سابق اسسٹنٹ کمشنر عمران جعفر وربھو قتل کیس میں ملزمان کی بریت، کئی سوالات اٹھ گئے
تحریر رائے منظور احمد عابد جھنگ
’’میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں؟‘‘
جھنگ (رائے منظور عابد سے) سابق اسسٹنٹ کمشنر جھنگ عمران جعفر وربھو کے قتل کیس میں ملزمان کی عدالت سے بریت کی خبر نے مقتول کے اہل خانہ سمیت شہری حلقوں میں انصاف، تفتیش اور استغاثہ کے معیار سے متعلق کئی سوالات کو جنم دے دیا۔عمران جعفر وربھو 5 دسمبر 2021 کو چنیوٹ کے علاقے چک نمبر 237 میں فائرنگ کے ایک واقعہ میں جاں بحق ہوئے تھے۔ اس وقت پولیس اور سرکاری ذرائع کے مطابق واقعہ مبینہ طور پر رشتہ داروں کے مابین تنازع کے دوران پیش آیا تھا۔عدالتی کارروائی میں اگر استغاثہ مطلوبہ قانونی معیار کے مطابق شواہد پیش نہ کر سکے اور ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا جائے تو قانونی ماہرین کے مطابق اس صورتِ حال میں تفتیش، شواہد اکٹھے کرنے اور مقدمے کی پیروی کے طریقۂ کار کا جائزہ اہم ہو جاتا ہے۔ تاہم عدالت کی جانب سے دیے گئے فیصلے کی قانونی وجوہات کو سامنے رکھے بغیر کسی فریق کو موردِ الزام ٹھہرانا مناسب نہیں۔عمران جعفر وربھو ایک عام گھرانے سے تعلق رکھنے والے باصلاحیت نوجوان تھے جنہوں نے اپنی محنت اور قابلیت کے ذریعے مقابلے کا امتحان پاس کیا اور سرکاری سروس میں اہم ذمہ داریوں تک پہنچے۔ ان کا قتل نہ صرف ان کے خاندان بلکہ ان تمام لوگوں کے لیے ایک المناک واقعہ تھا جو انہیں ایک باصلاحیت سرکاری افسر کے طور پر جانتے تھے۔
ملزمان کی بریت کے بعد بنیادی سوال یہ سامنے آتا ہے کہ مقدمے میں پیش کیے گئے شواہد اور تفتیشی عمل عدالت کے مطلوبہ معیار پر کیوں پورا نہ اتر سکے۔ مقتول خاندان کے لیے یہ سوال آج بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ عمران جعفر کے قتل کے اصل محرکات اور ذمہ دار عناصر کے تعین کے لیے قانونی طور پر مزید کیا راستہ باقی ہے۔
یہ معاملہ محض ایک خاندان کے دکھ اور انتظار کی داستان نہیں بلکہ فوجداری مقدمات میں شفاف تفتیش، مضبوط شواہد اور مؤثر استغاثہ کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتا ہے۔













