پی آر او واسا چوہدری عثمان سندھو: عوامی رابطے اور مثبت تشخص کے فروغ میں اہم کردار
تحریر و تجزیہ: محمد زاہد مجید انور
*کسی بھی سرکاری ادارے کی کارکردگی صرف عملی اقدامات تک محدود نہیں ہوتی بلکہ عوام تک بروقت اور درست معلومات کی فراہمی بھی اس کی کامیابی کا اہم حصہ ہے۔ خصوصاً واسا جیسے عوامی خدمت کے ادارے میں شہریوں کو نکاسیٔ آب، سیوریج، صاف پانی، بارش کے پانی کی نکاسی اور شکایات کے ازالے سے متعلق معلومات کی فراہمی انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔ اس حوالے سے محکمہ واسا کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کا کردار خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ٹوبہ ٹیک سنگھ میں واسا کے عوامی رابطہ اور تشہیری امور کے حوالے سے پی آر او منیجنگ ڈائریکٹر واسا چوہدری عثمان سندھو بھی اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔ پی آر او کا منصب محض پریس ریلیز جاری کرنے یا خبروں کی ترسیل تک محدود نہیں بلکہ ادارے اور میڈیا کے درمیان ایک مؤثر رابطے کا کردار ادا کرتا ہے۔ عوامی مسائل، ادارہ جاتی اقدامات اور انتظامی سرگرمیوں کو ذمہ دارانہ انداز میں عوام تک پہنچانا اس شعبے کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔واسا سے متعلق شہریوں کے مسائل براہِ راست ان کی روزمرہ زندگی پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ گلی محلوں میں سیوریج کے مسائل، بارش کے دوران پانی کی نکاسی، صاف پانی کی فراہمی، شکایات کا ازالہ اور مختلف ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت ایسے معاملات ہیں جن کے بارے میں شہری بروقت معلومات چاہتے ہیں۔ ایسے ماحول میں پی آر او کا فعال کردار ادارے اور شہریوں کے درمیان اعتماد پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے چوہدری عثمان سندھو کی ذمہ داریوں کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ واسا کی سرگرمیوں اور اقدامات کو میڈیا کے ذریعے اجاگر کیا جائے تاکہ شہریوں کو معلوم ہو سکے کہ ادارہ کن شعبوں میں کام کر رہا ہے اور عوامی شکایات کے حل کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ تاہم اس عمل میں شفافیت، درست معلومات اور عوامی مسائل کی حقیقی تصویر پیش کرنا بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔میڈیا اور سرکاری اداروں کے درمیان مضبوط رابطہ دراصل عوامی خدمت کے عمل کو مزید مؤثر بناتا ہے۔ صحافی جب کسی شہری مسئلے کی نشاندہی کرتے ہیں تو متعلقہ ادارے تک اس کی بروقت رسائی اور ادارے کی جانب سے مؤقف کی فراہمی ضروری ہوتی ہے۔ اسی طرح سرکاری ادارے کے جاری منصوبوں، اقدامات اور کامیابیوں سے متعلق مستند معلومات بھی میڈیا کے ذریعے عوام تک پہنچتی ہیں۔ یوں ایک ذمہ دار پی آر او دونوں فریقوں کے درمیان رابطے کا پل بن سکتا ہےواسا جیسے ادارے کے لیے یہ امر بھی ضروری ہے کہ عوامی شکایات اور میڈیا رپورٹس کو محض تنقید نہ سمجھا جائے بلکہ انہیں اصلاح اور بہتری کا ذریعہ بنایا جائے۔ اگر کسی علاقے میں سیوریج بند ہے، کہیں بارش کا پانی جمع ہے یا شہری صاف پانی کے مسئلے کا سامنا کر رہے ہیں تو ان مسائل کی نشاندہی دراصل ادارے کے لیے اپنی کارکردگی بہتر بنانے کا موقع ہوتی ہے۔اسی طرح میڈیا کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ عوامی مسائل کو ذمہ داری، تحقیق اور حقائق کی بنیاد پر اجاگر کرے۔ صحافت اور سرکاری اداروں کے درمیان تعلق کسی ذاتی مفاد یا رسمی رابطے کے بجائے عوامی مفاد کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ اس حوالے سے پی آر او کا کردار مزید اہم ہو جاتا ہے کیونکہ وہ ادارے کا مؤقف میڈیا تک پہنچانے کے ساتھ ساتھ میڈیا کی نشاندہی کردہ عوامی شکایات متعلقہ افسران تک پہنچانے میں بھی معاون ثابت ہو سکتا ہے۔آج کے ڈیجیٹل دور میں عوام روایتی ذرائع کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا اور دیگر آن لائن پلیٹ فارمز سے بھی معلومات حاصل کرتے ہیں۔ اس لیے سرکاری اداروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ درست، بروقت اور قابلِ اعتماد معلومات عوام تک پہنچانے کے لیے جدید ذرائع ابلاغ سے بھی مؤثر انداز میں استفادہ کریں۔چوہدری عثمان سندھو کے لیے بھی یہ ایک اہم ذمہ داری ہے کہ وہ واسا اور میڈیا کے درمیان رابطے کو مزید مضبوط بنانے، عوامی مسائل کی بروقت نشاندہی اور ادارے کے اقدامات کی شفاف انداز میں تشہیر کے لیے اپنا کردار مزید مؤثر بنائیں۔ ایک مضبوط اور فعال تعلقاتِ عامہ کا نظام نہ صرف ادارے کے مثبت اقدامات کو عوام تک پہنچاتا ہے بلکہ عوامی شکایات کے ازالے کے عمل کو بھی تیز کرنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ واسا میں عوامی رابطہ، شکایات کے ازالے اور میڈیا کو بروقت معلومات کی فراہمی کو ایک مربوط نظام کے طور پر آگے بڑھایا جائے۔ شہریوں کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ ان کی آواز متعلقہ ادارے تک پہنچ رہی ہے اور ان کے مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔بلاشبہ عوامی خدمت کا اصل معیار صرف اعلانات نہیں بلکہ عملی نتائج ہیں۔ واسا کی کارکردگی کا حقیقی اعتراف اسی وقت ممکن ہے جب شہریوں کو صاف پانی، بہتر سیوریج، مؤثر نکاسیٔ آب اور بارش کے دوران بروقت ریلیف کی سہولت میسر آئے۔ اس مقصد کے لیے انتظامی افسران، فیلڈ اسٹاف، میڈیا اور عوام سب کو اپنے اپنے دائرہ کار میں ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا ہوگا۔چوہدری عثمان سندھو بحیثیت پی آر او منیجنگ ڈائریکٹر واسا ادارے اور میڈیا کے درمیان رابطے کو مؤثر بنانے میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں، تاہم اس رابطے کی اصل کامیابی اسی وقت ہوگی جب عوامی مسائل کی نشاندہی، ادارے کے مؤقف اور عملی کارروائی کے درمیان ایک مضبوط اور شفاف ربط قائم ہو۔عوامی خدمت کا سفر اعتماد سے شروع ہوتا ہے، اعتماد بروقت معلومات سے مضبوط ہوتا ہے اور بروقت معلومات اسی وقت مؤثر بنتی ہیں جب ان کے پیچھے عملی اقدامات موجود ہوں۔ یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر واسا عوامی توقعات پر پورا اترنے اور شہریوں کا اعتماد مزید مضبوط کرنے کی جانب پیش رفت کر سکتا ہے۔*













