جشنِ عید میلاد النبی ﷺ کی شایانِ شان تقریبات کے انعقاد کے لیے تنظیماتِ علمائے اہلسنت کا مشترکہ مشاورتی اجلاس،مرکزی جامع مسجد اکبری میں اجلاس، جلوس، محافلِ میلاد، روٹس اور انتظامات کا جائزہ، علماء کرام کی بھرپور شرکت پر اتفاق
تحریر : محمد زاہد مجید انور

*ٹوبہ ٹیک سنگھ: خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ولادتِ باسعادت کی خوشی میں جشنِ عید میلاد النبی ﷺ کی تقریبات کو شایانِ شان، بھرپور مذہبی عقیدت و احترام اور اتحاد و یکجہتی کے جذبے کے ساتھ منانے کے سلسلہ میں تنظیماتِ علمائے اہلسنت کا ایک اہم مشترکہ مشاورتی اجلاس مرکزی جامع مسجد اکبری میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت صاحبزادہ پیر محمد منعم حسنین صدیقی نے کی، جبکہ مختلف تنظیماتِ علمائے اہلسنت کے علماء کرام، مشائخ عظام اور عہدیداران نے بھرپور شرکت کی۔اجلاس میں 12 ربیع الاول، جشنِ عید میلاد النبی ﷺ کے سلسلہ میں منعقد ہونے والی مختلف تقریبات، محافلِ میلاد، جلوس ہائے میلاد، سیرت النبی ﷺ کانفرنسز اور دیگر مذہبی پروگراموں کے انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر مختلف پروگراموں کے روٹس، نظم و ضبط، باہمی رابطہ کاری اور دیگر انتظامی امور پر علماء کرام نے اپنی تجاویز پیش کیں اور باہمی مشاورت سے انتظامات کو مزید مؤثر بنانے پر غور کیا گیا۔شرکائے اجلاس نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جشنِ عید میلاد النبی ﷺ کو مذہبی عقیدت، محبتِ رسول ﷺ، اتحادِ امت، امن و سلامتی اور باہمی اخوت کے جذبے کے ساتھ منایا جائے گا۔ محافلِ میلاد اور جلوسوں میں نظم و ضبط کو ہر صورت برقرار رکھا جائے گا جبکہ تمام متعلقہ تنظیمات، علماء کرام، منتظمین اور کارکنان ایک دوسرے کے ساتھ مکمل تعاون اور رابطہ رکھیں گے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صاحبزادہ پیر محمد منعم حسنین صدیقی نے کہا کہ حضور نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پوری انسانیت کے لیے رحمت بن کر تشریف لائے۔ آپ ﷺ کی ولادتِ باسعادت پوری امتِ مسلمہ کے لیے عظیم خوشی اور اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ جشنِ میلاد النبی ﷺ منانا محبتِ رسول ﷺ کے اظہار کا ذریعہ ہے اور ہمیں اس موقع پر سیرتِ طیبہ کو عام کرنے، آپ ﷺ کی تعلیمات پر عمل کرنے اور معاشرے میں امن، محبت، رواداری اور بھائی چارے کو فروغ دینے کا عہد کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ میلاد النبی ﷺ کی تمام تقریبات میں اسلامی اقدار، مذہبی روایات اور نظم و ضبط کو ملحوظِ خاطر رکھا جائے گا۔ علماء کرام اور مذہبی تنظیمات کا باہمی اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ جشنِ عید میلاد النبی ﷺ کی تقریبات کو بھرپور مگر پرامن انداز میں منعقد کیا جا سکے۔اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ جشنِ عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر مساجد، مدارس، گھروں، بازاروں اور دیگر مقامات پر محافلِ میلاد اور سیرت النبی ﷺ کی مجالس کا انعقاد کیا جائے، نوجوان نسل کو سیرتِ رسول اکرم ﷺ سے روشناس کرایا جائے اور انہیں حضور اکرم ﷺ کی تعلیمات پر عمل کرنے کی ترغیب دی جائے۔علماء کرام نے کہا کہ حضور نبی کریم ﷺ کی سیرتِ مبارکہ ہمارے لیے مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ آپ ﷺ نے انسانیت کو محبت، عدل، مساوات، برداشت، اخوت اور امن کا درس دیا۔ آج کے دور میں معاشرتی مسائل کے حل اور امتِ مسلمہ کے اتحاد کے لیے سیرتِ طیبہ ﷺ کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنانا ناگزیر ہے۔اجلاس میں تمام متعلقہ تنظیماتِ علمائے اہلسنت، علماء کرام، مشائخ عظام، مذہبی و سماجی شخصیات اور کارکنان سے اپیل کی گئی کہ وہ جشنِ عید میلاد النبی ﷺ کی تمام تقریبات میں بھرپور شرکت کریں اور باہمی اتحاد و اتفاق کے ساتھ ان پروگراموں کو کامیاب بنائیں۔شرکائے اجلاس نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ 12 ربیع الاول کو جشنِ عید میلاد النبی ﷺ کی تقریبات کو بھرپور مذہبی عقیدت و احترام، محبتِ رسول ﷺ، اتحاد و اخوت اور امن و سلامتی کے پیغام کے ساتھ منایا جائے گا تاکہ اس عظیم موقع پر عشقِ رسول ﷺ کا پیغام ہر طبقے تک پہنچایا جا سکے۔اجلاس کے اختتام پر ملکی سلامتی، امن و استحکام، امتِ مسلمہ کی سربلندی اور بالخصوص جشنِ عید میلاد النبی ﷺ کی تمام تقریبات کی کامیابی کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی۔*












