ایٹمی دھماکوں کی کہانی، بنانے سے بچانے تک۔
آخری قسط۔

تحریر حاجی غلام شبیر منہاس

کبھی ہم نے سوچا کہ جس قیام پاکستان کے فوری بعد ہندوستان نے کہا تھا کہ مسلمانوں نے اپنا الگ ملک بنا تو لیا ہے چلا اور بچا نہیں پایئں گے۔ اور پھر قیام کے محض چوبیس برس بعد ہی ان کی پیشنگوہی اس وقت جزوی سچ ثابت ہو گئی جب 16 دسمبر 1971ء کو ملک دولخت ہو گیا۔ اس وقت دشمن فتح کے شادیانوں میں یہ بات تسلسل سے دہرا رہا تھا کہ باقی بچ جانے والا پاکستان بھی جلد دنیا کے نقشے سے مٹ جایئگا، اور ظاہری حالات ان کے اس موقف کو سچ ماننے پہ مجبور کر رہے تھے۔ سو ان حالات میں جن لوگوں نے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی، اسکو آگے بڑھایا اور کسی نہ کسی صورت اس عظیم کام کا حصہ ریے ان پہ کیسی کیسی قیامتیں ٹوٹتی رہیں۔۔بھٹو کو پھانسی پہ جھولنا پڑا، ضیاء کا جہاز فضاوں میں ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا، اے کیو خان کو موت تک کن آزمائشوں کا سامنا رہا، بے نظیر کو دن دہاڑے خون میں نہلا دیا گیا اور نواز شریف کو جلاوطنی کاٹنی پڑی۔۔یہ تو بڑے بڑے نام ہیں مگر اس کو اگر گہرائی میں دیکھیں تو ہر اس شخص کو آذمائشوں سے گزرنا پڑا جو اس کارخیر کا حصہ رہا۔۔آج ہم لوگ بڑی آسانی سے انکو گالیاں دے کر اپنا من ٹھنڈا کر لیتے ہیں۔۔ان کی کسی ایک کمزوری کو پکڑ کر ان کی ماں بہن ایک کر دیا کرتے ہیں۔ مگر یہ نہیں سوچتے کہ جس دباو اور اعصاب شکن مراحل کا سامنا ان لوگوں کو رہا۔ جو ان کیساتھ ہوا اور جس پرآسائش زندگی اور اقتدار و اختیار کے بیچ رہ کر انہوں نے وطن عزیز کے ناقابل تسخیر دفاع کیلئے یہ پرکٹھن راستہ اختیار کیا اگر یہ نہ کرتے تو آج میں، آپ اور ہمارا پیارا پاکستان کہاں کھڑے ہوتے۔
انسان بہت کمزور ہے ان سب میں بھی بیشمار کمزوریاں ہوں گی مگر جو کام یہ کر گئے وہ اتنا بڑا اور ناقابل یقین کام یے کہ اس کے سامنے انکی بشری کمزوریوں کی کوئی اوقات نہیں۔ دنیا میں کتنے مسلم ممالک ہیں اور خدائے بزرگ و برتر نے انہیں کس قدر وسائل سے نواز رکھا ہے۔۔مگر کوئی ایک ملک یا اسکی قیادت یوں سر پہ کفن باندھ کر موت کی وادیوں میں نہیں اتر پائی۔۔
آخری بات کہ
آج کل ابراہم اکارڈ کا بڑا چرچہ یے اور اسکو لے کر امریکہ مسلم دنیا کو قائل کرنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔ یاد رکھیں، یہ ممالک ہم سے اسوقت بھی کچھ نہیں منوا سکے جب ہمارا ملک دو ٹکڑے ہو چکا تھا اور ہم بہت کمزور پوزیشن میں تھے۔ انہوں نے اس وقت بھی اپنا ایڑی چوٹی کا زور لگا کر متعدد بار دیکھ لیا تھا۔ مگر ہمیں ہمارے عزم، مشن اور مقصد سے ایک انچ بھی نہیں ہٹا سکے۔ جبکہ اب انکو بھی پتہ ہے کہ موجودہ پاکستان کیا ہے اور کس پوزیشن میں ہے۔ کسی ایرے غیرے کے کہنے پہ کبھی بھی نہ کسی پڑوسی کی بالادستی تسلیم کی جائے گی اور نہ کسی ناپاک وجود رکھنے والی غاصب ریاست کو تسلیم کیا جایئگا۔۔ہمارا ملک الحمداللہ اس وقت دنیا میں نہ جھٹلا سکنے والی ایک ناقابل تسخیر قوت ہے۔ یہ وہی ملک ہے جسکو یہ سب مل کر 1974ء سے 1998ء تک باز نہیں رکھ سکے، اب تو 1998ء کے 28 مئی کو گزرے بھی 28 برس ہو چلے ہیں۔ تو 28 برس کا جوان ایٹمی بم کیا گل کھلا سکتے ہیں یہ ہمارے اپنے پرائے سب جانتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ نوجوان نسل اسکو سمجھے کہ ملک کا ہونا کتنی بڑی نعمت ہوا کرتا ہے اور پھر اس ملک کا دفاع کتنی اہمیت رکھتا ہے۔۔زندگی محض سوشل میڈیا ٹرولنگ، یوٹیوب، سیلفیاں لینے، نعرے بازی اور ٹک ٹاک کا نام نہیں، بلکہ زندگی آنے والے چیلینجز کا پوری ہمت اور دیدہ دلیری سے سامنا کرنے اور خود کو دنیا کی اقوام میں مرد میداں ثابت کرنے کا نام ہے۔ ہمارے اسلاف ہمارے لیئے بڑا روشن کردار اور ناقابل یقین کارہائے نمایاں وراثت میں چھوڑ کر گئے ہیں۔ ہمارے لیئے لازم ہے کہ ملک دشمن طاقتوں کے گمراہ کن سازشوں اور بیانیوں کا شکار ہونے کی بجائے اپنی ریاست کیساتھ ڈٹ کر کھڑے ہوں اور اس کی بہتری کیلئے جو ہم سے ہو سکے کرتے رہیں۔
غلام شبیر منہاس۔
ختم شد