یومِ آزادی؛ قربانیوں کی یاد، وطن سے محبت اور پاکستان کی ترقی کا عہد ۔چوہدری امیر علی
*ٹوبہ ٹیک سنگھ (محمد زاہد مجید انور سے) سابق چیئرمین رجانہ چوہدری نذیر احمد مرحوم اور سابق چیئرمین رجانہ و سابق ضلعی چیئرمین پنجاب فوڈ اتھارٹی چوہدری شبیر احمد ننھا مرحوم کے چھوٹے بھائی، رجانہ کی معروف سیاسی، سماجی و کاروباری شخصیت چوہدری امیر علی نے اہلِ وطن کو یومِ آزادی کی دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ آزادی اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ ایک انمول نعمت اور عظیم تحفہ ہے، جس کی قدر و منزلت ہر پاکستانی پر لازم ہے۔ 14 اگست وہ تاریخی اور بابرکت دن ہے جب ہمارے آباﺅ اجداد، ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی لازوال قربانیاں رنگ لائیں اور ہمیں ایک آزاد وطن پاکستان کی صورت میں عظیم نعمت حاصل ہوئی۔چوہدری امیر علی نے کہا کہ آزادی کسی بھی قوم کے لیے سب سے قیمتی سرمایہ ہوتی ہے۔ پاکستان کے حصول کے لیے ہمارے بزرگوں نے بے مثال قربانیاں دیں، اپنے گھر بار چھوڑے، ہجرت کی صعوبتیں برداشت کیں اور اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے۔ ہمیں آج جس آزاد فضا میں زندگی گزارنے کا موقع میسر ہے، اس کے پیچھے لاکھوں شہداء اور غازیوں کی قربانیاں موجود ہیں۔ اس لیے یومِ آزادی محض جشن منانے کا دن نہیں بلکہ اپنے محسنوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے، ان کی قربانیوں کو یاد رکھنے اور وطن کی خدمت کا نیا عہد کرنے کا دن بھی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم مذہبِ اسلام کے ماننے والے ہیں اور اسلام ہمیں وطن سے محبت، امن، بھائی چارے، ایثار، قربانی اور انسانیت کی خدمت کا درس دیتا ہے۔ وطن عزیز پاکستان اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے، اس کی حفاظت، آبیاری، خوشحالی اور ترقی ہم سب کا مشترکہ قومی فریضہ ہے۔ پاکستان کی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے پوری قوم کو اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملک دشمن عناصر کے عزائم کو ناکام بنانا ہوگا۔چوہدری امیر علی نے کہا کہ تحریکِ آزادی اور قیامِ پاکستان کی تاریخ قربانیوں سے عبارت ہے۔ جب جنگِ آزادی اور برصغیر کے مسلمانوں کی جدوجہد کا ذکر کیا جاتا ہے تو علماء کرام اور مشائخ عظام کی قربانیوں کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ علماء نے نہ صرف مسلمانوں میں آزادی کا شعور بیدار کیا بلکہ حق و صداقت کی خاطر بے شمار قربانیاں بھی پیش کیں۔ ان عظیم شخصیات کی جدوجہد اور قربانیاں آج بھی ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں اور ہمیں وطن عزیز کے استحکام کے لیے قربانی، ایثار اور ثابت قدمی کا درس دیتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ آج پاکستان کو مختلف معاشی، سیاسی، سماجی اور انتظامی چیلنجز کا سامنا ہے۔ ایسے حالات میں کسی ایک فرد، جماعت یا ادارے پر تمام ذمہ داری عائد نہیں کی جا سکتی۔ پاکستان کو مسائل کے بھنور سے نکالنے کے لیے معاشرے کے ہر طبقے کو اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا۔ سیاسی قیادت کو قومی مفاد کو ترجیح دیتے ہوئے باہمی اختلافات کم کرنا ہوں گے، کاروباری طبقے کو ملکی معیشت کی مضبوطی میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، نوجوانوں کو تعلیم اور ہنر کے ذریعے ملک کی تعمیر و ترقی میں آگے آنا ہوگا جبکہ عوام کو اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے قانون کی پاسداری کرنا ہوگی۔چوہدری امیر علی نے مزید کہا کہ ملک کی ترقی کا راستہ سیاسی استحکام، معاشی خودمختاری، میرٹ، انصاف، تعلیم، صحت، روزگار اور اجتماعی شعور سے ہو کر گزرتا ہے۔ ہمیں ذاتی اور گروہی مفادات سے بالاتر ہو کر پاکستان کے وسیع تر مفاد میں سوچنا ہوگا۔ اگر قوم متحد ہو کر محنت، دیانت داری اور اخلاص کے ساتھ آگے بڑھے تو کوئی وجہ نہیں کہ پاکستان دنیا کی ترقی یافتہ اور باوقار اقوام میں نمایاں مقام حاصل نہ کر سکے۔انہوں نے کہا کہ نوجوان پاکستان کا قیمتی اثاثہ اور روشن مستقبل ہیں۔ انہیں جدید تعلیم، ٹیکنالوجی، ہنر اور روزگار کے مواقع فراہم کرنا ریاست اور معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ نوجوان نسل کو بھی چاہیے کہ وہ سوشل میڈیا کے مثبت استعمال، تعلیم، تحقیق اور عملی میدان میں اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے پاکستان کی تعمیر و ترقی میں اپنا حصہ ڈالے۔چوہدری امیر علی نے یومِ آزادی کے موقع پر اس عزم کا اظہار کیا کہ ہم اپنے بزرگوں کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کریں گے اور پاکستان کی سلامتی، استحکام، خوشحالی اور ترقی کے لیے ہر ممکن کردار ادا کرتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آج ہمیں عہد کرنا ہوگا کہ ہم نفرت، انتشار اور تقسیم کے بجائے اتحاد، اخوت، برداشت اور قومی یکجہتی کو فروغ دیں گے اور اپنے وطن کو ایک مضبوط، خوشحال، پرامن اور ترقی یافتہ پاکستان بنانے کے لیے مل جل کر کام کریں گے۔انہوں نے اہلِ وطن کو یومِ آزادی کی مبارکباد دیتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کو ہمیشہ قائم و دائم رکھے، وطن عزیز کو ہر قسم کے اندرونی و بیرونی خطرات سے محفوظ فرمائے، ملک میں امن و استحکام، معاشی خوشحالی اور قومی اتحاد عطا فرمائے اور پاکستان کو دنیا بھر میں عزت و وقار اور ترقی کی بلند ترین منزلوں سے ہمکنار کرے۔ پاکستان زندہ باد، پاکستان پائندہ باد۔*












