کبیروالا
آگ اور خون سے امن و محبت تک کا سفر
ایک شہر، دو شخصیات اور اتحادِ امت کی روشن داستان
تحریر: محمد امین وارثی
پاکستان کے چند ایسے شہروں میں کبیروالا بھی شامل رہا ہے جن کا نام ایک زمانے میں فرقہ وارانہ کشیدگی کے حوالے سے لیا جاتا تھا۔ 1990ء کی دہائی میں اس شہر کو اکثر “دوسرا جھنگ” کہا جاتا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہاں ایک طرف شیعہ مکتبِ فکر کی معتبر مذہبی شخصیات اور قدیم امام بارگاہیں موجود تھیں، تو دوسری جانب دیوبندی مکتبِ فکر کا مرکزی دینی ادارہ دارالعلوم عیدگاہ سمیت متعدد اہم مذہبی مراکز بھی اپنی شناخت رکھتے تھے۔
وہ ایک ایسا دور تھا جب محرم الحرام اور دیگر حساس مواقع پر خوف، بے یقینی اور کشیدگی کی فضا چھائی رہتی تھی۔ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کبیروالا کو حساس ترین شہروں میں شامل کر رکھا تھا۔ امن و امان کے قیام کے لیے خصوصی سکیورٹی انتظامات، امن کمیٹیوں کی تشکیل اور بین المسالک رابطوں کا سلسلہ اسی پس منظر میں شروع ہوا۔
لیکن آج اگر کبیروالا کو دیکھا جائے تو یہ شہر شیعہ، سنی، بریلوی، دیوبندی اور اہلِ حدیث مکاتبِ فکر کے درمیان باہمی احترام، اخوت اور بھائی چارے کی ایک خوبصورت مثال بن چکا ہے۔ یہ تبدیلی کسی ایک دن میں نہیں آئی۔ اس کے لیے برسوں کی محنت، حکمت، برداشت اور مسلسل مکالمے کی ضرورت پڑی۔ آگ اور خون کی فضاؤں کو محبت کے گلستان میں بدلنے کے لیے بے شمار لوگوں نے کردار ادا کیا۔
اگرچہ اس سفر کے کئی کردار ہیں، مگر دو ایسی شخصیات ہیں جن کا ذکر کیے بغیر اس تاریخ کو مکمل نہیں سمجھا جا سکتا۔
پہلی شخصیت دارالعلوم عیدگاہ کبیروالا کے مہتمم، مرحوم مفتی مولانا ارشاد احمد تھے۔ وہ ایک درویش صفت، معتدل مزاج اور انتہائی باوقار عالمِ دین تھے۔ اپنے مکتبِ فکر میں غیر معمولی احترام رکھنے کے باوجود وہ شہر کے تمام طبقات کے لیے محبت، رواداری اور خیرخواہی کا جذبہ رکھتے تھے۔ ان کی شخصیت اختلاف کے بجائے مکالمے کی علامت تھی۔
دوسری شخصیت امام بارگاہ حسینیہ سادات کبیروالا کے متولی، شاعر، دانشور، استاد اور سماجی رہنما سید سہیل اصغر عابدی ہیں۔ انہوں نے 2013ء میں مرحوم مفتی ارشاد احمد سے ملاقات کر کے ایک ایسے سفر کا آغاز کیا جس نے باہمی احترام، مذہبی رواداری اور اتحادِ امت کی نئی بنیادیں استوار کیں۔
گزشتہ ڈیڑھ دو دہائیوں کے دوران سید سہیل اصغر عابدی نے مسلسل مختلف مکاتبِ فکر کے علماء، مشائخ، سیاسی و سماجی شخصیات اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ رابطے استوار کیے۔ انہوں نے اختلافات کو تصادم کے بجائے مکالمے کے ذریعے حل کرنے، ایک دوسرے کے مذہبی مقدسات کے احترام، سماجی تقریبات میں شرکت اور باہمی اعتماد کو فروغ دینے کے لیے قابلِ قدر کردار ادا کیا۔
سید سہیل اصغر عابدی ڈویژنل امن کمیٹی کے رکن بھی رہ چکے ہیں۔ ان کی علمی، ادبی اور سماجی خدمات کا اعتراف مختلف سیاسی و مذہبی حلقوں میں کیا جاتا ہے۔ سید فخر امام سے لے کر بیرسٹر سید عابد امام شاہ تک متعدد شخصیات ان کی خدمات کی معترف ہیں۔ انہوں نے کئی حساس معاملات کو اپنی فہم و فراست اور تدبر سے خوش اسلوبی کے ساتھ حل کرایا۔
