الزامات، اقتدار اور پاکستان کا وقار
تحریر: سلمان احمد قریشی
کسی بھی مہذب معاشرے کی پہچان یہ نہیں کہ وہاں جرائم نہیں ہوتے، بلکہ یہ ہے کہ جرم کے الزام کے بعد ریاست، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور عدالتی نظام کس حد تک غیرجانبداری، شفافیت اور انصاف کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ لاہور میں دو غیر ملکی خواتین سے متعلق سامنے آنے والا حالیہ واقعہ بھی اسی نوعیت کا ایک حساس اور اہم معاملہ ہے۔ اس مقدمے کے حقائق، ذمہ داروں کا تعین اور سزا کا فیصلہ صرف عدالت اور قانون کا اختیار ہے۔ اس لیے کسی فرد کو عدالت کے فیصلے سے پہلے مجرم قرار دینا نہ قانونی طور پر درست ہے اور نہ صحافتی اخلاقیات اس کی اجازت دیتی ہیں۔بدقسمتی سے پاکستان میں ہر حساس واقعے کے بعد سوشل میڈیا عدالت بن جاتا ہے۔ چند گھنٹوں میں فیصلے بھی صادر ہو جاتے ہیں، کردار کشی بھی شروع ہو جاتی ہے اور سیاسی وفاداریوں کے مطابق تجزیے بھی سامنے سننے کو ملتے ہیں۔ ایک طبقہ الزام ثابت ہونے سے پہلے سزا سنا دیتا ہے جبکہ دوسرا طبقہ تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے صفائیاں پیش کرنا شروع کر دیتا ہے۔ دونوں رویے انصاف کے بنیادی اصولوں کے منافی ہیں۔
اس تمام ہنگامے کے درمیان اگر کسی بات نے سیاسی حلقوں میں زیادہ توجہ حاصل کی ہے تو وہ سینیٹر فیصل واوڈا کا بیان ہے۔ فیصل واوڈا پاکستان کی سیاست کا ایک منفرد کردار ہیں۔ وہ اکثر ایسے موضوعات پر بھی کھل کر بات کرتے ہیں جن پر بڑی سیاسی جماعتیں خاموش رہنا ہی مناسب سمجھتی ہیں۔ ان کا انداز جارحانہ ضرور ہوتا ہے، لیکن یہی ان کی سیاسی شناخت بھی بن چکا ہے۔ وہ اکثر ایسے سوالات اٹھاتے ہیں جو بعد میں قومی بحث کا موضوع بن جاتے ہیں۔
اس معاملے میں بھی انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر مطالبہ کیا کہ اگر ایک بااثر سیاسی خاندان کے قریبی رشتہ دار پر اس نوعیت کے سنگین الزامات لگے ہیں تو حکومت کو مکمل شفافیت اختیار کرنی چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار اخلاقی ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور استعفیٰ دیں۔ ساتھ ہی انہوں نے الزام عائد کیا کہ کیس کو دبانے یا اس کی نوعیت تبدیل کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ یہ تمام باتیں اس وقت تک سیاسی مؤقف اور الزامات ہیں جن کی تصدیق یا تردید متعلقہ تحقیقاتی اور عدالتی عمل ہی کر سکتا ہے۔ فیصل واوڈا درست ہیں یا غلط،سوال یہ نہیں اصل سوال یہ ہے کہ کیا ریاست اس تاثر کو ختم کرنے میں کامیاب ہو پاتی ہے کہ بااثر افراد کے مقدمات عام شہریوں سے مختلف انداز میں چلائے جاتے ہیں۔ یہی وہ سوال ہے جو ہر حکومت کے سامنے کھڑا ہوتا ہے۔پاکستان کی سیاسی تاریخ ایسے واقعات سے خالی نہیں۔ ماضی میں بھی متعدد بااثر سیاسی خاندانوں، کاروباری شخصیات اور شوبز سے وابستہ افراد یا ان کے اہلِ خانہ مختلف مقدمات میں الزامات کی زد میں آتے رہے ہیں۔ ان میں بعض مقدمات میں بعد ازاں عدالتوں نے ملزمان کو بری کیا، بعض میں سزائیں ہوئیں اور کئی کیسز برسوں تک قانونی پیچیدگیوں کا شکار رہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی ایک واقعے کو بنیاد بنا کر کسی شخصیت کو مجرم قرار دینا بھی غلط ہے اور محض اثرورسوخ کی بنیاد پر کسی کو قانون سے بالاتر سمجھنا بھی انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے۔
