صحافت کا زوال یا صحافتی اقدار کا بحران؟

تحریر محمد زاہد مجید انور

*صحافت کسی بھی معاشرے کا آئینہ ہوتی ہے۔ یہ وہ شعبہ ہے جسے ریاست کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے، کیونکہ ایک ذمہ دار صحافت نہ صرف عوام کی آواز حکمرانوں اور اداروں تک پہنچاتی ہے بلکہ معاشرے میں ہونے والی ناانصافی، بدعنوانی، زیادتی اور بے ضابطگیوں کو بھی بے نقاب کرنے کا فریضہ انجام دیتی ہے۔ صحافی کا قلم دراصل عوام کی امانت ہوتا ہے اور اس امانت میں خیانت پورے معاشرے کے اعتماد کو مجروح کرتی ہے۔آج جب ہم تقریباً چار دہائیاں پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں تو صحافت کا ایک مختلف چہرہ نظر آتا ہے۔ اس دور میں وسائل محدود تھے، اخبارات کی تعداد کم تھی، جدید ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کا تصور بھی عام نہیں تھا، مگر صحافت کے ساتھ وابستہ لوگوں کی عزت اور وقار بہت بلند تھا۔ صحافی خبر کی تصدیق کے لیے دن رات محنت کرتے، متعلقہ فریق کا مؤقف حاصل کرتے اور پھر اپنی خبر شائع کرتے تھے۔ ایک صحافی کی پہچان اس کی سچائی، دیانت، جرأت اور قلم کی طاقت سے ہوتی تھی، نہ کہ اس کے ذاتی مفادات سے۔اس وقت صحافت کو محض ذریعۂ آمدن نہیں بلکہ ایک مقدس ذمہ داری سمجھا جاتا تھا۔ صحافی کے لیے خبر اور اشتہار میں فرق واضح تھا، ذاتی تعلقات اور پیشہ ورانہ ذمہ داری الگ حیثیت رکھتے تھے اور کسی بااثر شخصیت کی ناراضی کے خوف سے سچ لکھنے سے گریز کرنا صحافتی روایت کا حصہ نہیں تھا۔بدقسمتی سے آج صحافت کے میدان میں ایک ایسا بحران ضرور پیدا ہوا ہے جس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ٹیکنالوجی نے جہاں صحافت کو انتہائی تیز رفتار بنا دیا ہے، وہیں غیر ذمہ دارانہ صحافت کے امکانات بھی بڑھ گئے ہیں۔ سوشل میڈیا، غیر مصدقہ اطلاعات، ذاتی صفحات اور فوری خبروں کے رجحان نے صحافت اور غیر ذمہ دارانہ معلومات کے درمیان فرق کو بعض اوقات دھندلا دیا ہے۔سب سے زیادہ تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ بعض افراد صحافت کے مقدس نام کو ذاتی مفادات کے حصول، کاروباری معاملات میں دباؤ ڈالنے، مخالفین کو نشانہ بنانے یا اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر کوئی شخص خبر کو سچ سامنے لانے کے بجائے کسی فرد یا ادارے پر دباؤ ڈالنے کا ذریعہ بنائے، تو یہ صحافت نہیں بلکہ صحافتی اقدار سے انحراف ہے۔صحافت کسی کاروبار کو تحفظ دینے، کسی کاروباری مفاد کو نقصان پہنچانے، کسی شخص سے ذاتی فائدہ حاصل کرنے یا مخالف کو دباؤ میں لانے کا نام نہیں۔ صحافت کا اصل مقصد عوامی مفاد ہے۔ اگر خبر میں عوامی مفاد موجود نہیں، حقائق کی تصدیق نہیں اور مقصد صرف ذاتی مفاد ہے تو اسے صحافت کا نام دینا خود صحافت کی توہین ہے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر دور میں اچھے اور برے لوگ موجود رہے ہیں۔ آج بھی ایسے بے شمار صحافی موجود ہیں جو محدود وسائل کے باوجود سچ کے لیے کھڑے ہیں، عوامی مسائل اجاگر کرتے ہیں، ظلم کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں اور اپنے قلم کو کسی ذاتی مفاد کے لیے استعمال نہیں کرتے۔ ایسے صحافی ہی دراصل صحافت کی عزت اور وقار کے محافظ ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم چند افراد کی غلط روش کو بنیاد بنا کر پوری صحافتی برادری کو بدنام نہ کریں۔ جس طرح کسی ایک ڈاکٹر کی غلطی سے پورے شعبۂ طب کو قصوروار نہیں ٹھہرایا جا سکتا، اسی طرح چند افراد کے غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل کی بنیاد پر تمام صحافیوں کو ایک ہی ترازو میں تولنا بھی درست نہیں۔البتہ صحافتی برادری کے اندر احتساب کا نظام ضرور مضبوط ہونا چاہیے۔ پریس کلبوں، صحافتی تنظیموں اور ذمہ دار میڈیا اداروں کو چاہیے کہ وہ صحافت کے نام پر غیر پیشہ ورانہ سرگرمیوں کی حوصلہ شکنی کریں۔ صحافیوں کے لیے اخلاقی ضابطۂ کار پر عمل درآمد، خبر کی تصدیق، فریقین کا مؤقف شامل کرنا، ذاتی مفادات سے اجتناب اور عوامی مفاد کو اولین ترجیح دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔آج ہمیں یہ سوال بھی خود سے کرنا ہوگا کہ ہم صحافت کو کس سمت لے جا رہے ہیں؟ کیا ہمارا قلم کسی مظلوم کی آواز بن رہا ہے یا کسی طاقتور کے مفاد کا محافظ؟ کیا ہماری خبر معاشرے میں اصلاح پیدا کر رہی ہے یا کسی کی کردار کشی کا ذریعہ بن رہی ہے؟ کیا ہم حقائق عوام تک پہنچا رہے ہیں یا سنی سنائی باتوں کو خبر بنا رہے ہیں؟صحافت کی اصل طاقت خبر کی سنسنی نہیں بلکہ سچائی اور اعتبار ہے۔ ایک جھوٹی خبر چند لمحوں میں ہزاروں لوگوں تک پہنچ سکتی ہے، مگر ایک صحافی کی برسوں میں بنائی ہوئی ساکھ ایک غلط خبر سے ختم ہو سکتی ہے۔ہمیں اپنے بزرگ صحافیوں کی ان روایات کو دوبارہ زندہ کرنا ہوگا جن میں قلم کی حرمت، خبر کی صداقت، اختلافِ رائے کا احترام اور عوامی مفاد کو بنیادی حیثیت حاصل تھی۔ صحافت کو دوبارہ عزت اسی وقت ملے گی جب صحافی اپنے قلم کو کسی شخص، جماعت، ادارے یا کاروباری مفاد کا محتاج بنانے کے بجائے اسے عوام کی امانت سمجھیں گے۔صحافت ختم نہیں ہوئی، صحافت کو دوبارہ اس کی اصل روح کی طرف واپس لانے کی ضرورت ہے۔چالیس سال پہلے صحافت کی عزت اس لیے تھی کہ صحافی کی زبان اور قلم پر عوام کو اعتماد تھا۔ آج ضرورت اس اعتماد کو دوبارہ حاصل کرنے کی ہے۔ یہ اعتماد نہ اشتہارات سے خریدا جا سکتا ہے، نہ عہدوں سے اور نہ ہی دباؤ سے۔ یہ صرف سچ، دیانت، کردار اور غیر جانب داری سے حاصل ہوتا ہے۔اگر ہم نے صحافت کو ذاتی مفادات، کاروباری دباؤ اور باہمی انتقام کا ذریعہ بنا دیا تو نقصان صرف صحافی کا نہیں ہوگا بلکہ پورے معاشرے کا ہوگا۔ لیکن اگر قلم دوبارہ مظلوم کی آواز، حقائق کا ترجمان اور عوامی مفاد کا محافظ بن گیا تو یقیناً صحافت آج بھی وہی عزت دوبارہ حاصل کر سکتی ہے جو کبھی اس کا طرۂ امتیاز ہوا کرتی تھی۔قلم کی طاقت اس کی سیاہی میں نہیں، اس سچ میں ہوتی ہے جسے لکھنے کی جرأت کی جائے۔*