_سلطانِ خطابت چلا گیا!_
_مَوتُ العَالِمِ مَوتُ العَالَم_

تحریر۔۔حافظ احمدمعاویہ

`وہ اہلِ دل کہ جن سے روشنی تھی بزمِ ہستی میں`
`چلے جاتے ہیں تو پھر دیر تک سناٹا رہتا ہے`

*ملتان کی علمی و دینی فضا آج ایک عجیب اداسی میں ڈوبی ہوئی ہے شہر کے منبر و محراب، مدارس و مساجد، علمی نشستیں اور محبت کرنے والے دل سب ایک ہی احساس کے ساتھ خاموش ہیں کہ واقعی سلطانِ خطابت چلا گیا۔ ایک ایسا مردِ حق، جس کی آواز میں تاثیر تھی، گفتگو میں وزن تھا* *لہجے میں جرات تھی، کردار میں اخلاص تھا، اور دل میں ناموسِ صحابہؓ کی بے لوث محبت تھی*
*حضرت مولانا سلطان محمود ضیاء صاحب رحمہ اللہ صرف ایک خطیب نہیں تھے، وہ ایک عہد کا نام تھے* *اللہ تعالیٰ نے آپ کو علم کے ساتھ وہ غیر معمولی ترنم عطا فرمایا تھا کہ جب آپ منبر پر جلوہ افروز ہوتے تو سامعین کے دل خودبخود متوجہ ہو جاتے آپ کے الفاظ محض سنے نہیں جاتے تھے بلکہ دلوں میں اترتے تھے۔ آپ کی آواز میں محبت بھی تھی، جلال بھی تھا، درد بھی تھا اور امت کے لیے ایک سچا تڑپتا ہوا دل بھی*

`ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے`
`بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا`

*جامعہ خیرالمدارس ملتان سے مکمل دینی تعلیم حاصل کرنے کے بعد آپ نے اپنے علم کو محض کتابوں تک محدود نہ رکھا بلکہ اسے امت کی رہنمائی اور دین کی سربلندی کے لیے وقف کر دیا۔ جامعہ خلفائے راشدین ملتان کے مدیرِ اعلیٰ کی حیثیت سے آپ نے ادارے کو صرف درس و تدریس کا مرکز نہیں بنایا بلکہ اسے فکر، تربیت، دعوت اور کردار سازی کا ایسا مرکز بنایا جہاں سے بے شمار طلبہ نے علم حاصل کیا اور دین کی خدمت کے لیے میدان میں اترے۔*
*حضرت مولانا سلطان محمود ضیاء صاحب رحمہ اللہ حق گوئی اور بے باکی کی روشن مثال تھے۔ باطل کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہونا، حق بات کہنا، کسی مصلحت کے بغیر دین کا مؤقف بیان کرنا آپ کی نمایاں پہچان تھی۔ ناموسِ صحابہؓ کے تحفظ کے لیے آپ کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ آپ اسیرِ ناموسِ صحابہؓ بھی رہے، مگر آزمائشوں نے آپ کے عزم کو اور مضبوط کیا۔ آپ ہمیشہ استقامت کے ساتھ کھڑے رہے اور ہر مشکل گھڑی میں دین کی حرمت کے دفاع کو اپنا فرض سمجھا۔*
*آپ امیرِ عزیمت کے رفیق بھی تھے اور شہدائے ناموسِ صحابہؓ کے سچے ساتھی بھی۔ جمعیت اور سپاہ، دونوں جماعتوں کے لیے ملتان میں آپ کی سرپرستی ایک مضبوط سہارا تھی۔ کارکنان آپ کو صرف قائد نہیں بلکہ ایک خیرخواہ، مشفق اور حوصلہ دینے والی شخصیت کے طور پر جانتے تھے۔*
*میری اپنی زندگی میں بھی حضرت مولانا رحمہ اللہ کی شفقت اور محبت ایک قیمتی سرمایہ ہے۔ کئی مواقع پر جب انہوں نے میرے بیانات سنے تو نہایت محبت اور شفقت سے حوصلہ افزائی فرمائی۔ ان کے وہ محبت بھرے الفاظ، دعائیں اور شفقت آمیز انداز آج بھی دل میں تازہ ہیں۔ بڑے لوگ صرف اپنے علم سے نہیں بلکہ اپنے اخلاق اور اپنے چھوٹوں کی دلجوئی سے بھی پہچانے جاتے ہیں، اور حضرت مولانا رحمہ اللہ واقعی اسی شان کے مالک تھے۔*
`؎ وہ اہلِ دل کہ جن سے روشنی تھی بزمِ ہستی میں`
`چلے جاتے ہیں تو پھر دیر تک سناٹا رہتا ہے`
*آپ کی خطابت محض آواز کا حسن نہیں تھی بلکہ علم، دلیل، جذبے اور سچائی کا امتزاج تھی۔ یہی وجہ تھی کہ آپ کو بجا طور پر خطابت کا بے تاج بادشاہ کہا جاتا تھا۔ آپ کے بیان میں ترنم بھی ہوتا تھا، وقار بھی، علمی گہرائی بھی اور سامع کے دل تک پہنچ جانے والی تاثیر بھی۔ آپ جب ناموسِ صحابہؓ کا ذکر فرماتے تو محبت و عقیدت کا ایک خاص عالم قائم ہو جاتا اور سامعین کے دل جذباتِ ایمان سے بھر جاتے۔*
*اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک بہترین دینی خانوادے سے بھی نوازا۔ آپ کے تین صاحبزادے جو خود عالمِ دین ہیں اور دو صاحبزادیاں، یقیناً آپ کے لیے صدقۂ جاریہ ہیں۔ آپ کی تربیت، آپ کا علم، آپ کی فکر اور آپ کا کردار ان شاء اللہ آنے والی نسلوں میں بھی زندہ رہے گا۔*
*آج ملتان کا علمی و دینی حلقہ ایک ایسی آواز سے محروم ہوا ہے جس کی گونج مدتوں سنائی دیتی رہے گی۔ منبر آپ کو یاد کریں گے،* *مدرسے آپ کو یاد کریں گے، کارکن آپ کو یاد کریں گے، شاگرد آپ کو یاد کریں گے، اور وہ سب دل بھی آپ کو یاد کریں گے جنہیں آپ نے کبھی محبت دی، حوصلہ دیا، دعا دی اور دین کے راستے پر ثابت قدم رہنے کی تلقین فرمائی۔*

`؎ چراغِ بزمِ وفا تھا، بجھا تو یوں محسوس ہوا`
`اندھیرا صرف گھروں میں نہیں، دلوں میں بھی اترا ہے`

*اللہ رب العزت حضرت مولانا سلطان محمود ضیاء صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے، ان کے درجات بلند فرمائے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کے اہلِ خانہ، تینوں صاحبزادگان، صاحبزادیوں، شاگردوں، رفقا اور تمام چاہنے والوں کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔*
*اللہ تعالیٰ ان کی خدمات، ان کی قربانیوں، ان کی خطابت، ان کی حق گوئی اور ناموسِ صحابہؓ کے لیے ان کے جذبے کو ان کے لیے صدقۂ جاریہ بنائے۔* `آمین ثم آمین`
`إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ`