وزارتِ اعلیٰ ، وژن نہیں ، خاندانی تسلسل!
تحریر : سلمان احمد قریشی
پاکستان کی سیاست میں وزارتِ اعلیٰ محض ایک انتظامی منصب نہیں بلکہ صوبائی سیاست کی سمت، سیاسی جماعتوں کی ترجیحات اور قیادت کے مزاج کا آئینہ بھی ہوتی ہے۔ وزیراعلیٰ کے انتخاب سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کوئی جماعت اپنے سیاسی کارکنوں ، تجربہ کار رہنماؤں اور نئی قیادت پر کتنا اعتماد کرتی ہے۔ ہماری سیاست کا ایک دلچسپ تضاد یہ ہے کہ بعض جماعتیں اقتدار میں آنے کے بعد نظریے ، وژن اور میرٹ کی بات تو بہت کرتی ہیں ، لیکن وزارتِ اعلیٰ کے لیے انتخاب کرتے وقت اعتمادکو سب سے بڑا معیار قرار دیتی ہیں ۔ اور جب اعتماد کا مطلب پارٹی سے وفاداری کے بجائے خاندان سے وفاداری بن جائے تو جمہوریت کا منظرنامہ خاصا دلچسپ ہو جاتا ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو تصویر قدرے مختلف دکھائی دیتی ہے۔ خیبر پختونخوا ، جسے ماضی میں صوبہ سرحد کہا جاتا تھامیں آفتاب احمد خان شیرپاؤ پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم سے وزیراعلیٰ بنے۔ بعد ازاں سیاسی اختلافات کے نتیجے میں وہ پیپلز پارٹی سے الگ ہوئے ، پہلے پیپلز پارٹی (شیرپاؤ) قائم کی اور پھر یہی سیاسی سفر قومی وطن پارٹی تک پہنچا۔یہ واقعہ سیاسی جماعتوں کے لیے ایک سبق تھا کہ اقتدار کے منصب پر بٹھایا جانے والا ہر شخص لازماً سیاسی وفاداری کی آخری حد تک ساتھ نہیں چلتا۔بلوچستان میں پیپلز پارٹی نے نواب محمد اسلم رئیسانی کو 2008ء میں وزیراعلیٰ بنایا۔ وہ پیپلز پارٹی کے امیدوار کے طور پر بلا مقابلہ منتخب ہوئے اور 2013ء تک اس منصب پر رہے۔ بعد کے سیاسی سفر میں وہ پیپلز پارٹی سے الگ ہو گئے اور ان کی سیاسی وابستگی تبدیل ہوئی۔لیکن سندھ میں پیپلز پارٹی کا تجربہ اس اعتبار سے مختلف رہا۔ 1988ء کے بعد سندھ میں قائم علی شاہ، آفتاب شعبان میرانی، عبداللہ شاہ، قائم علی شاہ اور بعد ازاں مراد علی شاہ جیسے رہنما پیپلز پارٹی کے ساتھ وابستہ رہے۔ قائم علی شاہ نے مختلف ادوار میں طویل عرصہ وزارتِ اعلیٰ سنبھالی جبکہ مراد علی شاہ بھی 2016ء سے پارٹی قیادت کے اعتماد کے ساتھ اس منصب پر موجود رہے ۔درمیان میں 2023ء سے 2024ء تک نگران دور آیا۔یہاں ایک دلچسپ سوال پیدا ہوتا ہے اگر سندھ میں پیپلز پارٹی نے طویل عرصے تک غیرخاندانی سیاسی کارکنوں اور تجربہ کار رہنماؤں پر اعتماد کیا اور پارٹی نے اس کے باوجود اپنی صوبائی حکومت برقرار رکھی تو پھر دوسری جماعتوں کے لیے خاندان سے باہر قابلِ اعتماد قیادت تلاش کرنا اتنا مشکل کیوں ہے ؟اس کے برعکس پاکستان تحریک انصاف کا تجربہ بھی سیاسی جماعتوں کے لیے ایک الگ سبق رکھتا ہے۔پنجاب میں عثمان بزدار کا انتخاب کیا گیا۔ خیبر پختونخوا میں پرویز خٹک کے بعد محمود خان اور پھر علی امین گنڈاپور وزیراعلیٰ بنے۔ وقت کے ساتھ ان میں سے بعض کے ساتھ پارٹی کے تعلقات ختم ہوئے ، بعض کی سیاسی سمت بدلی اور بعض کے کردار پر پارٹی کے اندر ہی سوالات اٹھتے رہے۔علی امین گنڈاپور کا سیاسی انداز بھی کئی مواقع پر ایسا دکھائی دیا کہ ناقدین نے انہیں وکٹ کے دونوں طرف کھیلنے سے تعبیر کیا۔ اب خیبر پختونخوا میں سہیل آفریدی کے انتخاب کے بعد بھی بنیادی سوال یہی ہے کہ کیا نئی قیادت پارٹی کے ساتھ طویل سیاسی سفر میں اسی طرح کھڑی رہے گی یا وقت ایک بار پھر اپنا فیصلہ سنائے گا؟
یہیں سے مسلم لیگ (ن) کی سیاست کا ایک مختلف باب شروع ہوتا ہے۔شاید شریف خاندان نے اپنے سیاسی تجربات سے یہ نتیجہ اخذ کر لیا ہے کہ وزارتِ اعلیٰ ایک ایسا منصب ہے جہاں سب سے پہلے اعتماد چاہیے۔ اور اگر اعتماد کا پیمانہ سیاسی وفاداری ہے تو خاندان سے بڑھ کر محفوظ انتخاب بھلا کون ہو سکتا ہے ؟پنجاب میں شریف خاندان کی وزارتِ اعلیٰ کی تاریخ دیکھی جائے تو محمد نواز شریف، شہباز شریف، حمزہ شہباز اور اب مریم نواز تک قیادت کا مرکز ایک ہی خاندان کے گرد گھومتا نظر آتا ہے۔ پنجاب حکومت کے سرکاری ریکارڈ کے مطابق نواز شریف متعدد ادوار میں وزیراعلیٰ پنجاب رہے ، شہباز شریف بھی متعدد ادوار میں اس منصب پر فائز رہے ، حمزہ شہباز نے مختصر مدت کے لیے وزارتِ اعلیٰ سنبھالی اور فروری 2024ء سے مریم نواز وزیراعلیٰ پنجاب ہیں ۔البتہ شریف خاندان نے ایک موقع پر خاندان سے باہر بھی تجربہ کیا۔ 2008ء میں سردار دوست محمد خان کھوسہ کو پنجاب کا وزیراعلیٰ بنایا گیا۔ ان کا دورانیہ صرف چند ہفتوں کا تھا وہ 12 اپریل 2008ء سے 6 جون 2008ء تک وزیراعلیٰ رہے جس کے بعد شہباز شریف نے وزارتِ اعلیٰ سنبھالی۔یہ فیصلہ بھی کسی طویل المدتی سیاسی تجربے کا نتیجہ نہیں تھا۔ 2008ء کے انتخابات کے بعد مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان مرکز اور پنجاب میں سیاسی بندوبست کے باوجود پنجاب میں حکومت سازی کا مرحلہ پیچیدہ تھا۔ شہباز شریف اس وقت پنجاب اسمبلی کے رکن نہیں تھے۔ چنانچہ آئینی اور سیاسی تقاضوں کے تحت دوست محمد کھوسہ کو عبوری طور پر وزیراعلیٰ بنایا گیاتاکہ شہباز شریف اسمبلی کی رکنیت حاصل کرنے کے بعد قائدِ ایوان منتخب ہو سکیں ۔ جون 2008ء میں یہی ہوا اور دوست محمد کھوسہ نے استعفیٰ دے دیا۔لیکن تاریخ کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ یہ خاندان سے باہر تجربہ بھی زیادہ دیر نہ چل سکا۔دوست محمد کھوسہ بعد میں مسلم لیگ (ن) سے الگ ہو گئے۔ 2012ء میں انہوں نے پارٹی کی بنیادی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا۔ ان کے والد سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ بھی پارٹی قیادت سے اختلافات کے باعث الگ ہو گئے تھے۔تو پھر سوال یہ نہیں کہ مسلم لیگ (ن) خاندان سے باہر کسی کو وزارتِ اعلیٰ دے سکتی ہے یا نہیں ۔ سوال یہ ہے کہ کیا وہ اب کسی غیرخاندانی شخصیت پر طویل المدتی سیاسی اعتماد کرنے کے لیے تیار ہے ؟اگر جواب نہیں ہے تو اس کی وجوہات بھی سمجھ میں آتی ہیں ۔
سیاسی جماعتیں صرف نظریے سے نہیں چلتیں ، اقتدار میں اتحاد، وفاداری، رابطہ کاری اور قیادت کے ساتھ اعتماد بھی اہم ہوتا ہے۔ وزیراعلیٰ اگر اپنی سیاسی قوت کا مرکز خود بن جائے تو وہ مستقبل میں پارٹی قیادت کے لیے چیلنج بھی بن سکتا ہے۔ پاکستان کی سیاست میں ایسے کئی واقعات موجود ہیں جہاں ایک طاقتور وزیراعلیٰ وقت کے ساتھ اپنی الگ سیاسی شناخت بنانے میں کامیاب ہوا۔شاید اسی خدشے نے بڑی جماعتوں کو سکھایا ہے کہ وزارتِ اعلیٰ کے لیے ایسا شخص بہتر ہے جو پارٹی قیادت کے قریب ہو، اس کی سیاسی حکمتِ عملی پر عمل کرے اور اقتدار کے بعد اپنی الگ ”بادشاہت“ قائم کرنے کی کوشش نہ کرے۔لیکن یہاں ایک بنیادی سوال جمہوریت کے سامنے کھڑا ہوتا ہے۔اگر سیاسی جماعتیں اپنے کارکنوں ، منتخب نمائندوں اور تجربہ کار رہنماؤں میں سے کسی کو صرف اس خوف سے وزیراعلیٰ نہیں بناتیں کہ وہ مستقبل میں پارٹی سے اختلاف کر سکتا ہے تو پھر سیاسی جماعت اور خاندانی ادارے میں فرق کیا رہ جاتا ہے ؟
مسلم لیگ (ن) کے پاس پنجاب میں کئی تجربہ کار سیاسی رہنما موجود ہیں ۔ ان میں سے کسی کو وزیراعلیٰ بنا کر یہ ثابت کیا جا سکتا ہے کہ پارٹی کی طاقت صرف شریف خاندان نہیں بلکہ اس کا تنظیمی ڈھانچہ، کارکن اور سیاسی نظریہ بھی ہے۔ورنہ صورت حال کچھ یوں بنتی دکھائی دیتی ہے نواز شریف سے شہباز شریف، شہباز شریف سے حمزہ شہباز، حمزہ شہباز کے بعد مریم نواز اور اگر یہی سلسلہ اسی تسلسل کے ساتھ آگے بڑھا تو اگلی قطار میں جنید صفدر کا نام کیوں نہیں ؟
یہ سوال طنزیہ ضرور ہے مگر بے معنی نہیں کیونکہ جمہوریت میں اقتدار وراثت نہیں ، عوامی مینڈیٹ سے منتقل ہوتا ہے۔ خاندان سیاست میں ہو سکتا ہے ، سیاست خاندان کی میراث نہیں ہو سکتی۔پیپلز پارٹی نے سندھ میں طویل عرصے تک غیرخاندانی وزرائے اعلیٰ کے ذریعے اپنی حکومت چلائی۔ مسلم لیگ (ن) اگر پنجاب میں خاندان سے باہر کسی قابل، باصلاحیت اور وفادار سیاسی کارکن کو وزیراعلیٰ بنا دے تو اس سے شریف خاندان کی طاقت کم نہیں ہوگی بلکہ شاید پارٹی کی طاقت بڑھے گی۔اسی طرح تحریک انصاف کے تجربے سے بھی یہ سبق لیا جا سکتا ہے کہ صرف غیرخاندانی شخص کا انتخاب خود بخود اچھی حکمرانی یا سیاسی وفاداری کی ضمانت نہیں بنتا۔ اصل ضرورت ایک مضبوط سیاسی جماعت، واضح نظریے ، ادارہ جاتی فیصلوں اور اندرونی جمہوریت کی ہے۔وزیراعلیٰ کا انتخاب دراصل کسی ایک شخص کا انتخاب نہیں ہوتا یہ اس بات کا اعلان ہوتا ہے کہ پارٹی اپنے مستقبل کو کس سمت لے جانا چاہتی ہے۔اگر معیار وژن، صلاحیت، انتظامی تجربہ، عوامی مقبولیت اور سیاسی کارکردگی ہو تو میدان بہت وسیع ہے۔اگر معیار صرف وفاداری ہو تو دائرہ محدود ہو جاتا ہے۔اگر وفاداری کا مطلب صرف خاندانی قربت رہ جائے تو پھر سیاست میں انتخابات تو ہوتے رہیں گے مگر قیادت کا انتخاب شاید پہلے ہی ہو چکا ہوگا۔پنجاب میں وزارتِ اعلیٰ کو اگر واقعی ایک سیاسی منصب سمجھا جاتا ہے تو اسے خاندانی ریلے ریس نہیں بننا چاہیے ، جہاں بیٹن ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں منتقل ہوتا رہے ، چہرے بدلتے رہیں اور کہانی وہی رہے۔جمہوریت کو صرف ووٹ کی ضرورت نہیں اسے اختیار کی گردش بھی چاہیے۔عوام ووٹ دیتے ہیں ، اسمبلی وزیراعلیٰ منتخب کرتی ہے مگر سوال یہ ہے کہ امیدوار کہاں سے آتا ہے ؟اگر جواب یہ ہو کہ پہلے شجرۂ نسب دیکھا جائے گا، پھر سیاسی قابلیت تو پھر جمہوریت کے پاس اعتراض کرنے کے سوا بچتا ہی کیا ہے ؟سوال کسی ایک خاندان کا نہیں ، پاکستانی سیاست کے مزاج کا ہے۔وزارتِ اعلیٰ وژن سے ملے گی یا خاندانی تسلسل سے ؟فیصلہ تاریخ کرے گی اور شاید عوام بھی ،قصہ تمام!












