کاشتکاروں کے مفاد میں اہم اقدام، مارکیٹ کمیٹی ٹوبہ ٹیک سنگھ نے سبزی و پھل منڈی کی نئی انٹری فیسوں کا شیڈول جاری کر دیا،پامرا کی ہدایات پر یکم جولائی 2026ء سے نئے نرخ نافذ، زائد فیس وصول کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی، عوام سے تعاون کی اپیل
*ٹوبہ ٹیک سنگھ (محمد زاہد مجید انور سے)پنجاب ایگریکلچرل مارکیٹنگ ریگولیٹری اتھارٹی (پامرا) کی ہدایات اور حکومت پنجاب کی کسان دوست پالیسی کے تحت مارکیٹ کمیٹی ٹوبہ ٹیک سنگھ نے سبزی و پھل منڈی میں داخل ہونے والی مختلف گاڑیوں اور اشیاء کے لیے نئی انٹری (نامہ نویسی) فیسوں کا شیڈول جاری کر دیا ہے، جس کا اطلاق یکم جولائی 2026ء سے کر دیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد کاشتکاروں، تاجروں اور آڑھتیوں کو ایک شفاف، منظم اور منصفانہ نظام فراہم کرنا، ناجائز وصولیوں کی روک تھام کرنا اور زرعی منڈیوں میں بہتر انتظامی ماحول کو فروغ دینا ہے۔مارکیٹ کمیٹی کی جانب سے جاری کردہ شیڈول کے مطابق گدھا ریڑھی کی انٹری فیس 20 روپے، رکشہ یا لوڈر رکشہ 50 روپے، ٹریکٹر ٹرالی 50 روپے، کار یا جیپ 50 روپے، مزدا، شہزور، پک اپ اور دیگر اسی نوعیت کی گاڑیوں کی انٹری فیس 80 روپے مقرر کی گئی ہے۔ اسی طرح 6 سے 10 وہیلر ٹرک کے لیے 200 روپے جبکہ 18 سے 22 وہیلر ٹرالر اور کنٹینر کے لیے 500 روپے انٹری فیس مقرر کی گئی ہے۔ گٹھڑی کی انٹری فیس صرف 5 روپے رکھی گئی ہے تاکہ چھوٹے کاروباری افراد اور دیہاڑی دار طبقے پر اضافی مالی بوجھ نہ پڑے۔مارکیٹ کمیٹی ٹوبہ ٹیک سنگھ کے حکام نے واضح کیا ہے کہ منڈی میں مقررہ شیڈول سے زیادہ فیس وصول کرنا قانوناً جرم ہوگا اور اگر کوئی ٹھیکیدار، اہلکار یا متعلقہ شخص مقررہ نرخوں سے زائد رقم وصول کرتا پایا گیا تو اس کے خلاف سخت محکمانہ اور قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس سلسلے میں عوام، کاشتکاروں اور ٹرانسپورٹرز سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ مقررہ نرخوں سے آگاہ رہیں اور کسی بھی قسم کی ناجائز وصولی کی فوری اطلاع متعلقہ حکام کو دیں۔مارکیٹ کمیٹی نے شکایات کے اندراج کے لیے 046-2516252 نمبر بھی جاری کیا ہے تاکہ کسی بھی شکایت پر بروقت کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کسانوں اور تاجروں کے حقوق کا تحفظ ان کی اولین ترجیح ہے اور کسی بھی صورت غیر قانونی وصولی برداشت نہیں کی جائے گی۔کاشتکاروں، تاجروں، ٹرانسپورٹرز اور شہری حلقوں نے مارکیٹ کمیٹی ٹوبہ ٹیک سنگھ کے اس اقدام کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئی فیسوں کے واضح شیڈول سے منڈی میں شفافیت آئے گی، غیر قانونی وصولیوں کا خاتمہ ہوگا اور کسانوں کو حقیقی معنوں میں ریلیف ملے گا۔ انہوں نے حکومت پنجاب، پامرا اور مارکیٹ کمیٹی سے مطالبہ کیا کہ جاری کردہ نرخ نامے پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے تاکہ تمام متعلقہ افراد بلاامتیاز اس سہولت سے مستفید ہو سکیں اور زرعی منڈیوں کا نظام مزید مضبوط، منظم اور عوام دوست بن سکے۔*













