انصاف میں تاخیر کسی صورت قبول نہیں، پولیس افسران اپنا قبلہ درست کریں، ملزم اور مدعی دونوں انصاف کے برابر حق دار ہیں: ڈی پی او اخلاق اللہ تارڑ
تحریر و تجزیہ: محمد زاہد مجید انور
*ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ میں امن و امان کے قیام، شہریوں کے جان و مال کے تحفظ، جرائم کے خاتمے اور عوام کو بروقت انصاف کی فراہمی کے حوالے سے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر اخلاق اللہ تارڑ نے پولیس افسران کو واضح اور دوٹوک ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ انصاف میں تاخیر کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی، تمام پولیس افسران اپنا قبلہ درست کرلیں اور شہریوں کی شکایات کے ازالے کو اپنی اولین ذمہ داری سمجھیں۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار اپنے دفتر میں ڈسٹرکٹ انجمن صحافیاں ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کے ضلعی صدر اور معروف کالم نگار محمد زاہد مجید انور سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ڈی پی او اخلاق اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ پولیس کا بنیادی فرض عوام کی جان و مال کا تحفظ، قانون کی بالادستی یقینی بنانا اور ہر شہری کو بلاامتیاز انصاف کی فراہمی ہے۔ پولیس اسٹیشن میں داد رسی کے لیے آنے والے ہر شخص کی شکایت کو سنجیدگی سے لیا جائے اور غیر ضروری تاخیر کے بغیر قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔ڈی پی او نے ایس ڈی پی اوز اور ایس ایچ اوز کو ہدایت کی کہ ضلع بھر میں جرائم کے قلع قمع کے لیے کارروائیاں مزید تیز کی جائیں اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف قانون کے مطابق مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پولیس کی کارکردگی کا بنیادی مقصد صرف مقدمات کا اندراج نہیں بلکہ شہریوں کو حقیقی معنوں میں تحفظ، انصاف اور قانونی معاونت فراہم کرنا ہے۔اخلاق اللہ تارڑ نے کہا کہ انصاف کے تقاضوں کے تحت ملزم اور مدعی دونوں برابر کے حق دار ہیں، اس لیے پولیس افسران کو چاہیے کہ وہ کسی بھی مقدمے میں ذاتی پسند و ناپسند، دباؤ یا غیر ضروری اثرانداز ہونے کی بجائے قانون، شواہد اور میرٹ کو بنیاد بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی شہری کے ساتھ ناانصافی یا شکایت کے ازالے میں بلاوجہ تاخیر پولیس کے فرائض کے منافی ہے، جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ درج مقدمات کی تحقیقات اور میرٹ پر یکسوئی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ جدید ٹیکنالوجی، فرانزک سہولیات، تفتیشی صلاحیتوں اور دستیاب شواہد سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے مقدمات کی تحقیقات کو مؤثر اور شفاف بنایا جائے تاکہ اصل حقائق سامنے لائے جا سکیں اور قانون کے مطابق ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی جبکہ بے گناہ افراد کو ریلیف مل سکے۔ڈی پی او اخلاق اللہ تارڑ نے پولیس افسران پر واضح کیا کہ عوام اور پولیس کے درمیان اعتماد کا رشتہ انصاف، شفافیت اور بروقت داد رسی سے مضبوط ہوتا ہے۔ پولیس افسران اپنے دفاتر کے دروازے عوام کے لیے کھلے رکھیں، شہریوں کی بات تحمل سے سنیں اور انہیں قانونی دائرہ کار میں رہتے ہوئے ہر ممکن ریلیف فراہم کریں۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی افسر یا اہلکار کی غفلت، سستی، غیر ضروری تاخیر یا فرائض سے کوتاہی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ایس ڈی پی اوز اور ایس ایچ اوز اپنے اپنے علاقوں میں جرائم کی روک تھام، مقدمات کی میرٹ پر تفتیش اور شہریوں کی شکایات کے بروقت ازالے کی خود نگرانی کریں۔ڈی پی او کا کہنا تھا کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ پولیس کی ذمہ داری ہے کہ شہریوں کو ایسا ماحول فراہم کیا جائے جہاں انہیں اپنے جان و مال کے تحفظ اور انصاف کے حصول کے حوالے سے کسی قسم کا خدشہ نہ ہو۔ قانون سب کے لیے برابر ہے اور پولیس کو ہر معاملے میں قانون اور میرٹ کو مقدم رکھتے ہوئے اپنے فرائض سرانجام دینے چاہئیں۔موجودہ دور میں عوام پولیس سے صرف کارروائی نہیں بلکہ فوری داد رسی، شفاف تفتیش، مہذب رویے اور قانون کے یکساں اطلاق کی توقع رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پولیس افسران کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ وہ تھانوں میں آنے والے سائلین کو عزت دیں، ان کی شکایات سنیں اور قانون کے مطابق بروقت کارروائی کو یقینی بنائیں۔ڈی پی او اخلاق اللہ تارڑ کی جانب سے پولیس افسران کو دی جانے والی یہ ہدایات اس امر کی عکاسی کرتی ہیں کہ جرائم کے خاتمے کے ساتھ ساتھ شہریوں کو انصاف کی فراہمی اور ان کی شکایات کا فوری ازالہ بھی پولیس کی ترجیحات میں شامل ہے۔ اگر ماتحت افسران ان ہدایات پر مؤثر انداز میں عملدرآمد یقینی بنائیں تو پولیس اور عوام کے درمیان اعتماد مزید مضبوط ہونے کے ساتھ ساتھ ضلع میں قانون کی بالادستی اور امن و امان کے قیام میں بھی مدد مل سکتی ہے۔*













