بار ووکیشنل کورس سیمینار کی کامیاب تکمیل، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کی جانب سے پنجاب بار کونسل کی سیمینار اینڈ سمپوزیم کمیٹی کو اعزازی شیلڈز پیش، قانونی تعلیم کے فروغ کی کاوشوں کو زبردست خراجِ تحسین
ٹوبہ ٹیک سنگھ (محمد زاہد مجید انور سے) وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے پنجاب بار کونسل کی سیمینار اینڈ سمپوزیم کمیٹی کے چیئرمین احتشام انور اور کمیٹی کے معزز ممبران کو بار ووکیشنل کورس (BVC) سرٹیفکیٹ تقسیم کرنے کی تقریب کے شاندار، منظم اور کامیاب انعقاد پر ان کی گرانقدر خدمات کے اعتراف میں اعزازی شیلڈز پیش کیں۔ یہ تقریب قانونی شعبے میں پیشہ ورانہ تربیت، نوجوان وکلاء کی صلاحیتوں میں اضافے اور نظامِ انصاف کو مزید مؤثر بنانے کی کوششوں کا ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوئی، جس میں ملک بھر سے سینئر قانون دانوں، بار کونسل کے عہدیداران، مختلف بار ایسوسی ایشنز کے نمائندگان، نوجوان وکلاء اور معزز مہمانوں نے شرکت کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ وکالت محض ایک پیشہ نہیں بلکہ آئین، قانون اور انصاف کے تحفظ کی عظیم ذمہ داری ہے۔ ایک کامیاب وکیل کے لیے قانونی علم کے ساتھ ساتھ اعلیٰ اخلاق، پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور عوامی خدمت کا جذبہ بھی ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ بار ووکیشنل کورس (BVC) نوجوان وکلاء کو عملی زندگی کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے، عدالتی نظام کی باریکیوں سے آگاہ کرنے اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو نکھارنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔وفاقی وزیر نے پنجاب بار کونسل، بالخصوص سیمینار اینڈ سمپوزیم کمیٹی کے چیئرمین احتشام انور اور ان کی ٹیم کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کے علمی اور تربیتی پروگرام مستقبل کے وکلاء کی بہتر رہنمائی کرتے ہیں اور انہیں ایک ذمہ دار، باصلاحیت اور قانون پسند شہری بنانے میں مدد دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت قانونی تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے، عدالتی اصلاحات کو آگے بڑھانے اور وکلاء برادری کی فلاح و بہبود کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی تاکہ انصاف کی فراہمی کا نظام مزید مضبوط، شفاف اور عوام دوست بنایا جا سکے۔
چیئرمین سیمینار اینڈ سمپوزیم کمیٹی احتشام انور نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب بار کونسل نوجوان وکلاء کی علمی، فکری اور عملی تربیت کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کیے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ بار ووکیشنل کورس کا مقصد نئی نسل کے وکلاء کو صرف سرٹیفکیٹ فراہم کرنا نہیں بلکہ انہیں ایک باکردار، باصلاحیت اور ذمہ دار قانون دان کے طور پر معاشرے میں اپنا مؤثر کردار ادا کرنے کے قابل بنانا ہے۔ انہوں نے وفاقی وزیر اعظم نذیر تارڑ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حوصلہ افزائی مستقبل میں مزید مؤثر پروگراموں کے انعقاد کے لیے باعثِ تحریک ثابت ہوگی۔تقریب میں موجود سینئر وکلاء، قانونی ماہرین اور شرکاء نے بھی سیمینار کے کامیاب انعقاد کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے پروگرام نہ صرف نوجوان وکلاء کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ عدلیہ اور وکلاء کے درمیان مضبوط، مؤثر اور مثبت روابط کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ جدید دور کے تقاضوں کے مطابق قانونی تعلیم اور عملی تربیت وقت کی اہم ضرورت ہے، جس پر پنجاب بار کونسل کی توجہ قابلِ ستائش ہے۔تقریب کے اختتام پر وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے چیئرمین احتشام انور اور سیمینار اینڈ سمپوزیم کمیٹی کے معزز ممبران کو ان کی نمایاں خدمات، بہترین انتظامات اور کامیاب سیمینار کے انعقاد پر اعزازی شیلڈز پیش کیں۔ شرکاء نے اس اقدام کو وکلاء برادری کی خدمات کے اعتراف، نوجوان قانون دانوں کی حوصلہ افزائی اور قانونی تعلیم کے فروغ کی جانب ایک مثبت اور قابلِ تقلید قدم قرار دیتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ مستقبل میں بھی ایسے علمی، تربیتی اور پیشہ ورانہ پروگراموں کا سلسلہ اسی جذبے، عزم اور کامیابی کے ساتھ جاری رہے گا، تاکہ پاکستان میں انصاف کی فراہمی کا نظام مزید مضبوط، مؤثر اور عوامی اعتماد کا حامل بن سکے













