جیو نیوز کی نشریات کی بندش پر عوامی حلقوں میں تشویش، آزاد میڈیا جمہوریت کی مضبوطی کی ضمانت قرار
*ٹوبہ ٹیک سنگھ (محمد زاہد مجید انور سے) ملک کے معروف نجی ٹیلی ویژن چینل جیو نیوز کی نشریات پندرہ دن کے لیے بند کیے جانے کی اطلاعات پر مختلف عوامی، سماجی، سیاسی، کاروباری، وکلاء، صحافتی اور علمی حلقوں نے گہری تشویش اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ شہریوں نے کہا کہ ذرائع ابلاغ کسی بھی جمہوری معاشرے کی آنکھ اور کان ہوتے ہیں، جو عوام تک بروقت، مستند اور غیر جانبدار معلومات پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں، اس لیے کسی بھی بڑے نشریاتی ادارے کی طویل بندش لاکھوں ناظرین کے لیے باعثِ تشویش ہے۔شہریوں کا کہنا تھا کہ جیو نیوز نے قومی، بین الاقوامی، سیاسی، سماجی، معاشی، تعلیمی اور عوامی مسائل کو اجاگر کرنے میں ہمیشہ نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ ایسے حالات میں جب عوام درست اور بروقت معلومات کے لیے الیکٹرانک میڈیا پر انحصار کرتے ہیں، کسی بڑے نیوز چینل کی نشریات کی بندش عوام کے حقِ معلومات پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔عوامی حلقوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ متعلقہ ادارے اس معاملے کو آئین اور قانون کے مطابق جلد از جلد حل کریں گے تاکہ نشریات کی بحالی ممکن ہو سکے اور عوام ایک بار پھر اپنی پسندیدہ خبروں اور تجزیوں تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں۔ انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ اختلافات اور انتظامی معاملات کو گفت و شنید اور قانونی طریقۂ کار کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے تاکہ میڈیا کی آزادی، قومی مفاد اور عوامی اعتماد برقرار رہے۔مختلف سماجی شخصیات نے کہا کہ ایک ذمہ دار، آزاد اور مضبوط میڈیا معاشرے میں شفافیت، احتساب، عوامی آگاہی اور جمہوری روایات کے فروغ میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحافت ریاست کا اہم ستون ہے اور اس کے استحکام سے ہی عوام اور اداروں کے درمیان اعتماد کی فضا مضبوط ہوتی ہے۔آخر میں عوامی حلقوں نے دعا کی کہ تمام متعلقہ فریقین دانشمندی، تحمل اور باہمی افہام و تفہیم کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس معاملے کا مثبت حل نکالیں تاکہ جیو نیوز کی نشریات جلد از جلد بحال ہوں اور عوام کو بلا تعطل مستند، بروقت اور معیاری خبروں کی فراہمی دوبارہ یقینی بنائی جا سکے۔*













