ختم نبوت زندہ باد۔
تحریر حاجی غلام شبیر منہاس
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
7 ستبمر 2024 کی پرنور شام جب لاکھوں عاشقان رسول صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم ختم نبوت پہ قانون سازی کے پچاس سال مکمل ہونے پر پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور کے تاریخی مینار پاکستان کے سائے تلے جمع ہو کر اظہار تشکر و مسرت کر رہے تھے تو عین اسی وقت شام کے گہرے ہوتے سایوں میں کراچی کا ایک کڑیل اور خوبصورت نوجوان ہاسپیٹل کی آئی سی یو میں زندگی کی آخری سانسیں لے رہا تھا۔ محمد نعیم شیخ ختم نبوت کی گولڈن جوبلی کے دن سے 13 روز قبل 25 اگست کو تحفظ ختم نبوت کی ریلی میں دشمنان اسلام کیطرف سے کئی گئی فائرنگ میں زخمی ہوا تھا۔۔دو ہفتے زندگی اور موت کی کشکمش میں رہنے کے بعد کل شام اپنا ریزہ ریزہ خون آلود جسم لیئے خالق حقیقی سے جا ملا۔۔یہ اسی جماعت کا کارکن تھا جس نے سپریم کورٹ کے متنازعہ فیصلے کے بعد وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سب سے پہلے تحفظ ختم نبوت مارچ کیا تھا۔۔۔مگر ان گنت لوگ سوال کر رہے ہیں کہ انکو اس سٹیج پہ مدعو کیوں نہیں کیا گیا۔۔۔
7 ستمبر 1974ء کے تاریخی فیصلے میں اس وقت کے اکابرین امت نے اپنے حصے سے بڑھ کر کام کیا۔۔۔مگر ختم نبوت کے حساس ترین عنوان پہ نقب لگانے کیلئے نظریہ امامت کے دروازے کو اس وقت کے مخصوص حالات کے پیش نظر بند نہیں کیا جا سکا۔۔۔اور اسی ضرورت یعنی 7 ستمبر کے مشن کی تکمیل کیلئے “6 ستبمر کا نظریہ عزیمت “وجود میں آیا۔۔اہل نظر جانتے ہیں کہ اگر 7 ستمبر کے دن سب سوراخ بند کر دیئے جاتے تو پاکستان کی تاریخ میں 6 ستبمر کی ضرورت کبھی نہ پڑتی۔۔
ختم نبوت کی گولڈن جوبلی کانفرنس ہر حوالہ سے شاندار تھی۔۔اور حال ہی میں سپریم کورٹ کے متنازعہ فیصلے( جسکو بعد میں ریویو کر لیا گیا، مگر تفصیلی فیصلہ آنا باقی یے) کے بعد یہ پاور شو ضروری ہو گیا تھا۔ سو اسکو چھوٹی چھوٹی خواہشات، سوالات یا گلے شکووں کی بھینٹ نہ چڑھایا جائے۔۔۔البتہ چہ جایئکہ اسکی جو بھی وجہ ہو بحرحال نظریاتی سٹیک ہولڈر کو نظرانداز کرنا قطعی مناسب نہیں۔۔۔فی الوقت اگر کسی حکمت یا مصلحت کے تحت ایسا کیا گیا تو امید قوی ہے کہ مستقبل میں ایسا نہیں ہو گا۔۔۔کیونکہ بزرگ جانتے ہیں کہ چوری کھانے کے بعد گوشت اور خون دینے کی باری بھی آتی ہے۔۔۔اور ویسے بھی یہ اور اس جیسی قومی کانفرنسز پہ تمام ہم زہن جماعتوں بلکہ مکاتب فکر کو دعوت دینی چاہیئے۔۔اسکو اپنی ذاتیات یا نیکی بدی کی نظر سے نہیں دیکھنا چاہیئے۔۔
لاہور سے قافلے جب واپس اپنے اپنے علاقوں کیلئے محو سفر تھے تو اس وقت وہ لوگ جن کے بارے سوالات ہو رہے ہیں۔۔محمد نعیم شیخ شہید کی نماز جنازہ ادا کر کے اسکو منوں مٹی کے نیچے دفن کر رہے تھے۔۔۔رب کی اپنی حکمتیں ہیں۔۔۔وہ کس کو کس طرح نواز دے۔۔۔مگر ہمیں بحرحال اپنے ہر قول و فعل میں خدائے بزرگ و برتر سے ڈرتے رہنا چاہیئے۔۔۔کہ کہیں ہمارے کسی رویئے، قول، فعل یا عمل کی نعیم شیخ جیسا نوجوان بارگاہ خداوندی میں شکایت نہ کر دے۔۔
اللہ تعالی پاکستان اور اسلام کو ہمیشہ قائم و دائم رکھے۔۔آمین
غلام شبیر منہاس۔










