“ایران۔امریکہ مذاکرات اور مشرق وسطی کا مستقبل”

تحریر:اللہ نوازخان

allahnawazk012@gmail.com
ایران اور امریکہ کے درمیان جنگی مذاکرات بہت ہی پیچیدہ صورتحال اختیار کر چکے ہیں۔جنگ کے امکانات نہ ہونے کی باوجود بھی جنگ شروع ہو سکتی ہے۔اس جنگ کے اثرات عالمی طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔خلیجی ممالک کو بھی اس جنگ کی قیمت چکانا پڑ رہی ہے۔ایران معاشی اور دفاعی لحاظ سے کمزور ہونے کے باوجود بھی اپنی اہمیت منوا چکا ہے۔مذاکرات اگر ناکام ہوتے ہیں تو سردجنگ شروع ہو جائے گی۔ایران کو کمزور کرنے کے لیے اس پر دباؤ بڑھادیا جائے گا۔جوابی رد عمل کے طور پر ایران خلیجی ممالک کی پریشانی میں اضافہ کر سکتا ہے۔یہ بھی ہو سکتا ہے کہ امریکہ کو نقصان پہنچائے۔آبنائےہرمز کو مکمل طور پر بند کیا جا سکتا ہے۔آبنائے ہرمز کی بندش بہت بڑے نقصان کا سبب بنے گی،جس طرح حالیہ بندش کے دوران عالمی طور پر مہنگائی میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔امریکہ کا سب سے بڑا مطالبہ یہی ہے کہ ایران افزودہ یورنیم سے دستبردار ہو جائے۔ایران کاآبنائےہرمزپر کنٹرول بھی امریکہ کے لیے ناقابل برداشت ہے۔یورنیم سے دستبردار ہونا ایران کے لیے مشکل ہے،اسی طرح آبنائےہرمز پر کسی اورکا کنٹرول بھی ایران کے لیے بہت ہی خطرناک ہوگا۔ہو سکتا ہے ایران کو محدود حد تک یورنیم رکھنے کی اجازت مل جائے۔افزودہ یورنیم رکھنے کی اجازت اس لیےبھی مل سکتی ہے کہ امریکہ بحالت مجبوری اجازت دے گا۔جنگ کی صورت میں امریکہ مکمل طور پر کامیابی حاصل نہیں کر سکتا۔جنگ کی صورت میں امریکہ مشرق وسطی میں اپنی پوزیشن کھو بھی سکتا ہے۔مذاکرات ایران اور امریکہ دونوں کے لیے ایک بہترین انتخاب ہیں۔امکان یہی ہے کہ مذاکرات کے ذریعے حل نکال لیا جائے گا۔ایران اور امریکہ کے علاوہ عالمی طور پر بھی اس کا فائدہ ہوگا۔
مذاکرات کی کامیابی کی صورت میں ایران کی تعمیر نو کے لیے بھی سرمایہ درکار ہوگا۔ایک رپورٹ کے مطابق 300 ارب ڈالرز ایران کو دیے جاسکتےہیں۔ایران کی تعمیرنو کے لیے رقم کا مطالبہ خلیجی ممالک سے کیا جا سکتا ہے۔یہ رقم سرمایہ کاری کی صورت میں دیے جانے کاامکان ہے۔اگر سرمایہ کاری کی جائے تو یہ خلیجی ممالک کے لیے بھی بہترہوگا،بصورت دیگر ایران حملہ بھی کر سکتا ہے۔خلیجی ممالک بھی بطور ہرجانہ رقم طلب کر سکتے ہیں کیونکہ ایران نےبھی حملےکیے ہیں۔ایران نے خلیجی ممالک پرامریکی اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے حملے کیے۔ایران پر پابندیاں موجود ہیں،ہو سکتا ہے کچھ پابندیاں ہٹا دی جائیں۔11 جولائی کو مذاکرات ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔پاکستان یاکسی اور ملک میں مذاکرات ہو سکتے ہیں۔خلیجی ممالک بھی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ جنگ مستقل بنیادوں پر رک جائے۔جنگ کی صورت میں امریکہ کی بجائے ان خلیجی ممالک کا نقصان زیادہ ہو رہا ہے۔اس جنگ کی وجہ سے تیل کی تجارت متاثر ہو رہی ہے۔اب اگر مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو ایران کی تعمیر نوکے لیے فنڈز امریکہ سے بھی لیے جا سکتے ہیں اور بطور امداد خلیجی ممالک سے بھی حاصل کیے جا سکتے ہیں۔امداد کی بجائے خلیجی ممالک قرض کی صورت میں رقم دینا چاہیں گے۔بہرحال فنڈنگ کسی نہ کسی طرح ہو ہی جائے گی۔اصل مسئلہ کشیدگی کا خاتمہ ہے اور کشیدگی ختم کرنےکے لیے خلیجی ممالک کی طرف سے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔پاکستان بھی سفارتی ذرائع سے مسلسل کوشش کر رہا ہے کہ یہ تنازع ختم ہو جائے۔اس تنازعے کا خاتمہ بہت بڑی کامیابی ہوگی۔مسئلہ اگر کسی صورت میں الجھ گیا تو بہت بڑی جنگ چھڑ سکتی ہے۔