امام بارگاہ حسینیہ سادات کے منبر سے وہ ہمیشہ محبت، برداشت، اتحاد اور احترامِ انسانیت کا پیغام دیتے رہے ہیں۔ انہی کی کاوشوں سے مختلف مکاتبِ فکر کے جید علماء کے درمیان ایک متفقہ ضابطۂ اخلاق مرتب ہوا جس پر تمام مکاتبِ فکر کے علماء کے دستخط موجود ہیں اور ہر سال محرم الحرام کے آغاز پر اس پر عملدرآمد کی تجدید کی جاتی ہے۔
رواں سال بھی محرم الحرام کا چاند نظر آتے ہی ڈاکٹر کیپٹن محمد ظفر خان سیال کی رہائش گاہ پر اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایف آئی اے انجینئر مجتبیٰ ظفر سیال کی میزبانی میں “اتحادِ بین المسالک، اتحادِ امت” کے عنوان سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں دیوبندی، بریلوی، شیعہ اور اہلِ حدیث مکاتبِ فکر کے ممتاز علماء، سماجی رہنماؤں اور معزز شہریوں نے شرکت کی۔
اجلاس کی صدارت حضرت مولانا مفتی حامد حسن نے کی۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ موجودہ حالات امتِ مسلمہ سے تقاضا کرتے ہیں کہ اختلافات سے بالاتر ہو کر اتحاد و اتفاق کا عملی مظاہرہ کیا جائے۔ دیگر علماء نے بھی اس عزم کا اظہار کیا کہ امت کے دشمنوں کے عزائم کو ناکام بنانے کے لیے برداشت، مکالمے اور باہمی احترام کو مزید فروغ دیا جائے گا۔
اجلاس میں اس متفقہ ضابطۂ اخلاق پر مکمل عملدرآمد کے عزم کا اعادہ کیا گیا جس کے نتیجے میں عشرۂ محرم الحرام نہایت پرامن انداز میں اختتام پذیر ہوا۔ الحمدللہ، شہر میں کسی قسم کا ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا، جو اس اجتماعی کوشش کی کامیابی کا واضح ثبوت ہے۔
اس موقع پر سید سہیل اصغر عابدی نے سرکاری و غیر سرکاری اداروں، ضلعی انتظامیہ، پولیس، امن کمیٹیوں، تمام مکاتبِ فکر کے علماء کرام، سماجی شخصیات اور ہر اس فرد کا شکریہ ادا کیا جس نے محرم الحرام کے دوران امن و امان کے قیام کے لیے اپنا
کردار ادا کیا۔
اس اجلاس میں
حضرت مولانا مفتی حامد حسن دامت برکاتہم العالیہ
حضرت مولانا مفتی عبد اللطیف صاحب جامعہ غوثیہ جھنگ روڈ کبیروالا
حضرت مولانا عبدالرزاق امام خطیب جامع مسجد اہلحدیث کبیروالا
مفتی عمر فاروق اصغر مہتمم سراج العلوم عید گاہ مولانا سید مرید کاظم کاظمی پرنسپل جامع امام علی کبیروالا
مولانا علی نقی بلوچ پرنسپل جامع مصدر العلوم کبیروالا
مفتی انوار حسن دارالعلوم عیدگاہ کبیروالا اور تمام مکاتب فکر کے
اکابرین جن میں میں ڈاکٹر کپٹن محمد ظفر خان سیال۔ ڈاکٹر کپٹن شرافت حسین بھٹہ ۔ سید جاوید اختر ترمذی ۔ سید منتظر مہدی ترمذی ۔ رانا محمد شکیل ۔ مہر عبد الخالق مرالی ۔ جناب غلام قاسم خان ایری ۔ اور
عبد الغفار الکرم نے شرکت کی ۔
کبیروالا کی یہ داستان صرف ایک شہر کی کہانی نہیں بلکہ اس حقیقت کا زندہ ثبوت ہے کہ جب اخلاص، حکمت، برداشت اور مکالمہ ایک ساتھ چلیں تو نفرتوں کی دیواریں بھی گر جاتی ہیں۔ آج اگر کبیروالا میں محبت کے گیت گونج رہے ہیں تو یہ انہی مخلص لوگوں کی برسوں پر محیط محنت کا ثمر ہے جنہوں نے اختلاف کو دشمنی نہیں بلکہ مکالمے کا راستہ بنایا۔
یہی وہ سرمایہ ہے جسے آنے والی نسلوں تک منتقل کرنا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے، تاکہ امن، محبت اور بھائی چارے کا یہ چراغ ہمیشہ روشن رہے۔













