نواحی چک نمبر 358 گ ب میں چوہدری محمد اشرف (انگلینڈ والے) کی ایصالِ ثواب کیلئے اجتماعی دعا، اہم شخصیات کی شرکت

*ٹوبہ ٹیک سنگھ (محمد زاہد مجید انور سے) نواحی چک نمبر 358 گ ب (مغلی) میں معروف سیاسی و سماجی زمیندار شخصیت اور سابق چیئرمین چوہدری محمد اسلم اور ان کے صاحبزادے میاں توصیف اسلم کے تایا جان چوہدری محمد اشرف (انگلینڈ والے) کی ایصالِ ثواب کے لیے ایک پروقار اجتماعی دعا کا اہتمام کیا گیا، جس میں علاقے کی مذہبی، سیاسی، سماجی اور کاروباری شخصیات سمیت اہلِ علاقہ کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔اس موقع پر سجادہ نشین آستانہ عالیہ بحرالعلوم، صدر تنظیم العلماء اہلسنت والجماعت دارالسلام اور شہزادۂ اہلسنت علامہ صاحبزادہ منعم حسنین صدیقی نے خصوصی شرکت کی اور مرحوم چوہدری محمد اشرف کی دینی، سماجی اور فلاحی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے مرحوم کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ انسان کا اصل سرمایہ اس کے نیک اعمال، دینی وابستگی، حسنِ اخلاق اور لوگوں کے ساتھ بھلائی ہے، جبکہ نیک اعمال اور خدمتِ خلق ایسی یادیں چھوڑ جاتے ہیں جو ہمیشہ زندہ رہتی ہیں۔علامہ صاحبزادہ منعم حسنین صدیقی نے مرحوم کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ ان کی دینی و سماجی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام نصیب فرمائے۔ انہوں نے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا ہونے اور مرحوم کے لیے صدقۂ جاریہ بننے والی نیکیوں کی توفیق کی بھی دعا کی۔اجتماعی دعا کی اس روحانی و پُروقار محفل میں سابق وفاقی وزیرِ مملکت و سابق رکن قومی اسمبلی چوہدری اسد الرحمن، سابق رکن صوبائی اسمبلی سردار مقصود خان گادھی سمیت علاقے کی دیگر اہم سیاسی و سماجی شخصیات، معززین، عمائدین، علماء کرام، دوست احباب اور اہلِ علاقہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔شرکاء نے چوہدری محمد اسلم، میاں توصیف اسلم اور دیگر اہلِ خانہ سے اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے مرحوم کی وفات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ عزیز و اقارب اور دوست احباب کی جانب سے اس مشکل گھڑی میں اہلِ خانہ کے ساتھ کھڑا ہونا محبت، اخوت اور انسانی ہمدردی کی خوبصورت مثال ہے۔محفل کے اختتام پر مرحوم چوہدری محمد اشرف کے درجات کی بلندی، مغفرت و بخشش، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام، لواحقین کے لیے صبر و استقامت اور ملک و قوم کی سلامتی کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔ شرکاء نے مرحوم کے لیے فاتحہ خوانی بھی کی اور ان کے اہلِ خانہ کے ساتھ دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔*