرِ تفتیش مقدمات کے چالان جلد از جلد مکمل کرکے بروقت عدالتوں میں جمع کروائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ مقدمات کی مؤثر تفتیش، شواہد کی مناسب تکمیل اور قانونی تقاضوں کی بروقت تکمیل سے انصاف کے عمل کو تقویت ملتی ہے اور متاثرین کو انصاف کی فراہمی یقینی بنانے میں مدد ملتی ہے۔ڈی پی او اخلاق اللہ تارڑ نے ون ویلنگ جیسے خطرناک اور جان لیوا رجحان کے خلاف بھی مؤثر حکمت عملی اپنانے کی ہدایت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ سڑکوں اور شاہراہوں پر ون ویلنگ نہ صرف خود نوجوانوں بلکہ دیگر شہریوں کیلئے بھی خطرے کا باعث بن سکتی ہے۔ اس حوالے سے والدین پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور انہیں ایسے خطرناک مشاغل سے دور رکھیں جن سے قیمتی انسانی جانوں کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو۔ضرورت اس امر کی ہے کہ جرائم کی روک تھام کو صرف پولیس کی ذمہ داری سمجھنے کے بجائے معاشرے کے تمام طبقات اپنا کردار ادا کریں۔ شہری مشکوک سرگرمیوں کی بروقت اطلاع دیں، تاجر برادری سکیورٹی انتظامات بہتر بنائے، والدین نوجوانوں کی رہنمائی کریں اور پولیس قانون کے مطابق بلا تفریق کارروائی کو یقینی بنائے تو جرائم کے سدباب کیلئے ایک مضبوط نظام تشکیل دیا جا سکتا ہے۔ڈی پی او اخلاق اللہ تارڑ کی جانب سے پولیس افسران کو پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور مہارتوں کو بروئے کار لانے کی ہدایت اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ امن و امان کے قیام کیلئے مؤثر پولیسنگ، بروقت تفتیش، شہری تعاون اور قانون پر عملدرآمد بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ جیسے پُرامن ضلع میں شہریوں کے جان و مال کا تحفظ اور انہیں محفوظ ماحول کی فراہمی پولیس سمیت تمام متعلقہ اداروں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کے ساتھ ساتھ جرائم کے بنیادی اسباب کے خاتمے، نوجوانوں میں مثبت سرگرمیوں کے فروغ اور شہریوں میں قانون پسندی کے شعور کو بھی اجاگر کیا جائے۔ ایک محفوظ معاشرہ صرف کارروائیوں سے نہیں بلکہ پولیس اور عوام کے باہمی اعتماد، تعاون اور مشترکہ ذمہ داری کے احساس سے تشکیل پاتا ہے۔ڈی پی او اخلاق اللہ تارڑ نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ضلع میں امن و امان کے قیام، شہریوں کے تحفظ اور جرائم کی روک تھام کیلئے پولیس افسران اپنی ذمہ داریاں پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ ان کی ہدایت ہے کہ پولیس فورس اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے قانون شکن عناصر کے خلاف قانونی کارروائی اور شہریوں کیلئے محفوظ ماحول کی فراہمی کو یقینی بنائے۔*