حمزہ صاحب۔۔۔ جمہوریت، حق گوئی اور اصولی سیاست کا روشن باب

تحریر و تجزیہ: محمد زاہد مجید انور

*پاکستان کی سیاسی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو اقتدار کے ایوانوں میں اپنے عہدے یا منصب کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے کردار، اصول پسندی، حق گوئی اور عوامی خدمت کے باعث ہمیشہ زندہ رہتی ہیں۔ ایسی ہی ایک باوقار اور تاریخ ساز شخصیت جناب حمزہ صاحب تھے، جنہیں ہم سے بچھڑے آج پانچ برس بیت گئے، مگر ان کی سیاسی جدوجہد، جمہوریت سے وابستگی اور اصولی سیاست آج بھی اہلِ سیاست اور عوام کے لیے ایک روشن مثال ہے۔حمزہ صاحب نے اپنی زندگی کے 56 سالہ طویل سیاسی سفر میں پاکستانی سیاست کے نشیب و فراز کو نہایت قریب سے دیکھا۔ انہوں نے سیاست کو ذاتی مفاد، منصب یا اقتدار کے حصول کا ذریعہ بنانے کے بجائے اسے عوام کے حقوق، جمہوریت کی بالادستی، آئین کی پاسداری اور پاکستان کے روشن مستقبل کے لیے جدوجہد کا وسیلہ سمجھا۔ یہی وجہ ہے کہ آج ان کی برسی کے موقع پر انہیں یاد کرنے والے صرف ان کے سیاسی رفقاء نہیں بلکہ مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے وہ لوگ بھی ہیں جو اصولی سیاست اور جمہوری اقدار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں قومی اسمبلی ہو یا سینیٹ، جمہوریت کی بحالی کی تحریکیں ہوں یا عدلیہ کی آزادی کی جدوجہد، حمزہ صاحب نے ہر مرحلے پر اپنے اصولوں کو مقدم رکھا۔ وہ آمریت کے سخت ترین ادوار میں بھی جمہوریت کی آواز بن کر سامنے آئے۔ جیل کی سلاخیں ہوں، نظربندی ہو یا سیاسی مشکلات، انہوں نے اپنے نظریات سے پسپائی اختیار نہیں کی۔ ان کی سیاست کا بنیادی فلسفہ یہی تھا کہ پاکستان میں اقتدار کا اصل سرچشمہ عوام ہیں اور ریاستی اداروں کی مضبوطی آئین، قانون اور جمہوری اصولوں کی پاسداری سے وابستہ ہےحمزہ صاحب کی سیاسی زندگی کا ایک انتہائی قابلِ فخر پہلو مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کے ساتھ ان کی قربت اور رفاقت تھی۔ یہ اعزاز ہر سیاسی رہنما کے حصے میں نہیں آتا کہ اسے قائداعظم محمد علی جناحؒ کی عظیم بہن اور مادرِ ملت کے قریبی ساتھیوں میں شمار کیا جائے۔ صدارتی انتخابات کے تاریخی پس منظر میں بھی حمزہ صاحب کا کردار اور ٹوبہ ٹیک سنگھ کے ساتھ ان کا تعلق خصوصی اہمیت رکھتا ہے ٹوبہ ٹیک سنگھ وہ خطہ تھا جہاں محترمہ فاطمہ جناح کو غیر معمولی عوامی پذیرائی حاصل ہوئی اور یہ واقعہ اس خطے کی سیاسی تاریخ کا ایک اہم باب بن گیا۔حمزہ صاحب نے اپنی طویل سیاسی زندگی میں پاکستان کے تقریباً ہر اہم سیاسی دور کا سامنا کیا۔ ایوب خان کا دورِ آمریت ہو یا جنرل یحییٰ خان کا زمانہ، ذوالفقار علی بھٹو کا دور ہو یا محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت، جنرل پرویز مشرف کا دورِ جبر ہو یا بعد کے جمہوری ادوار، حمزہ صاحب نے ہر دور میں اپنے سیاسی مؤقف اور عوامی حقوق کی ترجمانی کو بنیادی ترجیح دی۔