امام بخاری رحمہ اللہ علیہ —

تحریر سدرہ منور

اسلامی تاریخ میں بعض ایسی عظیم شخصیات گزری ہیں جنہوں نے اپنی پوری زندگی دینِ اسلام کی خدمت، احادیثِ رسول ﷺ کی حفاظت اور علمِ دین کی ترویج کے لیے وقف کر دی۔ انہی جلیل القدر محدثین میں امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ علیہ کا نام نمایاں مقام رکھتا ہے۔ آپ علمِ حدیث کے امام اور محدثین کے سربراہ مانے جاتے ہیں۔ آپ نے احادیثِ رسول ﷺ کو جمع کرنے، پرکھنے اور محفوظ کرنے میں بے مثال محنت فرمائی، اور آپ کی عظیم تصنیف صحیح البخاری آج بھی امتِ مسلمہ کے لیے حدیث کی معتبر ترین کتابوں میں شمار ہوتی ہے۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا پورا نام
امام ابو عبداللہ محمد بن اسماعیل بن ابراہیم بن مغیرہ بن بردزِبہ جعفی البخاری رحمہ اللہ علیہ۔
اپ 13 شوال 194 ہجری کو بخارا میں پیدا ہوئے اور اپنے وطن کی نسبت سے بخاری کہلائے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ ابھی بہت چھوٹے تھے کہ ان کے والد اسماعیل بن ابراہیم کا سایہ سر سے اٹھ گیا امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی والدہ انتہائی عبادت گزار صابر اور مستجاب الدعوات تھیں ۔امام بخاری بچپن میں کسی بیماری کی وجہ سے دونوں انکھوں کی بینائی سے محروم ہو گئے تو ان کی والدہ کو انتہائی صدمہ ہو اللہ کی بارگاہ میں رو رو کر دعائیں کی کہ ان کی بیٹے کی بینائی واپس آجائے بالاخر اللہ تعالی نے شب خیزی کی دعاؤں کو شرف قبولیت بخشا اپ کی والدہ نے ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کو خواب میں دیکھا انہوں نے اپ کو بشارت دی کہ اللہ تعالی نے اپ کے بیٹے کی بصارت واپس کر دی ہے جب صبح نیند سے بیدار ہوئی تو دیکھا کہ بیٹے کی دو انکھیں روشن ہیں (بحوالہ مقدمہ فتح الباری ) امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ غیر معمولی ذہانت کے مالک تھے آپ فرماتے ہیں کہ میں ابھی قران مجید حفظ کر رہا تھا کہ مجھے احادیث حفظ کرنے کا شوق پیدا ہوا جب میں مکتب سے فارغ ہوا تو اس وقت میری عمر تقریبا 10 برس تھی میں نے قران مجید حفظ کر لیا تھا اور کچھ ابتدائی کتابیں بھی پڑھ لی تھی اس کے بعد میں نے مختلف علماء کے پاس جانا شروع کیا امام بخاری اپنی عمر کے 16 برس تک اپنے ہی ملک کے استاتذہ سے علم حاصل کرتے رہے کیونکہ علمی سفر کے لیے محدثین کے ہاں یہ شرط ہے جب علمی سفر کا قصد ہو تو اپنے وطن کے شیوخ سے جس قدر احادیث مل سکے انہیں حاصل کر لیا جائے اگرچہ وہ قلیل تعداد میں ہوں
امام بخاری نے سب سے پہلے علاقہ حجاز کا ارادہ کیا جو کہ علوم شریعت کا ماوئ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا مسکن نزول وحی کا مقام تھا نیز وہ مرکز اسلام اور صحابہ اکرام کی جائے سکونت تھا اپ اپنے والدہ ماجدہ کے ہمراہ سفر حج میں مکہ پہنچے اس سفر میں اپ کے بڑے بھائی احمد بھی اپ کے ساتھ تھے اپ کی والدہ اور اپ کے بھائی حج سے فراغت کے بعد وطن واپس بخارا اگے لیکن امام بخاری نے تحصیل علم کے لیے مکہ میں اقامت اختیار کر لی اور تکمیل کے لیے شیوخ مکہ کی درسگاہوں میں حاضری شروع کی امام بخاری نے بے شمار مشائخ سے کسب فیض کیا وہ خود فرماتے ہیں کہ میں نے ایک ہزار 80 شیوخ سےاحادیث لکھی ہیں اور وہ سب کے سب محدث تھے

اللہ تعالی نے امام بخاری رحمت اللہ علیہ کو بچپن سے ہی بے مثال قوت حافظہ سے نوازا تھا چنانچہ حاشد بن اسماعیل بیان کرتے ہیں کہ امام بخاری ہمارے ساتھ علم حدیث حاصل کرنے کے لیے مشائخ بصرہ کے پاس اتے جاتے تھے اور اپ اس وقت بچپن میں تھے 16 دن گزر گئے اپ کے ساتھ والے تو احادیث لکھتے لیکن اپ انہیں قلم بند نہیں کرتے تھے اپ کے ساتھیوں نے اپ کو ملامت کی
کہ اپ حدیث کو لکھتے نہیں فرمایا کہ تم اپنی اپنی کاپیاں لاؤ ہم نے اپنی اپنی کاپیاں نکالیں جن میں 15 ہزار سے زائد احادیث لکھی ہوئی تھی اپ نے وہ سب کئ سب زبانی پڑھی حتی کہ ہم اپ کے حافظہ سے اپنی کاپیوں کی اصلاح کرتے تھے اس واقعہ سے معلوم ہوتا کہ امام بخاری کا حافظہ بچپن میں ہی بہت تیز نیز یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ اپ چھوٹی عمر میں بہت سا علم حاصل کر چکے تھے امام بخاری کا اپنا قول ہے کہ مجھے ایک لاکھ صحیح احادیث اور دو لاکھ غیر صحیح احادیث یاد ہیں
بلکہ اپ فرماتے ہیں سند میں کوئی تابعی ہو یا صحابی ہو میں اس کی ولادت جائے پیدائش اور سن وفات الغرض سب کچھ جانتا ہوں اپ کی غیر معمولی ذھانت کا اندازہ اس ایک واقعہ سے لگا لگایا جا سکتا ہے کہ ایک مرتبہ امام بخاری بغداد تشریف لے گئے تو بغداد کے مشائخ نے جمع ہو کر امام بخاری سے امتحان لینے کا پروگرام بنایا امتحان لینے کا طریقہ یہ طے ہوا کہ 10 علماء کو مقرر کیا گیا اور ہر عالم کو 10 10 احادیث دی گئی پھر انہوں نے سند اور متن میں تبدیلی کی کہ ایک حدیث کی سند کو دوسری حدیث کے متن کے ساتھ ملا دیا گیا دوسری حدیث کا متن کسی اور حدیث کی سند کے ساتھ ملا دیا اس طرح انہوں نے سو کی تعداد میں مقلوب احادیث تیار کی ہر ایک عالم کی ڈیوٹی لگائی گئی کہ جب مجلس خوب جم جائے تو باری باری ان احادیث کو امام بخاری پر پیش کیا جائے جب بغداد میں مجلس حدیث قائم ہوئی جس میں مقامی اور بیرونی بے شمار لوگ موجود تھے اور اہل مجلس جب مطمئن ہو کر بیٹھ کے تو طے شدہ پروگرام کے مطابق ان 10 علماء میں سے ایک عالم امام بخاری کے سامنے ایا اور ایک حدیث پیش کی امام بخاری نے فرمایا میں اسے نہیں پہچانتا
جب اس نے دوسری حدیث بیان کی تو ا ما م بخاری نے وہی جواب دیا کہ میں اسے نہیں جانتا اس طرح اس نے اپنی 10 احادیث پوری کر لی امام بخاری ہر حدیث کے متعلق یہی کہتے تھے میں اسے نہیں پہچانتا
