اسرائیل اورحماس کےدرمیان جنگ بندی معاہدہ
تحریر:اللہ نوازخان
allahnawazk012@gmail.com
ایک اچھی خبر سننے کو مل رہی ہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی معاہدہ ہو چکا ہے۔عرب نیوز،ترکیہ میڈیا اور قطری وزیراعظم نے اس معاہدے کی تصدیق کی ہے۔7 اکتوبر 2023 سے جاری جنگ کےرکنے کا امکان پیدا ہو گیا ہےاور امید پیدا ہو گئی ہے کہ مزید تباہی نہیں ہوگی۔مختلف رپورٹس کے مطابق اس جنگ میں غزہ کے 50 ہزار افراد شہید ہو گئے ہیں۔کچھ رپورٹس بتاتی ہیں کہ شہادتوں کی تعداد ایک لاکھ سے بڑھ چکی ہے۔زخمیوں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے۔غزہ کی تقریبا کل آبادی 23 لاکھ تھی جس میں 20 لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔اسرائیل نے 15 ماہ سے زائد عرصہ میں غزہ پر بےتحاشہ بمباری کی۔مسجدوں،عبادت گاہوں،سکولوں اور بازاروں کے علاوہ رہائشی علاقوں پر بھی بمباری کی جاتی رہی ہےاور غزہ تباہی کا نمونہ بن چکا ہے۔اس جنگ میں غزہ کےمسلمانوں کا نقصان بہت زیادہ ہوا۔زخمیوں اوربیماروں کو علاج کی سہولیات دستیاب نہ ہونے کی وجہ سےبہت زیادہ اذیت اٹھانا پڑی اورکئی افرادمناسب علاج کی عدم دستیابی کی وجہ سے شہید ہوئے۔خوراک کی کمی نے بھی اموات میں اضافہ کیا،سردی اور دیگر کئی مسائل غزہ کے مظلوم رہائشوں کے لیے عذاب ثابت ہوتےرہے۔عرب ریاستوں خصوصی طور پر اسلامی ریاستوں کی خاموشی تکلیف دہ ثابت ہوتی رہی ہے۔اسرائیل کے ظالمانہ اقدامات کے خلاف دنیا بھر میں مظاہرے بھی ہوتے رہے،عالمی عدالت انصاف نیتن یاہوکو بین القوامی مجرم قرار دے چکی ہے،لیکن امریکہ اور اس کے اتحادی اسرائیل کی کھل کر مدد کرتے رہے۔اسرائیل کی وحشیانہ بربریت جاری رہی۔جنگ بندی کے معاہدے کی کوششیں کافی عرصہ سے جاری تھیں،لیکن اسرائیل اپنی طاقت کےغرورکی وجہ سے معاہدہ کرنے سے انکار کرتا رہاہے۔اب معاہدہ ہو رہا ہےتو فلسطینی خوشی کی مارے جشن منا رہے ہیں۔تباہ حال فلسطینیوں کے پاس اب کچھ نہیں بچا،لیکن وہ پر امید ہیں کہ مستقبل بہتر ہوگا۔کچھ اطلاعات کے مطابق اسرائیلی فوج نے جنوبی غزہ سےنکلنا شروع کر دیا ہے۔مصرنے رفح سرحدی گزرگاہ کے پاس میڈیکل کیمپ قائم کر دیا ہےاور مصری ہلال احمر کی میڈیکل تنظیمیں بھی صوبہ شمالی سینا میں پہنچ گئی ہیں۔زخمی اور بیمار افراد کا علاج شروع کر دیا گیا ہے۔
اسرائیل اور حماس کے درمیان اس معاہدے کا اطلاق 19۔جنوری سے ہوگااور قیدیوں کی رہائی کا امکان اتوار تک ہے۔یہ معاہدہ تین مراحل پر مشتمل ہے۔اس معاہدے پر اسرائیل،قطر،حماس اور امریکہ کے دستخط ہیں۔پہلے مرحلے میں چھ ہفتوں کے دوران سینکڑوں فلسطینی قیدیوں کے بدلے میں 33 اسرائیلی یرمغالی رہا کیے جائیں گے۔اس دوران اسرائیلی فوج غزہ کی سرحد کے اندر 700 میٹر تک خود کو محدود کرے گی۔اسرائیل تقریبا دوہزار قیدی رہا کرے گا اور ان قیدیوں میں اڑھائی سو قیدی عمر قید پانے والے بھی شامل ہیں اور حماس بدلے میں تینتیس یرمغالی رہا کرے گا۔اسرائیل مصر کے ساتھ رفح کراسنگ کھول دےگا۔دوسرے مرحلے میں زندہ مرد فوجیوں اور شہریوں کو اسرائیل کے حوالے کیا جائے گا،جب کہ مارے جانے والےاسرائیلیوں کی لاشیں بھی اسرائیل کے حوالے کی جائیں گی۔اسرائیل بھی مزید قیدی رہا کر دے گا۔تیسرے مرحلہ میں غزہ کی دوبارہ تعمیر کا مرحلہ ہوگا،کیونکہ غزہ تباہ ہو چکا ہے۔غزہ کی دوبارہ تعمیر کے لیےکافی عرصہ درکار ہوگا اور اس کے لیے بہت سے سرمائے کی بھی ضرورت ہوگی۔غزہ کے باسیوں کی دوبارہ بحالی میں شدید مشکلات پیش آئیں گی۔اس معاہدے پر عمل درآمد فوری طور پر ہونا چاہیے،کیونکہ جنگ ابھی بھی جاری ہے۔کچھ گھنٹوں میں اسرائیل نے تقریبا ساٹھ سے زیادہ شہری شہید کر دیے ہیں۔جنگ بندی کا معاہدہ تقاضہ کرتا ہے کہ فوری طور پر جنگ بندی ہونی چاہیے،تاکہ مزید فلسطینی شہیدیا زخمی نہ ہو سکیں۔غزہ کی تعمیر نوکے لیےاسلامی ریاستیں فوری طور پر فنڈذ مہیا کریں اورغزہ کے رہائشیوں کی بحالی کے لیے بھی سرمایہ مہیا کریں۔غزہ کے شہریوں کے لیے یہ مشکل وقت ہےاور ان کی مدد کرنا فرض ہے۔خوراک اور ادویات کی قلت نے بھی غزہ میں شدید مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ضروریات زندگی غزہ کے شہریوں کو فوری طور پر حاصل ہونی چاہیے۔
اس معاہدے کو پائیہ تکمیل تک پہنچنے کے لیے کچھ مشکلات پیش آرہی ہیں۔قطر کے وزیر اعظم عبدالرحمان الثانی کے مطابق اسرئیلی کابینہ کی منظوری کے بعد معاہدے کا اطلاق اتوار سے ہوگا۔اسرائیل کی طرف سے بھی اعتراضات اٹھائے جا رہے ہیں۔مثال کے طور پر اسرائیل کا کہنا ہے کہ حماس کچھ غیر ضروری مفاد اٹھانےکےچکرمیں ہے۔اسرائیلی کابینہ بھی اگر اس معاہدے سے انکار کر دے تو پھریہ معاہدہ کینسل ہو سکتا ہے۔اسرائیلی وزیر خزانہ سموتریش اور قومی سلامتی کے وزیر ایتماربن غفیر اس جیسے کسی بھی معاہدے کے خلاف ہیں۔اسرائیل میں کچھ حلقے اس جنگ کو مزید جاری رکھنا چاہتے ہیں،ان کے مطابق اسرائیل مزید مفاد حاصل کر سکتا ہے۔اسرائیل غزہ کے انتظامی امور حماس کو دینے کے حق میں بھی نہیں ہےاور فلسطینی اتھارٹی کو بھی دینے سے انکار کر دیا ہے۔اسرائیل سمجھتا ہے کہ انتظامی امور دوبارہ اگر حماس کے کنٹرول میں آگئے تو اسرائیل کے لیے مستقبل میں مزید مشکلات پیدا ہوں گی۔سیکورٹی کنٹرول تو خود ہی رکھنا چاہتا ہےاور مزید انتظامات عرب امارات کے تعاون سےچلانے کا خواہش مند ہے۔حماس کو اس بات کا خدشہ ہے کہ پہلے مرحلے میں اگریرغمالی رہا کر دیے گئے،تو اسرائیل بعد میں اس معاہدے سے انکار ہی نہ کر دے۔