ظلم کا انجام، قانون کی گرفت اور معاشرے کی ذمہ داری
تحریر : محمد زاہد مجید انور
*معصوم بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی، ہراسانی یا نازیبا حرکات جیسے جرائم کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے لمحۂ فکریہ ہوتے ہیں۔ ایسے واقعات صرف ایک خاندان کا دکھ نہیں ہوتے بلکہ پوری قوم کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیتے ہیں۔ ایک معصوم بچہ یا بچی جب کسی درندہ صفت انسان کا نشانہ بنتا ہے تو اس کے جسم کے ساتھ ساتھ اس کی نفسیات بھی بری طرح متاثر ہوتی ہیں، اور اس کے اثرات برسوں تک باقی رہ سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام، آئین پاکستان اور ملکی قوانین بچوں کے تحفظ کو بنیادی اہمیت دیتے ہیں اور ایسے جرائم کے مرتکب افراد کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت کرتے ہیں۔حالیہ دنوں ایک ایسا ہی افسوسناک واقعہ منظر عام پر آیا جس میں ایک بچی کے ساتھ مبینہ نازیبا حرکت کے الزام میں پولیس نے ملزم کی گرفتاری کے لیے کارروائی کی۔ اطلاعات کے مطابق جب پولیس اسے گرفتار کرنے پہنچی تو اس نے قانون سے بچنے کے لیے فرار ہونے کی کوشش کی، مگر بھاگتے ہوئے گر گیا اور اس کا بازو ٹوٹ گیا۔ یہ ایک حادثاتی واقعہ تھا، تاہم اس نے ایک حقیقت کو پھر واضح کر دیا کہ قانون سے فرار ہمیشہ ممکن نہیں ہوتا۔ انسان اپنے کیے ہوئے اعمال کے نتائج سے کسی نہ کسی صورت ضرور دوچار ہوتا ہے۔یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ کسی بھی شخص کے جرم یا بے گناہی کا حتمی فیصلہ عدالت کرتی ہے۔ اس لیے ہر ملزم کو قانون کے مطابق شفاف تحقیقات اور منصفانہ ٹرائل کا حق حاصل ہے۔ تاہم جب کسی معصوم بچے یا بچی کے ساتھ نازیبا حرکت کا الزام سامنے آئے تو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ فوری، غیر جانبدار اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے متاثرہ خاندان کو انصاف کی فراہمی یقینی بنائیں والدین پر بھی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو کم عمری ہی سے ذاتی تحفظ، اچھے اور برے لمس کی پہچان، اور کسی بھی مشکوک رویے کی فوری اطلاع دینے کی تربیت دیں۔ اسی طرح تعلیمی اداروں، مذہبی مراکز، سماجی تنظیموں اور میڈیا کو بھی بچوں کے تحفظ کے حوالے سے شعور اجاگر کرنے میں اپنا مؤثر کردار ادا کرنا چاہیےہمیں بطور معاشرہ یہ عہد کرنا ہوگا کہ بچوں کے خلاف کسی بھی قسم کے تشدد، استحصال یا نازیبا حرکت پر خاموشی اختیار نہیں کریں گے۔ ایسے واقعات کو چھپانے کے بجائے قانون کے سامنے لانا، متاثرہ خاندان کی حوصلہ افزائی کرنا اور انصاف کے عمل میں معاونت کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہےاللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہر معصوم بچے اور بچی کو اپنی حفظ و امان میں رکھے، والدین کو اپنے بچوں کی بہترین حفاظت کی توفیق عطا فرمائے، اور ہمارے معاشرے کو ایسے جرائم سے پاک کرنے کی ہمت، شعور اور اجتماعی قوت نصیب فرمائے۔ آمین*