پہلے شخص کے بعد دوسرا کھڑا ہوا اس نے بھی طے شدہ منصوبے کے مطابق 10 احادیث پیش کی اس طرح باقی علماء نے بھی باری باری احادیث کو الٹ پلٹ کر پیش کیا امام بخاری ہر ایک پر یہی کہہ دیتے میں اس حدیث کو نہیں پہچانتا پھر مجلس میں کچھ حضرات تو بات کی طے تک پہنچ گئے اور کچھ تذ بذبب کا شکار ہونے لگے اور امام بخاری کے حافظ اور ذہانت میں شک و شبہ کرنے لگے
امام بخاری نے پہلے شخص کو بلوایا اور اسے کہا کہ تم نے سب سے پہلے یہ حدیث اس طرح پڑھی جب کہ صحیح حدیث اپنے متن اور سند کے ساتھ اس طرح ہے پھر اس کی پیش کرتا دوسری ملقوب حدیث پڑھی اور حدیث کے اصل متن اور سند کی نشاندہی فرمائی اس طرح باقی اٹھ احادیث درست کر کے بتائیں پھر اپ نے دوسری شخص کو بلایا اور اسے اس کی پیش کردہ احادیث صحیح متن اور سند کے ساتھ بتائی اسی طرح ہر ادمی کو بلاتے رہے اور ہر ایک کی 10 احادیث کو صحیح سند اور متن کے ساتھ بتاتے رہے
اس واقعے کو حافظ ابن حجر نے اپنی سند کے ساتھ بیان کیا ہے
اس واقعہ سننے کے بعد انسان امام بخاری کے حافظے کا سکہ تسلیم کر لینے پر مجبور ہو جاتا ہے لیکن اس مجلس میں ایک سو صحیح احادیث کا بیان کر دینا کوئی تعجب انگیز بات نہیں بلکہ تعجب اور حیرت اس بات پر ہے کہ اپ نے مقلوب شدہ 100 احادیث کو صرف ایک دفعہ سن لینے کے بعد انہیں اسی ترتیب کے ساتھ یاد کر لیا اور اسی مجلس میں انہی دہرایا
حافظ رجاء بن رجاء کہتے ہے محمد بن اسماعیل کی برتری دوسرے علماء پر اس طرح ہے جس طرح مردوں کو عورتوں پر فضیلت حاصل ہے اور اپ اللہ تعالی کی نشانیوں میں سے ایک نشانی تھے جو روئے زمین پر چلتی پھرتی نظر اتی تھی
تاریخ اسلام کی یہ عظیم شخصیت اور درخشاں ستارہ اپنی بے مثال علمی خدمات انجام دینے کے بعد 30 رمضان المبارک 256 ہجری کو اپنے خالق حقیقی سے جا ملے امام بخاری کو دفن کرنے کے لیے جب قبر میں رکھا گیا تو مٹی سے کستوری کی طرح خوشبو انے لگی یہ خوشبو کئی دن تک اتی رہی لوگ اپ کی قبر سے خوشبو والی مٹی اٹھا کر لے جاتے تھے حتی کہ قبر کی ارد گرد لکڑی کا جنگلا لگا دیا گیا تاکہ وہ محفوظ رہے عبدالواحد بن ادم کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو خواب میں دیکھا اپ اپنے صحابہ کرام کے ہمراہ ایک مقام پر کھڑے ہیں گویا اپ کسی کا انتظار کر رہے ہیں میں نے سلام کیا اور عرض کیا یا رسول اللہ اپ یہاں کس کے انتظار میں ہیں اپ نے فرمایا محمد بن اسماعیل بخاری کا انتظار کر رہا ہوں مجھے چند دنوں کے بعد امام بخاری کی وفات کا پتہ چلا تو میں نے دیکھا کہ ان کی وفات کا وہی وقت تھا جس وقت میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو خواب میں کسی کا انتظار کرتے تھے