23.مارچ یوم پاکستان

تحریر:اللہ نوازخان

allahnawazk012@gmail.com

23 مارچ ہر سال پاکستان میں یوم پاکستان کے طور پر منایا جاتا ہے۔23 مارچ 1940 کو لاہور میں مسلم لیگ کےجلسے میں ایک جداگانہ مملکت کے لیےقرارداد پیش کی گئی تھی۔سات سال بعد 1947 میں اللہ کی کرم نوازی اور مسلمانوں کی جدوجہد سے ایک علیحدہ مملکت وجود میں آگئی۔پاکستان آسانی سے وجود میں نہیں آیا بلکہ کئی دہائیوں کی جدوجہد کے بعد وجودمیں آیا۔23مارچ کےدن سرکاری چھٹی بھی ہوتی ہے اور مختلف تقاریب بھی منعقد ہوتی ہیں۔ان تقاریب سے جوش حاصل ہوتا ہے کہ پاکستان کی ترقی کے لیےبہت کچھ کیا جائے۔تقاریب کااگر مقصد صرف یہ ہو کہ اس دن چھٹی حاصل ہےاور کچھ ہلا گلا کر لیا جائےتو یہ تقاریب بیکار ہیں۔پاکستانی تقاریب تو جوش وخروش سے مناتے ہیں لیکن کچھ کرنے کا جذبہ نہیں ہوتا۔ان تقاریب کو اس طرح منایاجائےکہ اس سے ہر پاکستانی کو تحریک ملے کہ پاکستان کی ترقی کے لیےکسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔سرکاری سطح پر بھی بہت سی تقاریب کا انعقاد کیا جاتا ہے۔پاکستان کی بقا کے لیے ضروری ہے کہ ہر فرد اپنے آپ کو ملک کا سپاہی سمجھےاور وقت آنے پرملک پہلی ترجیحات میں شامل ہو۔
ازادی اللہ تعالی کی ایک عظیم نعمت ہےاور اس کی قدر وہی جانتے ہیں جو ظلم اور جبر کی زندگیاں بسر کر رہے ہیں۔فلسطینی مسلمان اپنے علاقے میں تباہی کا شکار ہو رہے ہیں۔کشمیر میں بھی ظلم کیا جا رہا ہے۔فلسطینی اور کشمیری اپنی آزادی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں،لیکن افسوس کہ ابھی تک کامیابی سے بہت ہی دور ہیں۔پاکستان ملا ہےتو اس کی قدر کرنی چاہیےاور اللہ کا شکر ادا کرنے کے علاوہ اس کے لیےکچھ کیا جائے۔انڈیا میں رہنے والے مسلمان اپنی عبادتیں تک نہیں کر سکتے،کیونکہ ہندو اکثریت ان پر ہر قسم کا تشدد روا رکھے ہوئے ہے۔پاکستان میں مذہبی آزادی حاصل ہے،چاہے کسی کا کوئی بھی مذہب ہو۔ہر فرد اپنے عقیدے کے مطابق عبادت کر سکتا ہے۔کچھ نادان انتہا پسندی کا مظاہرہ کر کےمذہبی شدت پسندی کا مظاہرہ کر دیتے ہیں،لیکن ان کو پوری قوم کی سپورٹ حاصل نہیں ہوتی۔اکثر اوقات یہ بھی ہوتا ہے کہ غیر مسلم یا منافق قسم کے مسلمان اسلام اور مقدس ہستیوں کے خلاف گستاخیاں اورتوہین کر دیتے ہیں،ان کو بھی اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ گستاخی یا توہین نہ کریں۔پاکستان کے حصول کے لیےبے پناہ جدوجہد کی گئی۔ہجرتیں ہوئیں،پورے پورے خاندان تہ تیغ کر دیے گئے،خواتین کی عزتوں کو پامال کیا گیا،بڑی مشکلوں کے بعد پاکستان کا قیام عمل میں آیا۔بڑی قربانیوں کےبعد حاصل ہونے والا پاکستان اب بھی بہت سی مشکلات میں پھنسا ہوا ہے۔اندرونی اور بیرونی طور پر مختلف قسم کے بحران پیدا ہو چکے ہیں۔فرقہ واریت،لسانی عصبیت اور دیگر کئی قسم کی عصبیتیں پاکستان کو بہت نقصان پہنچا رہی ہیں۔پاکستان اس وقت لہولہان ہو چکا ہےاور حقیقی پاکستان کے لیےبہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔
پاکستان اللہ تعالی کا ایک عظیم انعام ہے۔پاکستان کے حصول کے لیےاس لیے کوششیں کی گئی تھیں کہ ایسی ریاست حاصل ہو جائے،جہاں اسلامی تعلیمات کے مطابق زندگیاں گزاری جا سکیں۔پاکستان کے مخالف نہیں چاہتے کہ پاکستان ترقی کرے اور ایک عظیم اسلامی مملکت بنے۔اول دن سے پاکستان پر ہر قسم کے حملے کیے جا رہے ہیں۔پاکستان کا آئین بنتے بنتے بھی کئی سال گزر گئے،بڑی مشکلوں کے بعد1973ء میں پاکستان کا آئین بنا۔پاکستان پر مختلف قسم کے تجربے بھی کیے گئےاور اپنے مفاد کے لیے اب بھی مختلف قسم کےتجربے کیے جا رہے ہیں۔1971 میں پاکستان دو ٹکڑوں میں تقسیم ہو گیااور یہ بہت بڑا نقصان تھا۔اب بھی پاکستان نازک دور میں گزر رہاہے۔فوری طور پر حالات کو سنبھالنے کی ضرورت ہے۔پاکستان کےوجود کو نقصان پہنچانے کے لیےمختلف گروہ اٹھےہوئے ہیں اور ان کی ہر ممکن کوشش ہے کہ پاکستان کی سالمیت کو نقصان پہنچایا جائے۔
پاکستان کا قیام کوئی آسان کام نہیں تھا۔ہندو پاکستان کے مخالف تھے،برطانوی سامراج بھی مخالف تھا،یہاں تک کہ کئی مسلمان بھی پاکستان کے مخالف تھے۔اتنی مخالفتوں کی باوجود بھی پاکستان قائم ہو گیا۔اب اس کے وجود کو ختم کرنے کے لیےہر طرف سےکوششیں کی جا رہی ہیں،لیکن انشاءاللہ وہ کوششیں ناکام ہو گیں۔پاکستان جب قائم ہوا تو بہت سے مسائل تھے۔مہاجروں کی آباد کاری،رقم کی کمی اور کئی قسم کے مسائل تھے،جن پر قابو پانا بہت ہی مشکل تھا لیکن اللہ کی کرم نوازی سےمشکل حالات پر قابو پا لیا گیا۔موجودہ اوراولین وقت کے حالات کا جائزہ لیا جائے تو علم ہوتا ہے کہ اس وقت حالات بہت ہی خطرناک تھے۔جب اس وقت کے حالات پر قابو پاجاسکتا ہے تو اب بھی قابوپانا مشکل نہیں۔اب تو پاکستان کے پاس بہت سے وسائل ہیں اور قابل ترین افرادی قوت بھی ہے،اس لیے پاکستان کسی بھی مشکل کا مقابلہ کر سکتا ہے۔اگر غلطیوں کو سدھارنے کی کوشش نہ کی گئی توپھر کوئی سانحہ رونما ہو سکتا ہے۔
23 مارچ ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ منزل کتنی مشکل کیوں نہ ہو،جدوجہد کرنے والوں کو اللہ تعالی اجر عطا ہی کر دیتا ہے۔دنیا کی اکثریت یہ سمجھتی تھی کہ پاکستان کا قیام مشکل ہے۔مشکل اس لیے کہ مسلمان اقلیت میں تھےاور اکثریت نہیں چاہتی تھی کہ مسلمان علیحدہ ملک حاصل کریں۔علیحدہ مملکت کے قیام سے روکنے کے لیےمسلمانوں کو قید کیا گیا،کاروبار چھینے گئے،گھروں سے بے گھر کیا گیا،تشدد کا نشانہ بنایا گیا،لیکن مسلمان ہر قسم کی مشکل کوروندتے ہوئےپاکستان بنانے میں کامیاب ہو گئے۔پاکستان بنانے سے روکنے کے لیےمختلف قسم کے لالچ دیے گئے،کبھی ایک رنگ اور تہذیب کا بہانہ بنا کر پاکستان کووجود میں آنےسےروکنے کی کوشش کی گئی،لیکن مسلمانوں کو اچھی طرح علم تھا کہ یہ سب دھوکے ہیں۔قائد اعظم رح نے واضح کر دیا تھا کہ ہندوستان میں دو بڑی قومیں ہندو اور مسلمان بستی ہیں۔مسلمان اورقائداعظم رح اچھی طرح جان گئے تھےکہ مسلمانوں کے ہیرو الگ ہیں اورہندوؤں کے ہیرو الگ،ان کی تہذیب علیحدہ ہے اور ان کی علیحدہ،ہندوقوم گائے کو پوجتی ہیں اور مسلمان اس کا گوشت کھاتے ہیں۔بہت سی وجوہات کی وجہ سے مسلمان اور ہندوؤں کو ایک نہیں کہا جاسکتا،چاہےرنگ یارہن سہن ایک جیسانظرآئے۔نظریےکے بنیاد پر پاکستان وجود میں آیا۔پاکستان کو مضبوط بنانے کے لیے پوری قوم کو ہی مل کر جدوجہد کرنی ہوگی،ورنہ دن منانے سے کچھ نہیں ہوتا۔