ڈاکٹر محمد یحییٰ: خدمت، جدوجہد اور فلاح کا استعارہ

تحریر۔۔محمد زاہد مجید انور

*ٹوبہ ٹیک سنگھ کی سرزمین کئی عظیم شخصیات کی جنم بھومی رہی ہے، جنہوں نے اپنے کردار، علم، اور خدمات کے ذریعے نہ صرف اپنے شہر بلکہ معاشرے میں بھی ایک نمایاں مقام حاصل کیا۔ انہی شخصیات میں ایک روشن نام ڈاکٹر محمد یحییٰ کا ہے، جو سیاسی، سماجی، فلاحی اور صحافتی میدان میں اپنی بے لوث خدمات کی بدولت ایک معتبر شناخت رکھتے ہیں۔ڈاکٹر محمد یحییٰ 1962ء میں ٹوبہ ٹیک سنگھ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد محترم، چوہدری شفیع سرہندی مرحوم، ایک نہایت شریف النفس، محنتی اور عظیم انسان تھے، جنہوں نے رزق حلال کما کر اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم و تربیت دی۔ یہ ان کی دعاؤں اور محنت کا نتیجہ تھا کہ ڈاکٹر محمد یحییٰ نے اپنی زندگی میں خود کو خدمتِ خلق کے لیے وقف کر دیا۔ڈاکٹر محمد یحییٰ نے 1978ء میں میٹرک کے امتحان میں نمایاں نمبر حاصل کیے۔ 1980ء میں ایف اے مکمل کیا اور 1982ء میں بی اے کی ڈگری حاصل کی۔ڈاکٹر یحییٰ نے خدمتِ انسانیت کے جذبے کو مزید وسعت دیتے ہوئے **1992ء میں طارق ہومیوپیتھک میڈیکل کالج** سے **ڈی ایچ ایم ایس** (ڈپلومہ ان ہومیوپیتھک میڈیکل سائنسز) مکمل کیا اور بطور ہومیوپیتھک معالج، مریضوں کے علاج معالجے میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ ان کی تشخیص، خلوص، اور بہترین علاج نے انہیں علاقے کا ایک ممتاز اور بااعتماد معالج بنا دیا۔ آج بھی وہ درجنوں مریضوں کو روزانہ اپنی خدمات سے مستفید کر رہے ہیں۔ تعلیم کے ان مراحل میں بھی وہ محنت، لگن اور خلوص کی ایک مثال رہے۔ انہوں نے صرف تعلیمی میدان تک خود کو محدود نہیں رکھا، بلکہ اسی زمانے میں انہوں نے عوامی خدمت کے جذبے کے تحت ایک فلاحی تنظیم کی بنیاد رکھی جس کا نام “اسلامک یوتھ ویلفیئر سوسائٹی” رکھا گیا، جو بعد ازاں باقاعدہ رجسٹرڈ بھی ہوئی۔بطور صدر، ڈاکٹر محمد یحییٰ نے اس سوسائٹی کو بے سہارا، نادار، بیمار اور ضرورتمند افراد کی خدمت کا مرکز بنایا۔ ان کی قیادت میں سینکڑوں مستحق افراد کی کفالت کی گئی، میڈیکل کیمپس کا انعقاد ہوا، راشن کی تقسیم، تعلیمی وظائف اور دیگر رفاہی منصوبوں پر دن رات کام جاری رہا۔ڈاکٹر محمد یحییٰ کی عوامی مقبولیت اور خدمت کے جذبے کو دیکھتے ہوئے انہوں نے نواز شریف کے دورِ حکومت میں پہلی مرتبہ بلدیاتی انتخابات میں حصہ لیا اور کونسلر منتخب ہوئے۔ اس کے بعد وہ مسلسل تین بار کونسلر منتخب ہو کر اپنی خدمات کا دائرہ وسیع کرتے گئے۔ ان کی سیاسی سوچ ہمیشہ اصولوں پر مبنی رہی اور انہوں نے سیاست کو عبادت سمجھ کر اپنایا۔علاوہ ازیں، ڈاکٹر محمد یحییٰ نے شعبہ صحافت میں بھی اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھائے۔ انہوں نے مختلف موقر اخبارات میں بطور نمائندہ اور کالم نگار کام کیا اور سماجی مسائل کو اجاگر کرنے، عام آدمی کی آواز حکام بالا تک پہنچانے میں بھرپور کردار ادا کیا۔آج بھی ڈاکٹر محمد یحییٰ اپنی فلاحی، صحافتی اور عوامی خدمات کے ذریعے نوجوان نسل کے لیے ایک روشن مثال ہیں۔ ان کی زندگی کا ہر لمحہ معاشرے کی بہتری، انسانیت کی خدمت اور سچائی کی سربلندی کے لیے وقف ہے۔اللہ تعالیٰ ان کی خدمات کو قبول فرمائے اور ہمیں بھی ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے معاشرے کی فلاح کے لیے کام کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔*