دبنگ خاتون افسر صدف ارشاد کا تبادلہ، ٹوبہ ٹیک سنگھ ایک فرض شناس آفیسر سے محروم

تحریر: محمد زاہد مجید انور

سرکاری اداروں کی کامیابی کا انحصار صرف قوانین یا وسائل پر نہیں بلکہ ان افسران پر بھی ہوتا ہے جو اپنی دیانت، محنت، جرأت اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں سے اداروں کو عوام کا اعتماد دلانے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں پیرا فورس کے قیام کے بعد اگر کسی افسر نے اپنی انتھک محنت اور عملی اقدامات سے اس ادارے کو ایک مؤثر اور فعال ادارے کے طور پر متعارف کرایا تو ان میں ڈویژنل انفورسمنٹ آفیسر میڈم صدف ارشاد کا نام نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔حکومت پنجاب کی جانب سے ان کا ٹوبہ ٹیک سنگھ سے تبادلہ بلاشبہ ایک انتظامی فیصلہ ہے، تاہم اس فیصلے پر عوامی، سماجی اور کاروباری حلقوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ میڈم صدف ارشاد نے مختصر عرصے میں اپنی بہترین کارکردگی، قانون کی بالادستی، جرأت مندانہ فیصلوں اور غیر جانبدارانہ طرزِ عمل سے پیرا فورس کو ایک مضبوط شناخت دی۔جب پیرا فورس کا قیام عمل میں آیا تو عوام کے لیے یہ ایک نیا ادارہ تھا، مگر میڈم صدف ارشاد نے دن رات محنت کرتے ہوئے نہ صرف اس ادارے کو فعال بنایا بلکہ عوام میں اس پر اعتماد بھی پیدا کیا۔ انہوں نے سرکاری املاک کے تحفظ، تجاوزات کے خاتمے، حکومتی احکامات پر عملدرآمد اور قانون کی عملداری کے لیے بھرپور کردار ادا کیا۔ان کی ایک اہم خوبی یہ بھی رہی کہ انہوں نے انجمن تاجران، کاروباری تنظیموں، سماجی شخصیات اور شہری نمائندوں کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھا۔ جہاں ممکن ہوا وہاں مسائل کو باہمی مشاورت سے حل کیا اور جہاں قانون شکنی سامنے آئی وہاں بلاامتیاز کارروائی بھی کی۔ یہی متوازن طرزِ عمل ایک کامیاب افسر کی پہچان ہوتا ہے۔ٹوبہ ٹیک سنگھ کے عوام کا کہنا ہے کہ میڈم صدف ارشاد نے کبھی دباؤ کو قبول نہیں کیا بلکہ ہمیشہ قانون اور میرٹ کو ترجیح دی۔ ان کی قیادت میں پیرا فورس کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی اور ادارے کی ساکھ مضبوط ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ آج ان کے تبادلے کی خبر پر مختلف حلقوں میں افسوس اور بے چینی پائی جا رہی ہے۔شہریوں، تاجروں اور سماجی تنظیموں نے حکومت پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ اس تبادلے پر نظرثانی کرتے ہوئے میڈم صدف ارشاد کو دوبارہ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں تعینات کیا جائے تاکہ جاری ترقیاتی اور انفورسمنٹ اقدامات کا تسلسل برقرار رہ سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ فرض شناس، باصلاحیت اور عوام دوست افسران کسی بھی ضلع کا قیمتی اثاثہ ہوتے ہیں اور ایسے افسران کی حوصلہ افزائی ہی مضبوط اور مؤثر طرزِ حکمرانی کی ضمانت ہے۔یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ سرکاری ملازمین کے تبادلے انتظامی نظام کا معمول ہوتے ہیں اور حکومت اپنے ادارہ جاتی تقاضوں کے مطابق فیصلے کرتی ہے۔ تاہم جب کسی افسر کی کارکردگی عوامی سطح پر قابلِ قدر سمجھی جائے تو یہ اس کی محنت، دیانت اور خدمت کا اعتراف ہوتا ہے۔امید کی جانی چاہیے کہ حکومت پنجاب عوامی جذبات اور مقامی حلقوں کی آراء کو مدنظر رکھتے ہوئے مناسب فیصلہ کرے گی، جبکہ میڈم صدف ارشاد جہاں بھی اپنی آئندہ ذمہ داریاں انجام دیں گی، وہ اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور فرض شناسی کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے عوامی خدمت کا سفر اسی جذبے سے جاری رکھیں گی۔