امریکہ اور ایران تنازعےکا نقصان خلیجی ممالک بھی اٹھا رہے ہیں۔یورنیم کا ذکر مذاکرات میں مسلسل کیا جا رہا ہے لیکن بیلسٹک میزائلوں کا ذکر کوئی خاص نہیں کیا جاتا۔اس جنگ میں بیلسٹک میزائلوں کا بھی استعمال کیا گیا۔بیلسٹک میزائل ایران کے پاس موجود ہیں اور خلیجی ممالک ان سے خوفزدہ بھی ہیں۔ایران کے کچھ پڑوسیوں کے ساتھ تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں۔امریکہ کے ساتھ جنگ بندی مذاکرات کی کامیابی کے بعد ایران دوسرے ممالک سے بھی الجھ سکتا ہے۔خلیجی ممالک کے لیے سیکیورٹی مسائل پیدا ہو جائیں گے۔ایران کے ساتھ دفاعی معاہدات بھی کیے جا سکتے ہیں۔خلیجی ممالک سلامتی کے لیے اسلحہ کی خریداری بھی کریں گے۔حالیہ امریکہ ایران جنگ کی وجہ سے جن ممالک پر حملے ہوئے،وہ معاشی طور پر تو مضبوط ہیں لیکن دفاعی لحاظ سے کمزور ہیں۔امریکی سیکیورٹی ان کو مکمل تحفظ دینے میں ناکام رہی ہے۔خلیجی ممالک کی کوشش یہی ہوگی کہ دفاعی طور پر خود کو مضبوط کریں۔امریکہ بھی گرفت کو مضبوط رکھنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گا۔امریکہ کو بھی آسانی سے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔جن ممالک کو امریکہ سیکیورٹی دے رہا ہے،ان کے تحفظ کے لیے امریکہ موجود ہوگا۔اس لیے یہ بھی نہیں کہاجا سکتا کہ ایران پورے مشرق وسطی پر اپنا کنٹرول مضبوط کر لے گا۔بہرحال یہ مسائل مستقبل میں بھی موجود رہیں گے۔مشرق وسطی میں امن کے لیے تمام ممالک کا اتحاد ضروری ہے،لیکن اتحاد انتہائی مشکل ہے۔مشرق وسطی کے ممالک کا اتحاد اس لیے انتہائی مشکل ہے کہ ان کے درمیان سنگین اختلافات پائے جاتے ہیں۔ان اختلافات کا خاتمہ انتہائی مشکل ہے لیکن سلامتی کے لیے ان کا متحد ہونا ضروری ہے۔
امریکہ یقین دہانی کرا رہا ہے کہ اتحادیوں کا ساتھ دیا جائے گا۔جون میں مارکو روبیو نے کویت میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ہم کوئی ایسا معاہدہ نہیں کریں گے جو خطے میں ہمارے اتحادیوں،ہمارے دیرینہ اتحادیوں کی سیکیورٹی کو کمزور کرے۔روبیو نے اصرار کرتے ہوئے کہاتھا کہ یہ معاہدہ ہمارے شراکت داروں کے ساتھ مکمل طور پرہم آہنگ ہوگا۔خلیجی ممالک کی تشویش بجا ہے کہ ان کی سلامتی شدید خطرے میں ہے۔ایران اگر اس خطرناک صورتحال سے نکل آتا ہے تو مستقبل میں بہت کچھ حاصل کر سکتا ہے۔کسی بھی ملک کے ساتھ ایران کےدفاعی اور تجارتی تعلقات بڑھ سکتے ہیں۔اسلحہ کی فروخت بھی ایران کو معاشی طور پر مضبوط کر دے گی۔خلیجی ممالک کے لیے ایران خطرہ ہے لیکن سب سے بڑا خطرہ اسرائیل ہے۔اسرائیل کے خلاف ایران کی سربراہی میں ایک اتحاد بھی بن سکتا ہے۔مشرق وسطی میں بدامنی پھیلانے کا سب سے بڑا ذمہ دار اسرائیل کوکہاجاتاہے۔بہرحال 11 جولائی کے مذاکرات کا کیا نتیجہ نکلتا ہے،کچھ کہنا قبل از وقت ہے.یہ نتیجہ خیز مذاکرات نہیں ہوں گے،بلکہ اس سلسلہ کی ایک کڑی ہوں گے جو جاری ہیں۔مشرق وسطی میں امن کی ضرورت ہے اور امن کے لیے عالمی برادری کوشش کرے۔