گندم کی صفائی
تحریر:اللہ نواز خان
گندم کی صفائی کرتےوقت دوسروں کوتکلیف نہ دی جائے
گندم کی فصل کی کٹائی ہو رہی ہےاور کہیں کٹائی ہو کر صفائی بھی ہو چکی ہے۔ابھی تقریبا کئی ہفتے لگیں گےجب تمام کسان فصل کاٹ کرصاف بھی کر لیں گے۔گندم اور بھوسے کو علیحدہ کرنے کے لیے تھریشر مشین چلائی جاتی ہے،اس طرح گندم کے دانے صاف ہو جاتے ہیں اور بھوسہ علیحدہ ہو جاتا ہے۔اب ایک تکلیف دہ حرکت اکثر کسانوں سے سرزدہوتی ہے کہ مشین کےجس حصےسے بھوسہ نکل رہا ہوتا ہے،اس کا رخ روڈ یا راستے کی طرف کر دیا جاتا ہے۔ہو سکتا ہے کچھ کسان مجبورا ایسا کرتے ہوں یا غلطی سےایسا ہو جاتا ہو،لیکن ان کی یہ حرکت راستےیا روڈ پر گزرنے والوں کے لیے کافی تکلیف دہ ہوتی ہے۔افسوس ناک بات یہ ہےکہ مشین کی سیٹنگ اس طرح کی جاتی ہےکہ فصل سے علیحدہ ہونے والا بھوسہ سیدھا گزرنے والوں کی آنکھوں اور چہرے پر ٹکراتا ہےاور یہ عمل موٹر سائیکل سواروں کے لیے زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔بھوسےکےاندرگندم کی فصل کےتنےکی چھوٹی چھوٹی ڈنڈیاں ہوتی ہیں اوربھوسے کی گرد بھی ہوتی ہے،اس طرح فصل کی ڈنڈیاں اور گردوغبار چہرے سمیت پورے جسم پرٹکراتے ہیں،لیکن چہرے پرزیادہ سختی سے ٹکراتے ہیں۔موٹر سائیکل سوارکئی دفعہ حادثوں کا بھی شکار ہو جاتے ہیں۔بعض ایسے افراد بھی سوار ہوتے ہیں جو سانس/الرجی یا کسی دوسری بیماری کے مریض ہوتے ہیں،ایسا عمل ان کی تکلیف میں شدید اضافہ کر دیتا ہے۔ایسا عمل موٹر سائیکل سواروں کے علاوہ رکشہ یا دیگر گاڑیوں کے سواروں کے لیے بھی تکلیف دہ ہوتاہے۔بعض اوقات رہائش گاہوں اورگھروں کے اندر ہی گندم کی صفائی کا عمل شروع کر دیا جاتا ہے۔اس طرح کا عمل ہمسایوں کی تکلیف میں اضافہ کرتا ہے۔گھروں میں بھی مریض بھی ہوتے ہیں اور بچے بھی ہوتے ہیں،اس طرح ان کو شدید تکلیف اٹھانا پڑتی ہے۔دمہ/الرجی کے مریضوں تک معمولی سا بھی گرد و غبار پہنچ جائے تو ان کی حالت بدتر ہو جاتی ہےاور بھوسے کے گردو غبارسےتوصحت مند افرادبھی متاثر ہوتے رہتے ہیں۔اس طرح کی حرکت اگر جان بوجھ کر کی جا رہی ہو تو یہ شرعی لحاظ سے بھی گناہ ہے اور قانونی لحاظ سے بھی قابل گرفت ہے۔اس قسم کی حرکت کرنے والے کو اگر قانون کا ڈر نہ ہو تو کم از کم اللہ کی ناراضگی کا ڈر تو ہونا چاہیے۔سوچا جائے کہ ایک معمولی سی حرکت کسی دوسرے کے لیے کتنی نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔ایک حدیث کے مطابق “مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں”آبادی میں یا کسی راستے کے قریب گندم کی صفائی کا عمل نہ کیا جائے۔اگر مجبوری ہو تو ہر ممکن کوشش کی جائے کہ کسی دوسرے کو اس عمل سے کم سے کم تکلیف پہنچے۔بطور مسلمان ہمارا کردار دوسروں کو تکلیف پہنچانے والا نہ ہو،بلکہ کوشش ہو کہ دوسرے کو تکلیف نہ پہنچے۔فرض کیا ایک الرجی یا کسی دوسرے مرض کا مریض اس عمل سے متاثر ہوتا ہے،تو اس کو تکلیف اٹھانے کے علاوہ ادویات پر بھی رقم خرچ کرنا پڑتی ہے۔قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سختی سے نوٹس لینا چاہیےتاکہ دوسروں کو تکلیف نہ ملے۔کئی دفعہ دیکھنے میں آ جاتا ہے کہ صفائی کرنے والوں کے پاس متبادل جگہ موجود ہوتی ہے لیکن معمولی سی تکلیف سے بچنے کے لیےجان بوجھ کر عوام کو تکلیف پہنچانے والی جگہ پر ایسا عمل شروع کر دیا جاتا ہے۔تھوڑی سی محنت یا تکلیف اٹھا کر دوسروں کی تکلیف کا خیال رکھا جائے۔اس عمل سے متاثر ہونے والےبھی برداشت کا مظاہرہ کریں،کیونکہ کئی جگہوں پر لڑائی جھگڑے بھی شروع ہو جاتے ہیں۔ہو سکتا ہے گندم صاف کرنے والا کسان انتہائی مجبوری کی حالت میں ایسا فعل سرانجام دے رہا ہو۔برداشت اور معافی بہت ہی احسن فعل ہیں اور اللہ کو پسند ہیں نیز برداشت اور معافی معاشرے کو بھی بہترین معاشرہ بناتے ہیں۔