ان کی سیاست کا امتیاز یہ تھا کہ وہ حکومت میں ہوں یا حزبِ اختلاف میں، اسمبلی کے اندر ہوں یا اسمبلی سے باہر، ان کی آواز عوام کے بنیادی مسائل کے لیے بلند ہوتی رہی۔ انہوں نے سیاسی اختلاف کو ذاتی دشمنی میں تبدیل کرنے کے بجائے اسے جمہوری نظام کا لازمی حصہ سمجھا۔ ان کی بے باکی کا یہ عالم تھا کہ جہاں انہیں کسی فیصلے یا پالیسی میں عوامی مفاد کے خلاف پہلو نظر آتا، وہاں وہ اپنی آواز بلند کرنے سے گریز نہیں کرتے تھے۔آج جب ملکی سیاست میں اصول، برداشت، مکالمہ اور نظریاتی وابستگی جیسے الفاظ رفتہ رفتہ کم سنائی دیتے ہیں، حمزہ صاحب کی سیاسی زندگی ہمارے لیے ایک اہم سوال چھوڑتی ہے: کیا سیاست صرف اقتدار حاصل کرنے کا نام ہے یا عوام کی خدمت، آئین کی پاسداری اور اصولوں کی حفاظت بھی سیاست ہی کا حصہ ہے؟حمزہ صاحب کی زندگی اس سوال کا جواب اپنے کردار سے دیتی ہے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ سیاست میں رہتے ہوئے بھی اصولوں پر قائم رہا جا سکتا ہے، اختلاف کے باوجود شائستگی برقرار رکھی جا سکتی ہے اور مشکل ترین حالات میں بھی حق بات کہنے کا حوصلہ پیدا کیا جا سکتا ہے۔ان کی پانچویں برسی دراصل صرف ایک عظیم سیاسی رہنما کو یاد کرنے کا دن نہیں بلکہ ان کے سیاسی نظریات اور جمہوری جدوجہد کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع بھی ہے۔ہمیں ان کی زندگی سے یہ سبق حاصل کرنا چاہیے کہ ملک کی ترقی محض نعروں، دعوؤں اور اقتدار کی تبدیلی سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی، جمہوری اداروں کے احترام اور عوامی خدمت کو قومی ترجیح بنانا ہوگا۔ٹوبہ ٹیک سنگھ کی سیاسی تاریخ میں بھی حمزہ صاحب کا نام ایک معتبر حوالہ ہے۔ یہ وہ سرزمین ہے جس نے انہیں نہ صرف سیاسی حمایت دی بلکہ مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کے تاریخی انتخابی سفر میں بھی اپنا کردار ادا کیا۔ آج بھی یہاں کے سیاسی شعور، جمہوری وابستگی اور عوامی سیاست کی تاریخ میں حمزہ صاحب کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔پانچ برس گزر جانے کے باوجود حمزہ صاحب کی یاد اس لیے تازہ ہے کہ اچھے لوگ اپنے جسمانی وجود کے ساتھ نہیں بلکہ اپنے کردار، نظریات اور خدمات کے ذریعے زندہ رہتے ہیں۔ ان کی سیاسی جدوجہد آنے والی نسلوں کو یہ پیغام دیتی رہے گی کہ حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں، اگر نیت صاف، مقصد قومی اور ارادہ مضبوط ہو تو انسان تاریخ پر اپنے نقوش چھوڑ سکتا ہے۔آج ہم جناب حمزہ صاحب کی پانچویں برسی کے موقع پر ان کی جمہوری جدوجہد، حق گوئی، بے باکی، عوام دوستی اور اصولی سیاست کو سلام پیش کرتے ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنے جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کی لغزشوں کو معاف فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں جگہ نصیب کرے۔اور وہ پاکستان جس کی ترقی، خوشحالی، جمہوریت اور عوام کی سربلندی کا خواب حمزہ صاحب نے اپنی پوری زندگی دیکھا، اللہ تعالیٰ اس خواب کو حقیقت کا روپ عطا فرمائے۔آمین یا رب العالمین*