جیو نیوز کی وضاحت، ذمہ دار صحافت اور مذہبی جذبات کا احترام

تحریر : محمد زاہد مجید انور

*پاکستان میں محرم الحرام بالخصوص یومِ عاشورہ نہایت عقیدت، احترام اور مذہبی حساسیت کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ اس موقع پر ذرائع ابلاغ کی ذمہ داری بھی کئی گنا بڑھ جاتی ہے کہ وہ ایسے مواد کی اشاعت و نشریات میں انتہائی احتیاط سے کام لیں جو عوامی جذبات، مذہبی عقائد اور قومی ہم آہنگی پر اثرانداز ہو سکتا ہو۔ حالیہ دنوں جیو نیوز پر 10 محرم الحرام کے موقع پر نشر ہونے والے پروگرام “سفرِ عشق” کے ایک حصے پر عوامی حلقوں کی جانب سے اعتراضات سامنے آئے، جس کے بعد ادارے نے باضابطہ وضاحت اور معذرت جاری کرتے ہوئے اس واقعے کو ایک غلطی قرار دیا۔جیو نیوز کے مطابق پروگرام میں شامل ہونے والا متنازع مواد عراق اور مشرقِ وسطیٰ کے چند دیگر ممالک میں محدود پیمانے پر بعض افراد کی جانب سے اختیار کی جانے والی چند رسومات کی عکاسی پر مشتمل تھا۔ ادارے نے واضح کیا کہ اس مواد کا مقصد نہ ان رسومات کی ترویج کرنا تھا، نہ ان کی حمایت کرنا اور نہ ہی انہیں فروغ دینا مقصود تھا۔ مزید یہ بھی بتایا گیا کہ یہ ویڈیو یا مواد جیو نیوز کی اپنی تیار کردہ پروڈکشن نہیں تھا اور نہ ہی اسے کسی مخصوص ادارتی پالیسی یا سوچ کے تحت نشر کیا گیا۔اپنے وضاحتی بیان میں جیو نیوز نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ادارہ ہمیشہ مسلم اُمہ کے متفقہ عقائد، مذہبی اقدار اور عوامی حساسیت کے احترام کی پالیسی پر سختی سے عمل پیرا رہا ہے۔ ادارے نے اس امر پر زور دیا کہ مذکورہ مواد کسی طور بھی اس کے ادارتی مؤقف یا نظریاتی سوچ کی نمائندگی نہیں کرتا۔بیان کے مطابق جیسے ہی معاملہ ادارے کے علم میں آیا، متنازع مواد کو فوری طور پر تمام پلیٹ فارمز سے ہٹا دیا گیا اور اس کی اشاعت میں ملوث ذمہ دار افراد کے خلاف فوری انتظامی کارروائی بھی عمل میں لائی گئی۔ جیو نیوز کا کہنا ہے کہ عوامی ردِعمل کے وسیع پیمانے پر سامنے آنے سے قبل ہی وضاحت اور معذرت نشر کر دی گئی تھی تاکہ غلط فہمیوں کا ازالہ کیا جا سکے۔ادارے نے اس واقعے کے باعث کسی بھی فرد یا طبقے کی دل آزاری پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مستقبل میں ادارتی نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے گا اور مذہبی نوعیت کے پروگراموں کی جانچ پڑتال کو مزید سخت کیا جائے گا تاکہ اس قسم کی صورتحال دوبارہ پیدا نہ ہو۔عوامی، مذہبی، سماجی اور صحافتی حلقوں کا کہنا ہے کہ الیکٹرانک میڈیا قومی رائے عامہ کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتا ہے، اس لیے مذہبی معاملات میں معمولی سی غفلت بھی بڑے تنازع کا سبب بن سکتی ہے۔ ان کے مطابق میڈیا اداروں کو آزادیِ صحافت کے ساتھ ساتھ مذہبی احترام، قومی وحدت اور عوامی اعتماد کو بھی ہر حال میں مقدم رکھنا چاہیے۔مبصرین کے مطابق کسی بھی ادارے سے غلطی ہو سکتی ہے، تاہم اصل ذمہ داری اس غلطی کا بروقت اعتراف، اصلاح اور آئندہ کے لیے مؤثر اقدامات کرنا ہے۔ جیو نیوز کی جانب سے وضاحت، معذرت، متنازع مواد کی فوری واپسی اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی ایسے اقدامات ہیں جنہیں ادارے نے اپنی ذمہ داری کے طور پر پیش کیا ہے۔ مستقبل میں بھی قومی میڈیا سے یہی توقع کی جاتی ہے کہ وہ مذہبی معاملات میں انتہائی احتیاط، تحقیق اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے عوامی اعتماد اور قومی یکجہتی کو مزید مضبوط بنانے میں اپنا مثبت کردار ادا کرے گا۔*