پانی کی وجہ سےتیسری عالمی جنگ چھڑنےکاخطرہ

تحریر: اللہ نوازخان

allahnawazk012@gmail.com

پانی قدرت کا ایک عظیم تحفہ ہےاور اس کے بغیر زندگی کا تصور تک نہیں کیا جا سکتا۔انسانی زندگی کے علاوہ تمام جانداروں کے لیے پانی ضروری عنصر ہے۔کوئی سا بھی جاندار ہو،چاہے جانور ہوں یا درخت اور پودے،پانی کے بغیر اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکتے۔اللہ تعالی نےقرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے”اور ہم نے ہر جاندار کو پانی سے پیدا فرمایا”(النور)قرآن کی یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ پانی سے ہرجاندار پیدا کیا گیا ہے۔جوں جوں دنیا کی آبادی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے،اتنا ہی پانی کا بحران بڑھتا جا رہا ہے۔بڑھتی آبادی نے دیگر مسائل کے ساتھ پانی کے مسائل بھی پیدا کر دیے ہیں۔اقتصادی سرگرمیوں نے بھی دنیا میں پانی کے ذخائر پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔پانی جہاں پینے کے لیےاستعمال ہوتا ہے وہاں دیگر ضروریات کے لیےبھی استعمال ہوتا ہے۔زمینوں کو سیراب کرنے کے لیےپانی کی ضرورت ہوتی ہےاور انڈسٹریز میں بھی پانی کا استعمال کیا جاتا ہے۔پانی کا استعمال بہت بڑھ رہا ہےاور مستقبل میں شدید بحران پیدا ہو جائے گا۔ماہرین کے نزدیک پانی پر مستقبل میں جنگیں چھڑ سکتی ہیں اور اس بات کا بھی امکان ہے کہ تیسری عالمی جنگ پانی کی وجہ سے ہی چھڑ جائے۔دنیا میں کروڑوں افراد کو اس وقت بھی صاف پانی دستیاب نہیں۔افسوس ناک بات یہ ہے کہ کئی جگہوں پر پانی کوبے دردی سے ضائع کیا جا رہا ہے۔ویسے تو پوری دنیا آبی مسائل سے دوچار ہو رہی ہے لیکن کچھ ممالک اور خطے شدید متاثر ہیں۔مشرق وسطی،چلی،برصغیر پاک و ہنداور کئی ممالک پانی کی کمی کا سامنا کر رہے ہیں۔کئی ممالک کے درمیان پانی کی مسئلہ پر سرد جنگ کا ماحول بنا ہوا ہے۔پاکستان اور انڈیا کا آبی تنازعہ کئی دہائیوں سے جاری ہے۔انڈیا کے بنائے گئے ڈیمز کو پاکستان حق تلفی کہہ رہا ہےاور مستقبل میں مزید تنازعات اٹھیں گے۔دریائے نیل کی وجہ سےسوڈان،مصر،ایتھوپیا اور دیگر ممالک کے درمیان بھی تنازعہ اٹھا ہوا ہے۔دریائےاردن کی وجہ سےاردن، لبنان وغیرہ الجھے ہوئے ہیں۔دریائےدجلہ اور فرات بھی کئی ممالک کے درمیان وجہ تنازعہ بنے ہوئے ہیں۔یہ تنازعات جنگ کی شکل اختیار کر سکتے ہیں اوریوں تیسری عالمی جنگ بھی برپا ہو سکتی ہے۔
پانی کی کمی کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔نقل مکانی بھی پانی کو شدید متاثر کر سکتی ہے۔جنگوں یا دوسری وجوہات کی وجہ سے نقل مکانی کرنے والے افراد پانی کی کمی کا سبب بن سکتے ہیں۔اگر ایک ملک میں پناہ گزین آتے ہیں تولازمی بات ہےکہ وہ پانی کا بھی استعمال کریں گےاور یوں پانی کی کمی کا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے۔انسانوں اور جانوروں کے لیےخوراک بھی زمین سے پیدا ہوتی ہے اور خوراک کی پیدائش کے لیے پانی ضروری ہے۔روزگار اورآمدنی کے لیے فیکٹریز/صنعتیں ضروری ہیں،لیکن ان میں پانی کی بھی بے تحاشہ ضرورت ہوتی ہے۔زمینوں کو سیراب کرنے کے لیےٹیوب ویل یادوسرے ذرائع استعمال کیے جاتے ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق 1914 سے لے کر 1961 کے درمیان عالمی سطح پر تازہ پانی کے نکالے جانے کی شرح میں 2.5 فیصد کے حساب سے اضافہ ہوا ہے۔50 سے 60 سال کے درمیان فصلوں کی آبپاشی کے لیے پانی کی ضرورت بہت ہی زیادہ ہو گئی ہے۔فصلوں،پودوں وغیرہ کے لیےاستعمال ہونے والا پانی 67 فیصد ہے۔صنعتوں کے لیے پانی کی ضرورت 21 فیصد ہےاور گھروں میں پینےکےلیے اور دوسری ضروریات کے لیے استعمال ہونے والےپانی کی ضرورت 10 فیصد کے قریب ہے۔پانی کا زیادہ استعمال،کمی کا سبب بن رہا ہے۔موسمیاتی تبدیلیاں بھی پانی پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔نقل مکانی بڑھ سکتی ہےاور بڑھتی نقل مکانی لازما مسائل پیدا کرے گی۔اقوام متحدہ اور ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق 2030 تک 70 کروڑ افراد کو نقل مکانی کرنی پڑے گی اور یہ نقل مکانی پانی پر دباؤ بڑھا دے گی۔بارشوں کی کمی کا سامنا بھی مستقبل میں خاص مسائل پیدا کرے گا۔
پانی ایک نعمت ہےاور اگر نعمت کی قدر نہ کی جائے تو چھن بھی سکتی ہے۔اب بھی کئی علاقے پانی جیسی نعمت سے محروم ہیں۔کئی علاقے پانی کی نعمت کو ترس رہے ہیں،ان علاقوں میں گدلا اور مضر صحت پانی پیا جاتا ہے جو جسم کو کئی بیماریوں میں مبتلا کر دیتا ہے۔بعض افراد مہنگا پانی خریدتے ہیں اور جو افراد مہنگا پانی نہیں خرید سکتے وہ جوہڑوں اور تالابوں کا پانی استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔جن افراد کو پانی جیسی نعمت میسر ہے،وہ اس نعمت کی قدر کریں اورضائع نہ کریں۔جن افراد کو پانی آسانی سے حاصل ہو رہا ہے وہ اللہ کا شکر ادا کریں۔ایک حدیث کے مطابق”اللہ تعالی کو یہ پسند ہےکہ بندہ کچھ کھائے یا پیے تو اس پر اللہ کی تعریف کرے،کیونکہ پانی اللہ کی عظیم نعمت ہے۔(مسلم شریف)پانی جیسی نعمت کی قدر کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ایک حدیث کے مطابق”آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے بہتے پانی پر پیشاب کرنے سے منع کیا ہے”(طبرانی)پانی یوں تو قدرت خداوندی کا انمول عطیہ اور مفت دستیاب ہے،لیکن کہیں مہنگے داموں خریدا جاتا ہے۔اس لیے پانی کو ضائع کرنے سے اجتناب کیا جائے۔
اللہ تعالی نے قرآن حکیم میں پانی کی اہمیت کئی جگہوں پر واضح کی ہے۔قرآن حکیم میں ارشاد ہے”کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالی نے آسمان سے پانی برسایا،پھر زمین میں اس کے چشمے رواں کیے،پھر اس کے ذریعے کھیتی پیدا کرتا ہے،جس کے رنگ جداگانہ ہوتے ہیں۔پھر وہ(تیار ہو کر)خشک ہو جاتی ہے،پھر (پکنے کے بعد) تو اسے زرد دیکھتا ہے،پھر وہ اسے چورا چورا کر دیتا ہے،بے شک اس میں عقل والوں کی نشانیاں ہیں”(الزمر)دوسری جگہ پر ارشاد فرمایا”کھاؤ،پیو اور اسراف نہ کرو”(العمران)کھانے کے ساتھ پینا تو پڑتا ہی ہے،لیکن اسراف سے منع کیا گیا ہے۔اسلام وضو جیسےفعل میں بھی اسراف سے روکتا ہے۔ایک حدیث کے مطابق،حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سعد بن وقاص رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس سےگزرے،اس حال میں کہ وہ وضو کر رہے تھےتو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ اسراف کیوں ہے؟تو حضرت سعد رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کیا،اے اللہ کے رسول کیا وضو میں بھی اسراف ہوتا ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا،جی ہاں اگرچہ تم بہتی نہر پر ہی بیٹھےہو۔وضو جیسے مقدس فعل میں اسراف سے منع کرنا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ دوسرے طریقوں سے ضائع کرنا کتنے گناہ کا سبب ہوگا۔پانی سے غسل کیا جاتا ہےاور یوں پانی جسم کو پاکیزگی عطا کرتا ہے۔غسل کرتے وقت پانی کا کم استعمال کیا جائے۔مساجد میں وضو کرتے وقت پانی کے اسراف سے بچنے کے لیے نل کوحسب ضرورت کھولا جائے۔
جوں جوں آبادی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے،توں توں پانی کا استعمال بھی بڑھ رہا ہے۔انسانوں کو رہنے کے لیے مکانات کی ضرورت ہوتی ہے اور مکانات میں پانی کا استعمال ضروری ہوتا ہے۔زیر زمین پانی نکالا جا رہا ہے،جو پانی کی سطح کم کرنے کا سبب بن رہا ہے۔بارشیں کم ہو رہی ہیں اور یوں پانی کی کمی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔سمندری پانی کو بھی استعمال کے قابل بنایا جا سکتا ہے۔جہاں پانی کی شدید کمی ہے وہاں سمندری پانی کومخصوص ذرائع سے پانی پہنچایاجائے۔سمندری پانی بہت ہی گندا ہوتا ہے،اس کو فلٹر کرنے میں کافی اخراجات آتے ہیں،اقوام متحدہ کو چاہیے کہ سمندری پانی کو فلٹر کرنے کے لیے خصوصی بجٹ کا بندوبست کرے۔حکومتوں کے لیے بھی ضروری ہے کہ ہر شہری تک صاف پانی پہنچائیں،کیونکہ صاف پانی ہر شہری کا حق ہے۔تمام عالمی برادری پانی کی کمی کا نوٹس لے،ورنہ مستقبل میں خوفناک بحران پیدا ہو جائے گا۔یہ بحران تیسری عالنی جنگ بھی چھیڑ سکتا ہے اور اس کا کافی امکان ہے کہ چھڑ جائے۔پانی جیسا مسئلہ سنجیدگی کا متقاضی ہے،اس کو معمولی نہ سمجھا جائے۔