معروف شخصیات کے خاندانوں سے مختلف ادوار میں ایسے مقدمات سامنے آئے جنہوں نے میڈیا کی بھرپور توجہ حاصل کی۔ اسی طرح مختلف سیاسی خاندانوں کی نئی نسل بھی وقتاً فوقتاً تنازعات کا حصہ بنتی رہی ہے۔ لیکن ہر کیس کا انجام ایک ہی اصول طے کرسکتا ہے عدالت کا فیصلہ کیا ہے۔ یہی اصول آئندہ بھی برقرار رہنا چاہیے۔اس مقدمے کی ایک اور حساس جہت یہ ہے کہ شکایت کنندگان غیر ملکی خواتین ہیں۔ اگر کسی ملک میں غیر ملکی شہری خود کو غیر محفوظ محسوس کریں تو اس کے اثرات صرف ایک مقدمے تک محدود نہیں رہتے بلکہ اس سے ریاست کی ساکھ، سرمایہ کاری، سیاحت اور سفارتی تعلقات بھی متاثر ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے مقدمات میں غیر معمولی شفافیت ناگزیر ہو جاتی ہے۔حکومت کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ تحقیقات کے ہر مرحلے میں قانون کو آزادانہ کام کرنے دے۔ اگر الزامات بے بنیاد ہیں تو اس حقیقت کو بھی پوری قوت کے ساتھ سامنے آنا چاہیے تاکہ کسی بے گناہ کی عزت بحال ہو سکے اور اگر الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو پھر ملزم کی سیاسی وابستگی، خاندانی حیثیت یا اثرورسوخ انصاف کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔
اپوزیشن جماعتوں کی خاموشی پر بھی سوال اٹھ رہے ہیں۔ فیصل واوڈا نے بھی یہی نکتہ اٹھایا کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں کی جانب سے اس معاملے پر واضح مؤقف سامنے نہیں آیا۔ اگر سیاست صرف مخالفین کی غلطیوں پر آواز اٹھانے کا نام ہے اور اپنے حلقے میں خاموشی اختیار کر لی جائے تو عوام کا اعتماد کمزور ہوتا ہے۔ قانون کی حکمرانی کا اصول سب پر یکساں لاگو ہونا چاہیے، خواہ معاملہ حکومت سے تعلق رکھتا ہو یا اپوزیشن سے منسوب ہو۔یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان کی سیاست میں اخلاقی ذمہ داری قبول کرنے کی روایت تقریباً ختم ہو چکی ہے۔ دنیا کی کئی جمہوریتوں میں صرف تحقیقات کے شفاف ہونے کے لیے وزراء عارضی طور پر عہدے چھوڑ دیتے ہیں، تاکہ یہ تاثر پیدا نہ ہو کہ وہ تحقیقات پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ پاکستان میں بھی اس روایت پر سنجیدگی سے غور ہونا چاہیے، لیکن ہر مطالبہ آئین، قانون اور انصاف کے دائرے میں رہ کر ہی کیا جانا چاہیے۔
آج پاکستان کو سب سے زیادہ ضرورت جذباتی نعروں کی نہیں بلکہ مضبوط اداروں کی ہے۔ اگر ادارے آزاد ہوں، تحقیقات غیر جانبدار ہوں اور عدالتیں بلاامتیاز فیصلے کریں تو نہ سوشل میڈیا کی عدالتوں کی ضرورت رہے گی اور نہ سیاسی بیانات انصاف کا متبادل بنیں گے۔اس مقدمے میں بھی قوم کی نظریں صرف ایک چیز پر ہونی چاہئیں کیا شفاف، غیر جانبدار اور تیز رفتار انصاف ہورہا ہے۔؟ اگر قانون نے کسی کو بے گناہ قرار دیا تو اس فیصلے کا احترام بھی لازم ہو اور اگر جرم ثابت ہوا تو سزا بھی ایسی ہونی چاہیے جو یہ پیغام دے کہ پاکستان میں قانون کی نظر میں کوئی شخص، کوئی خاندان اور کوئی سیاسی حیثیت انصاف سے بالاتر نہیں۔ریاستوں کی عزت بیانات سے نہیں، انصاف سے قائم ہوتی ہے۔ یہی اصول پاکستان کی عزت، قانون کی بالادستی اور دنیا میں ہمارے وقار کی حقیقی ضمانت ہے۔ملکی وقار سب سے مقدم ہے یہ شخصیات، سیاسی وابستگی اور حکومتی عہدے قانون کی بالادستی کے لئے ہیں۔













