یونیورسٹی آف کمالیہ اور ملائیشین جامعات کے درمیان علمی شراکت داری،عالمی علمی روابط، تحقیق، جدت اور نوجوانوں کے روشن مستقبل کی جانب اہم پیش رفت
تحریر و تجزیہ: محمد زاہد مجید انور
ٹوبہ ٹیک سنگھ کے تحصیل ہیڈکوارٹر کمالیہ میں قائم یونیورسٹی آف کمالیہ اور ملائیشیا کی ممتاز جامعات کے درمیان علمی و تحقیقی شراکت داری کا اہم معاہدہ طے پانا بلاشبہ خطے کے تعلیمی منظرنامے میں ایک مثبت اور قابلِ ذکر پیش رفت ہے۔ اس معاہدے کے ذریعے طلبہ و اساتذہ کے تبادلے، مشترکہ تحقیق، جدت، انٹرپرینیورشپ، ورکشاپس، تربیتی پروگرامز اور پیشہ ورانہ استعداد میں اضافے کے لیے تعاون کی راہ ہموار ہوئی ہے، جو مستقبل میں یونیورسٹی آف کمالیہ کو عالمی علمی برادری کے ساتھ مزید مضبوط انداز میں جوڑنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ملائیشین جامعات کے ماہرینِ تعلیم پر مشتمل ایک وفد نے یونیورسٹی آف کمالیہ کا دورہ کیا۔ وفد میں انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی ملائیشیا کے ڈاکٹر محمد شفیق بن محمد ابراہیم اور یونیورسٹی ٹیکنالوجی ملائیشیا کے ڈاکٹر احمد الیاس بن رشدان شامل تھے۔ دورے کے موقع پر یونیورسٹی آف کمالیہ اور ملائیشین جامعات کے درمیان علمی شراکت داری کے معاہدے پر دستخط کیے گئے، جس کے تحت مختلف شعبہ ہائے تعلیم و تحقیق میں باہمی تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا۔موجودہ دور علم، تحقیق، ٹیکنالوجی اور جدت کا دور ہے۔ دنیا بھر کی جامعات اب محض ڈگریاں فراہم کرنے تک محدود نہیں رہیں بلکہ عالمی سطح پر تحقیق، اختراع، کاروباری صلاحیتوں اور عملی مہارتوں کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔ ایسے میں کسی پاکستانی یونیورسٹی کا بین الاقوامی جامعات کے ساتھ باقاعدہ علمی روابط قائم کرنا اس امر کی علامت ہے کہ اعلیٰ تعلیم کے ادارے عالمی تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کی سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔اس معاہدے کی ایک اہم خصوصیت طلبہ و اساتذہ کے تبادلے کا پروگرام ہے۔ اس طرح کے تبادلے طلبہ کو مختلف تعلیمی ماحول، تدریسی طریقۂ کار، تحقیقی سہولیات اور بین الاقوامی تجربات سے روشناس ہونے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ اسی طرح اساتذہ کے لیے بھی بین الاقوامی ماہرین کے ساتھ علمی رابطے، مشترکہ تحقیق اور تدریسی تجربات کے تبادلے کے نئے امکانات پیدا ہوتے ہیں۔مشترکہ تحقیقی منصوبوں کا آغاز بھی اس شراکت داری کا اہم پہلو ہے۔ اگر مختلف جامعات کے محققین مشترکہ طور پر مقامی اور عالمی مسائل پر تحقیق کریں تو نہ صرف علمی ذخیرے میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ ایسے تحقیقی نتائج بھی سامنے آ سکتے ہیں جو معاشرے اور معیشت کے لیے عملی طور پر مفید ہوں۔ پاکستان کے نوجوان محققین کے لیے بین الاقوامی تحقیقی نیٹ ورک کا حصہ بننا ان کے علمی سفر کو نئی سمت دے سکتا ہے۔اسی طرح انٹرپرینیورشپ اور جدت پر توجہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ آج کی معیشت میں صرف ملازمت حاصل کرنا ہی کامیابی کا واحد معیار نہیں، بلکہ نوجوانوں میں نئے کاروباری آئیڈیاز پیدا کرنے، اسٹارٹ اپس تشکیل دینے، مسائل کے جدید حل تلاش کرنے اور ٹیکنالوجی کو معاشی سرگرمیوں سے جوڑنے کی صلاحیت پیدا کرنا بھی ضروری ہے۔ ملائیشین جامعات کے ساتھ تعاون کے نتیجے میں یونیورسٹی آف کمالیہ کے طلبہ کو انٹرپرینیورشپ کے جدید تصورات اور عملی تجربات سے فائدہ اٹھانے کے مواقع میسر آ سکتے ہیں۔وائس چانسلر یونیورسٹی آف کمالیہ پروفیسر ڈاکٹر یاسر نواب نے اس موقع پر کہا کہ بین الاقوامی جامعات کے ساتھ روابط یونیورسٹی کے عالمی وژن کا اہم حصہ ہیں۔ ان کے مطابق مقصد طلبہ اور اساتذہ کو عالمی علمی برادری سے جوڑ کر تحقیق، جدت اور تخلیقی سوچ کے عملی مواقع فراہم کرنا ہے۔ یہ مؤقف اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ جدید یونیورسٹی کا کردار کلاس روم کی چار دیواری سے کہیں آگے بڑھ چکا ہے اور اسے عالمی علمی و تحقیقی نظام کا فعال حصہ بننا ہوتا ہے۔ملائیشین ماہرینِ تعلیم نے دورے کے دوران یونیورسٹی کے طلبہ و اساتذہ کے ساتھ خصوصی نشست بھی کی، جس میں علمی و تحقیقی امور، جدید تعلیمی رجحانات اور باہمی تعاون کے امکانات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ ایسی نشستیں طلبہ کو بین الاقوامی ماہرین سے براہِ راست سوالات کرنے، اپنے خیالات پیش کرنے اور عالمی سطح پر موجود تعلیمی مواقع کو سمجھنے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔دورے کے دوران ملائیشین ماہرین کی جانب سے یونیورسٹی آف کمالیہ کے کیمپس میں شجرکاری مہم میں شرکت بھی ایک خوبصورت اور بامقصد سرگرمی تھی۔ تعلیم اور ماحول کا باہمی تعلق آج پوری دنیا میں اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ جامعات اگر طلبہ میں علمی شعور کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی ذمہ داری کا احساس بھی اجاگر کریں تو اس کے اثرات پورے معاشرے تک پہنچ سکتے ہیں۔یونیورسٹی آف کمالیہ اور ملائیشین جامعات کے درمیان ہونے والا یہ معاہدہ صرف دستخطوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اسے عملی منصوبوں، مشترکہ تحقیقی پروگراموں، طلبہ و اساتذہ کے حقیقی تبادلوں، تربیتی سرگرمیوں اور قابلِ عمل انٹرپرینیورشپ منصوبوں میں تبدیل کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ ایسے اقدامات ہی کسی بین الاقوامی معاہدے کو دیرپا اور نتیجہ خیز بناتے ہیں۔کمالیہ جیسے شہر میں ایک یونیورسٹی کا عالمی جامعات کے ساتھ علمی روابط قائم کرنا پورے خطے کے نوجوانوں کے لیے امید کی ایک نئی کرن ہے۔ اگر ان روابط کو مستقل بنیادوں پر آگے بڑھایا جائے تو نہ صرف یونیورسٹی آف کمالیہ کے طلبہ و اساتذہ کو عالمی معیار کے علمی مواقع میسر آ سکتے ہیں بلکہ ٹوبہ ٹیک سنگھ اور اس کے گردونواح میں اعلیٰ تعلیم، تحقیق، جدت اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے بھی ایک مضبوط بنیاد قائم ہو سکتی ہے۔آج کے نوجوان پاکستان کا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں۔ انہیں اگر معیاری تعلیم، جدید تحقیق، بین الاقوامی تجربات اور عملی تربیت کے مواقع فراہم کیے جائیں تو یہی نوجوان مستقبل میں ملک کی علمی، معاشی اور صنعتی ترقی میں بنیادی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ یونیورسٹی آف کمالیہ اور ملائیشین جامعات کے درمیان علمی شراکت داری اسی سمت میں ایک اہم قدم ہے، جسے مسلسل تعاون، مؤثر منصوبہ بندی اور عملی نتائج کے ذریعے مزید مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔













