14 اگست؛ پاکستان کے تصور، قومی ذمہ داری اور روشن مستقبل کا عہد

تحریر : محمد زاہد مجید انور

*پاکستان 79 برس کا ہو گیا ہے، مگر پاکستان کا تصور کسی تاریخ، پرچم یا ایک دن کی تقریبات تک محدود نہیں۔ 14 اگست ہمیں صرف یہ یاد نہیں دلاتا کہ پاکستان کب وجود میں آیا، بلکہ یہ سوال بھی ہمارے سامنے رکھتا ہے کہ آخر وہ پاکستان کیا تھا جس کے لیے لاکھوں انسانوں نے اپنے گھر، زمینیں، کاروبار، رشتے اور یادیں چھوڑ دیں۔ آزادی محض ایک سرحد کے قیام کا نام نہیں تھی بلکہ ایک ایسے مستقبل کا خواب تھی جہاں انسان عزت کے ساتھ زندگی گزار سکے، قانون سب کے لیے برابر ہو، قابلیت کو موقع ملے اور ریاست اپنے شہریوں کی محافظ بنے، ان کی زندگیوں پر بوجھ نہ بنے۔پاکستان نے ایک ایسی دنیا میں آنکھ کھولی جہاں وسائل محدود، انتظامی ڈھانچہ نامکمل اور مسائل بے شمار تھے۔ لاکھوں مہاجرین کی آبادکاری، معاشی مشکلات، انتظامی بحران، سرحدی تنازعات اور غیر یقینی علاقائی ماحول نے نومولود ریاست کے سامنے بڑے چیلنجز کھڑے کر دیے۔ لیکن پاکستانی قوم نے ان مشکلات کے سامنے ہمت نہیں ہاری۔ پاکستان قائم رہا، آگے بڑھا اور وقت کے ساتھ ایک ایٹمی طاقت، دفاعی اعتبار سے مضبوط ملک اور دنیا کے اہم ممالک میں اپنا مقام بنانے میں کامیاب ہوا،یہ کامیابیاں کسی ایک حکومت، جماعت یا ادارے کی میراث نہیں بلکہ پاکستانی عوام کی غیر معمولی استقامت، قربانی اور محنت کا نتیجہ ہیں۔ اس ملک کے کسان نے زمین کو زرخیز بنایا، مزدور نے صنعت کا پہیہ چلایا، استاد نے نسلوں کی تربیت کی، ڈاکٹر نے انسانی جانیں بچائیں، انجینئر نے تعمیر و ترقی میں کردار ادا کیا، فوجی جوان نے سرحدوں کی حفاظت کی، تاجر نے معیشت کو متحرک رکھا اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے اپنی محنت سے وطن کا نام روشن کرنے کے ساتھ ملکی معیشت میں بھی اہم کردار ادا کیا۔قائداعظم محمد علی جناحؒ کے نزدیک آزادی منزل نہیں بلکہ ایک نئے قومی سفر کا آغاز تھی۔ ان کے تصور میں پاکستان ایک ایسا آئینی اور جمہوری ملک تھا جہاں قانون کی حکمرانی ہو، پارلیمان کو مرکزی حیثیت حاصل ہو، شہریوں کے حقوق محفوظ ہوں اور ریاست کسی فرد، طبقے یا گروہ کی ملکیت نہ ہو۔ قائداعظم کا پاکستان محض زمین کا ایک ٹکڑا نہیں بلکہ ایک سیاسی، آئینی اور اخلاقی تصور تھا۔79 برس بعد اصل سوال یہ نہیں کہ ہم نے پاکستان بنا لیا یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم نے اس تصور کو اپنی اجتماعی زندگی میں کس حد تک حقیقت بنایا ہے۔ ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کرنے میں کوئی جھجک نہیں ہونی چاہیے کہ پاکستان نے بہت کچھ حاصل کیا ہے۔ جنگوں، دہشت گردی، سیاسی عدم استحکام، قدرتی آفات اور معاشی بحرانوں کے باوجود یہ ملک نہ صرف قائم رہا بلکہ سائنس، تعلیم، دفاع، صنعت، ٹیکنالوجی اور انسانی صلاحیتوں کے میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔پاکستانی نوجوان دنیا بھر میں اپنی قابلیت کا لوہا منوا رہے ہیں۔ ہمارے ڈاکٹر، انجینئر، سائنس دان، اساتذہ، فوجی، تاجر، صحافی اور لاکھوں محنت کش پاکستانی ملک کے اندر اور بیرون ملک اپنی صلاحیتوں سے پاکستان کا نام روشن کر رہے ہیں۔ یہ سب اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان میں صلاحیت کی کمی نہیں؛ ضرورت صرف اس صلاحیت کو درست سمت، مناسب مواقع اور مضبوط اداروں سے جوڑنے کی ہے۔تاہم صرف زندہ رہنا کافی نہیں۔ ایک قوم کی اصل کامیابی اس بات سے متعین ہوتی ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو کس قدر بہتر، محفوظ اور باوقار زندگی فراہم کرتی ہے۔ پاکستان کا مستقبل صرف بڑے منصوبوں، بلند عمارتوں یا دفاعی صلاحیت سے نہیں بلکہ اس بات سے بھی طے ہوگا کہ ایک عام بچے کو معیاری تعلیم ملتی ہے یا نہیں، ایک مریض کو بروقت علاج ملتا ہے یا نہیں، ایک نوجوان کو روزگار کا موقع ملتا ہے یا نہیں، ایک شہری کو عدالت سے انصاف ملتا ہے یا نہیں اور ایک باصلاحیت شخص کو سفارش کے بغیر آگے بڑھنے کا موقع ملتا ہے یا نہیں۔یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں اپنی قومی ترجیحات پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔ پاکستان کو اب محض بحرانوں سے نکلنے کی سیاست سے آگے بڑھ کر تعمیر، پیداوار، برآمدات، تعلیم، تحقیق اور ادارہ جاتی استحکام کی سیاست کی ضرورت ہے۔ مضبوط ملک وہ نہیں ہوتا جہاں ہر مسئلے کا حل ایک شخصیت سے وابستہ ہو، بلکہ مضبوط ملک وہ ہوتا ہے جہاں ادارے مضبوط ہوں، قوانین واضح ہوں اور نظام افراد کے بدلنے سے مفلوج نہ ہو۔پارلیمان کو پالیسی کا تسلسل دینا ہوگا، سیاسی جماعتوں کو اپنے اندر جمہوریت اور میرٹ کو فروغ دینا ہوگا، عدلیہ کو آئین اور قانون کی بالادستی یقینی بنانی ہوگی، سول سروس کو سیاسی دباؤ سے آزاد ہو کر پیشہ ورانہ کردار ادا کرنا ہوگا اور مقامی حکومتوں کو حقیقی اختیارات اور وسائل فراہم کرنا ہوں گے۔ یہی وہ بنیادی ستون ہیں جن پر ایک مستحکم، جمہوری اور فلاحی ریاست تعمیر ہوتی ہے۔پاکستان کی تمام سیاسی قوتوں نے مختلف ادوار میں قومی زندگی پر اثر ڈالا ہے۔ مسلم لیگ سے لے کر پیپلز پارٹی، تحریک انصاف، جماعت اسلامی اور دیگر جماعتوں تک ہر سیاسی قوت کے کردار کو اس کے نظریات، پالیسیوں اور عملی کارکردگی کی بنیاد پر پرکھا جانا چاہیے۔ جماعت اسلامی بھی پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک نمایاں اور مسلسل موجود سیاسی قوت رہی ہے جس نے آئینی، جمہوری، سماجی اور اسلامی ریاست کے مباحث میں اپنا مخصوص نقطۂ نظر پیش کیا ہے۔ جمہوریت کا حسن یہی ہے کہ مختلف تصورات قومی مکالمے کا حصہ بنیں اور عوام ان کی کارکردگی، کردار اور پالیسیوں کی بنیاد پر فیصلہ کریں۔پاکستان کی سب سے بڑی طاقت اس کی نوجوان آبادی ہے۔ اگر ہم نوجوانوں کو معیاری تعلیم، جدید فنی تربیت، ڈیجیٹل مہارت، تحقیق، کاروبار اور باعزت روزگار فراہم کر سکیں تو یہی نوجوان پاکستان کی معاشی تقدیر بدل سکتے ہیں۔ دنیا تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل معیشت، جدید ٹیکنالوجی اور علم پر مبنی صنعتیں نئی دنیا تشکیل دے رہی ہیں۔ پاکستان کے پاس نوجوان افرادی قوت کی صورت میں ایک عظیم سرمایہ موجود ہے، اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اسے صحیح تعلیم، صحیح سمت اور صحیح مواقع فراہم کیے جائیں۔ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ ترقی صرف چند بڑے شہروں تک محدود نہیں رہ سکتی۔ پاکستان اس وقت مضبوط ہوگا جب بلوچستان کا نوجوان، سندھ کا کسان، پنجاب کا مزدور، خیبر پختونخوا کا کاروباری، گلگت بلتستان کا طالب علم اور ملک کے ہر خطے کا شہری خود کو اس ریاست کا برابر کا حصہ محسوس کرے گا۔ وفاق اسی وقت مضبوط ہوتا ہے جب شہریوں کو برابری صرف آئین کی کتاب میں نہیں بلکہ اپنی روزمرہ زندگی میں بھی محسوس ہو۔پاکستان کے قیام کا مقصد صرف ایک آزاد خطے کا حصول نہیں تھا بلکہ ایک ایسی ریاست کی تشکیل تھا جہاں انسان کو انصاف، تحفظ، عزت اور ترقی کے مواقع حاصل ہوں۔ اگر ہم آج بھی ان بنیادی اصولوں کو اپنی قومی زندگی کا مرکز بنا لیں تو پاکستان کے مسائل ناقابلِ حل نہیں۔ہمیں اپنے اختلافات کو دشمنی میں تبدیل کرنے کے بجائے اختلافِ رائے کو جمہوری حسن سمجھنا ہوگا۔ ہمیں شخصیت پرستی کے بجائے ادارہ سازی، نعروں کے بجائے عملی کارکردگی، وقتی مفادات کے بجائے قومی مفاد اور تقسیم کے بجائے اتحاد کو ترجیح دینا ہوگی۔ سیاست کا مقصد اقتدار کا حصول ضرور ہو سکتا ہے، لیکن ریاست کا مقصد عوام کی خدمت ہونا چاہیے۔14 اگست کا دن ہمیں ماضی پر فخر کرنے کے ساتھ مستقبل کی ذمہ داری بھی یاد دلاتا ہے۔ آزادی ہمارے بزرگوں کی قربانیوں کا نتیجہ ہے اور اس آزادی کی حفاظت صرف سرحدوں پر نہیں بلکہ اسکولوں، ہسپتالوں، عدالتوں، بازاروں، اداروں اور معاشرے کے ہر شعبے میں قانون، دیانت، میرٹ اور ذمہ داری کے ذریعے بھی کرنا ہوگی۔آج ہمیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ پاکستان کو صرف بحرانوں سے نکالنے کی نہیں بلکہ اسے ایک مضبوط، باوقار، خوشحال، تعلیم یافتہ، انصاف پسند اور ترقی یافتہ ریاست بنانے کی جدوجہد کریں گے۔ ایسا پاکستان جہاں غریب کا بچہ بھی خواب دیکھ سکے اور اسے پورا کرنے کا موقع بھی ملے، جہاں نوجوان ہجرت کو مجبوری نہیں بلکہ دنیا سے جڑنے کا انتخاب سمجھیں، جہاں کاروبار سفارش کے بجائے میرٹ پر ترقی کرے، جہاں قانون طاقتور اور کمزور دونوں کے لیے یکساں ہو اور جہاں ریاست کا ہر شہری خود کو محفوظ، باعزت اور برابر کا پاکستانی محسوس کرے۔پاکستان کی 79 سالہ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ اس قوم نے مشکل ترین حالات میں بھی ہمت نہیں ہاری۔ اب وقت ہے کہ اسی عزم کو نئی سمت دی جائے۔ ہم نے پاکستان حاصل کر لیا، اب ہمیں اس پاکستان کو سنوارنا ہے جس کا خواب ہمارے بزرگوں نے دیکھا تھا۔پاکستان صرف ہمارا وطن نہیں، ہماری ذمہ داری بھی ہے۔یومِ آزادی مبارک! پاکستان زندہ باد۔*