اسرائیل سمجھتا ہے کہ حماس نے کچھ ایسے قیدیوں کے نام بھی رہا ہونے والے قیدیوں کے ناموں میں شامل کر دیے ہیں جو اس کے اراکین ہیں۔اسرائیل ان قیدیوں کو بھی رہا نہیں کرنا چاہتا جو سات اکتوبر 2023 کےحملے میں شامل تھے۔7اکتوبر کے حملے میں شامل ہونے والوں کو رہا نہ کرنااسرائیل کی زیادتی ہے کیونکہ بدلے میں بہت زیادہ نقصان ہو چکا ہے۔اسرائیل صرف عام قیدی رہا کرنا چاہتا ہےاور جو قیدی حماس سے تعلق رکھتے ہیں ان کو رہا کرنے کے حق میں نہیں ہے۔اسرائیل تمام یرغمالیوں کی واپسی چاہتا ہے لیکن یہ معلوم نہیں کہ کتنے مر چکے ہیں اور کتنے زندہ ہیں؟اسرائیل اس بات کا بہانہ بنا کر معاہدے سے انکار کر سکتا ہے کہ اس کے تمام قیدی واپس نہیں کیے گئے۔اسرائیل اس بات کے حق میں بھی ہے کہ اس کی سرحدیں وسیع کی جائیں اور اس کے لیے کچھ دن پہلے گریٹر اسرائیل کے نام کا نقشہ بھی شیئرہواہے۔اس نقشے میں بہت سے علاقوں کو اسرائیل کا حصہ دکھایا گیا ہے۔اس معاہدے کی تکمیل کے لیےابھی کافی مشکلات موجود ہیں۔مشرق وسطی میں امن کے لیے،بلکہ عالمی امن کے لیےضروری ہے کہ فوری طور پر اس معاہدے کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے۔بدامنی کی آگ خطرناک حد تک پھیلتی ہوئی دوسرے خطوں تک بھی جا پہنچے گی۔اسرائیل کو اس بات کا بھی پابند کیا جائے کہ وہ مزید جنگ سے باز رہے۔
اس معاہدے کوفوری طور پر تسلیم کرنے کی ضرورت ہے۔امریکی صدر جو بائیڈن نے بھی اس معاہدے کی تصدیق کی ہے۔امریکی نائب وزیراعظم کمللاہیرس نےوزیر خارجہ انتھونی بلنکن کے ہمراہ پریس کانفرنس میں کہاکہ اس معاہدے کے نتیجے میں غزہ میں جنگ رک سکے گی،فلسطینی شہریوں کو انسانی امداد کی فراہمی ممکن بنائی جائے گی اور یرغمالیوں کو ان کے خاندانوں کے ساتھ 15 ماہ کی قید کے بعد ملنے کا موقع ملے گا۔بعض کے نزدیک ہلاکتیں رک سکتی ہیں لیکن اصل تنازع نہیں رک سکے گا،کیونکہ یہ تنازع کئی دہائیوں پر پھیلا ہوا ہے۔اس معاہدےکی طرف اسرائیل اس لیے بڑھ رہا ہے کیونکہ اس کی فوج میں بھی کچھ آوازیں اٹھ رہی ہیں کہ وہ لڑائی سے عاجزآچکے ہیں اور کہیں کہیں انکار بھی کیا جا رہا ہے۔اسرائیل کےبھاری اخراجات بھی اس کے لیے مسئلہ بنے ہوئے ہیں۔اسرائیل کےبہت سےشہری بھی نہیں چاہتے کہ جنگ جاری رہے۔بہرحال اسرائیل اور حماس کے درمیان معاہدہ ہونے سےامن پسندوں کو خوشی محسوس ہو رہی ہےاور مثبت امید رکھ رہے ہیں کہ اس خطے میں امن آئے گا۔قطر کے ساتھ دوسرے ممالک بھی امن کے لیے کھڑے ہوں۔اسرائیل کو پریشرائز کر کے بھی جنگ بندی کرنے پر مجبور کیا جائے۔کئی دہائیوں سے جاری یہ تنازع اختتام پذیر ہو جائے تویہ بہت ہی بہتر فعل ہوگا۔











