عالمی یومِ سیاحت

سفر، تہذیب اور انسان دوستی کا خوبصورت پیغام

تحریر:
ڈاکٹر محمد اقبال ندیم ملانہ(گولڈ میڈلسٹ)

دنیا بھر میں 27 ستمبر کو عالمی یومِ سیاحت منایا جاتا ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ سیاحت محض ایک شہر سے دوسرے شہر یا ایک ملک سے دوسرے ملک جانے کا نام نہیں، بلکہ یہ مختلف تہذیبوں، ثقافتوں، روایات، تاریخ اور انسانوں کو قریب لانے کا ایک خوبصورت ذریعہ ہے۔

سفر انسان کے علم میں اضافہ کرتا ہے۔ جو شخص مختلف علاقوں کی سیر کرتا ہے، وہ صرف نئے مناظر نہیں دیکھتا بلکہ وہاں کے لوگوں کے رہن سہن، زبان، ثقافت، روایات اور تاریخ سے بھی آشنا ہوتا ہے۔ یہی تجربات انسان کی سوچ کو وسعت دیتے اور اسے دنیا کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔

پاکستان قدرتی حسن اور تاریخی ورثے سے مالا مال ملک ہے۔ کشمیر ، شمالی علاقوں کے برف پوش پہاڑ، وادیاں، جھیلیں، دریا، صحرائی علاقے، تاریخی قلعے، قدیم شہر اور صوفیاء کے مزارات ہمارے ملک کے عظیم سیاحتی اثاثے ہیں۔ پنجاب کی زرخیز دھرتی، سندھ کی قدیم تہذیب، بلوچستان کے منفرد پہاڑی و ساحلی مناظر اور خیبر پختونخوا کے دلکش پہاڑ پاکستان کو ایک خوبصورت سیاحتی ملک بناتے ہیں۔

جھنگ اور احمدپور سیال جیسے علاقوں میں بھی اپنی ایک منفرد ثقافتی اور تاریخی شناخت موجود ہے۔ دیہی زندگی، قدیم روایات، مقامی دستکاری، کھانے، میلوں اور صوفیانہ ثقافت کو سیاحت کے ذریعے دنیا کے سامنے پیش کیا جا سکتا ہے۔ ہمارے گاؤں اور قصبے بھی پاکستان کے ثقافتی حسن کا اہم حصہ ہیں۔

سیاحت مقامی معیشت کے لیے بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ جب سیاح کسی علاقے کا رخ کرتے ہیں تو مقامی ہوٹل، ریسٹورنٹس، ٹرانسپورٹ، دستکاری، زرعی مصنوعات اور دیگر کاروبار ترقی کرتے ہیں۔ اس طرح سیاحت روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے اور مقامی آبادی کی معاشی حالت بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

تاہم ہمیں ایسی سیاحت کو فروغ دینا چاہیے جو قدرت، ثقافت اور ماحول کا احترام کرے۔ سیاحتی مقامات پر صفائی کا خیال رکھنا، درختوں اور قدرتی حسن کی حفاظت کرنا، تاریخی عمارات کو نقصان سے بچانا اور مقامی لوگوں کے حقوق و روایات کا احترام کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

سفر ہمیں یہ سبق بھی دیتا ہے کہ دنیا بہت وسیع ہے، مگر انسان کے جذبات بہت مشترک ہیں۔ زبانیں مختلف ہو سکتی ہیں، لباس مختلف ہو سکتے ہیں اور ثقافتیں مختلف ہو سکتی ہیں، لیکن محبت، احترام، مہمان نوازی اور انسان دوستی ہر معاشرے کی مشترکہ اقدار ہیں۔

آئیے اس عالمی یومِ سیاحت پر عہد کریں کہ ہم اپنے وطن کے خوبصورت مقامات، تاریخی ورثے اور ثقافتی روایات کو محفوظ بھی رکھیں گے اور دنیا کے سامنے مثبت انداز میں اجاگر بھی کریں گے۔

سیاحت صرف سفر نہیں، شعور کا سفر بھی ہے؛
یہ راستے ہی نہیں، دلوں اور تہذیبوں کو بھی قریب لاتی ہے۔