تاجدارِ ختمِ نبوت ﷺ زندہ باد، ہماری جان بھی قربان
تحریر۔۔ محمد زاہد مجید انور
*رسولِ اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پوری انسانیت کے لیے رحمت، ہدایت، امن اور محبت کا سرچشمہ ہیں۔ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں، اور عقیدۂ ختمِ نبوت ہر مسلمان کے ایمان کا بنیادی جزو ہے۔ یہی عقیدہ امتِ مسلمہ کو ایک لڑی میں پروئے رکھتا ہے اور مسلمانوں کے دلوں میں رسولِ کریم ﷺ کی بے مثال محبت کو زندہ رکھتا ہے۔جب مسلمان “تاجدارِ ختمِ نبوت ﷺ زندہ باد” اور “ہماری جان بھی قربان” جیسے محبت بھرے نعرے بلند کرتے ہیں تو وہ اپنے اس غیر متزلزل ایمان، عقیدت اور عشقِ رسول ﷺ کا اظہار کرتے ہیں جو ہر مسلمان کے دل کی دھڑکن ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ کی محبت ایمان کی روح ہے، اور آپ ﷺ کی اطاعت ہی دنیا و آخرت کی کامیابی کا راستہ ہے۔ قرآنِ کریم اور احادیثِ مبارکہ مسلمانوں کو یہ تعلیم دیتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی اطاعت، آپ ﷺ کی سنت کی پیروی اور آپ ﷺ کے اسوۂ حسنہ کو اپنی زندگی کا حصہ بنایا جائے۔آج کے دور میں امتِ مسلمہ کو اتحاد، اتفاق اور باہمی احترام کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔ اختلافات سے بالاتر ہو کر قرآن و سنت کی تعلیمات کو اپنانا اور حضور اکرم ﷺ کی سیرتِ طیبہ کو اپنی عملی زندگی میں نافذ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ سچائی، دیانت داری، انصاف، رحم دلی، برداشت، حسنِ اخلاق اور انسانیت کی خدمت وہ اوصاف ہیں جنہیں نبی کریم ﷺ نے اپنی مبارک زندگی کے ذریعے دنیا کے سامنے عملی نمونے کے طور پر پیش فرمایا۔عقیدۂ ختمِ نبوت کا تقاضا یہ بھی ہے کہ مسلمان اپنے ایمان پر ثابت قدم رہیں، اپنے کردار کو اسلامی تعلیمات کے مطابق ڈھالیں اور اپنے مذہبی جذبات کا اظہار ہمیشہ قانون، امن، نظم و ضبط اور اعلیٰ اخلاقی اقدار کے دائرے میں رہتے ہوئے کریں۔ اسلام محبت، امن، رواداری، عدل اور بھائی چارے کا دین ہے، اور نبی کریم ﷺ کی تعلیمات بھی انسانیت کی فلاح اور خیرخواہی کا درس دیتی ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ نئی نسل کو قرآنِ مجید، سنتِ نبوی ﷺ اور سیرتِ طیبہ سے جوڑا جائے تاکہ وہ دینِ اسلام کی حقیقی روح کو سمجھ سکے۔ گھروں، تعلیمی اداروں، مساجد اور معاشرے کے ہر طبقے کو اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ نوجوان نسل علم، اخلاق اور کردار کے اعلیٰ معیار پر پروان چڑھے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں عقیدۂ ختمِ نبوت پر ہمیشہ ثابت قدم رکھے، حضور نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی کامل محبت اور اطاعت نصیب فرمائے، آپ ﷺ کی سنتِ مبارکہ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، ہمارے وطن پاکستان کو امن، استحکام اور ترقی عطا فرمائے، اور پوری امتِ مسلمہ کو اتحاد، اتفاق اور باہمی محبت کی نعمت سے سرفراز فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔*












