ایٹمی دھماکوں کی کہانی، بنانے سے بچانے تک۔۔
ایک ایسی کہانی جسکو میں چاہوں گا کہ نوجوان نسل ضرور پڑھے۔۔۔

تحریر حاجی غلام شبیر منہاس

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
27 اور 28 مئی کی درمیانی شب نصف رات کے بعد پاکستان میں موجود بھارتی ہائی کمشنر ستیش چندر کو گہری نیند سے اٹھا کر دفترخارجہ طلب کیا گیا، یہ اسکی سفارتی زندگی کا ناقابل یقین واقعہ تھا، وہ جب وزارت خارجہ پہنچا تو وہاں پاکستانی سیکرٹری خارجہ شمشاد احمد اور انکا سخت رویہ اسکا منتظر تھا۔ شمشاد احمد نے بنا کسی لگی لپٹی کے بھارتی ہائی کمشنر سے پوچھا مسٹر چندر، یہ اسرایئلی طیارے سری نگر ایئرپورٹ پہ کیا لینے آئے ہیں۔۔؟ یہ ایسا غیرمتوقعہ سوال تھا جس کا چندر کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔۔سو وہ آیئں بایئں شایئں شروع کرنے ہی لگا تھا کہ شمشاد احمد نے اسکو روکتے ہوئے سختی سے ایک وراننگ دیتے ہوئے اسکو اسی وقت نئی دہلی پہنچانے کا کہا۔۔یہ محض وارننگ نہیں تھی بلکہ پاکستان کا وہ جواب تھا جس نے اگلے ہی کچھ منٹوں میں، دہلی، واشنگٹن اور تل ابیب میں ہلچل مچا دی، یوں وہ بھارتی اور اسرایئلی کمانڈرز جو اس منصوبہ پہ کام کر رہے تھے انہوں نے اپنی اس کارروائی کو فی الفور روک دیا۔
یہ سب کچھ عین اس وقت ہو رہا تھا جب چاغی کے پہاڑوں میں ایٹمی دھماکے کی تیاریاں اپنے بالکل آخری مرحلہ میں تھیں، اور اگلے چوبیس گھنٹوں میں دھماکے کیئے جانے کا قوی امکان موجود تھا۔ اور یہ کوئی چند ہفتوں، مہینوں یا کچھ برسوں کی ریاضت نہیں تھی بلکہ چاغی کے سنگلاخ پہاڑ اور یہ سنسان و دشوارگذار علاقے اس پہ گواہ تھے کہ یہاں اس مقام پر ان تاریخی لمحات کیلئے پچھلے انیس برسوں سے کام جاری تھا۔ اور مطلوبہ سرنگیں بہت پہلے سے تیار کی جا چکی تھیں۔ بھارت نے جیسے ہی 1998ء میں گیارہ اور تیرا مئی کو دھماکے کیئے تو پاکستان نے بنا کسی تاخیر کے اپنی ایٹمی ڈیوائیسسز چاغی پہنچانا شروع کر دیں تھیں۔ یہ وہ تاریخی لمحات تھے جن کے پیچھے برسوں کی ان تھک ریاضت، اور اعصاب شکن جدوجہد کارفرما تھی۔ جبکہ پاکستان جیسے اسلامی ملک کو ایٹمی کلب کا ممبر بننے سے روکنا بھارت اور اسرایئل کا مشترکہ مشن و ہدف تھا۔ اسرایئل چونکہ 1981ء میں عراق میں اس جیسی حرکت عملی طور پر کر چکا تھا اور عراق کا ایٹمی ری ایکٹر تباہ کر چکا تھا لہذا وہ یہاں اس خطے میں بھی بھارتی سرپرستی میں وہی تاریخ دہرانا چاہ رہا تھا۔
آیئں آج ہم اس تاریخی دن کو “پاکستان نے ایٹم بم کیسے بنایا” سے لے کر “پاکستان نے ایٹم بم کیسے بچایا” تک کی کہانی کو ایک نظر دیکھتے ہیں۔
ایران اور لیبیا جیسے ممالک کو دیکھ کر ہماری ایٹمی کہانی ایک ایسی سسپنس سے بھرپور افسانہ لگتی ہے جسکا کامیاب ہونا ناممکن دکھائی دیتا ہو۔ اس سوچ کا آغاذ 1971ء کا سقوط ڈھاکہ بنا۔ جب 16 دسمبر کو قائداعظم کا دیا ہوا پاکستان دولخت ہو گیا۔ اور جو باقی رہ گیا اسکی بقاء کو بھی شدید خطرات لاحق ہو گئے۔ یوں اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے سقوط ڈھاکہ کے کچھ ہی دنوں بعد ملتان میں اس عنوان پر پہلی خفیہ میٹینگ کی، جس میں اس وقت کے چوٹی کے دماغ موجود تھے۔ارض پاک کے دشمن جب اس کے ٹوٹنے پہ جشن منا رہے تھے اور دنیا تجزیئے کر رہی تھی کہ اس سانحہ کے اثرات سے نکلنے میں برسوں لگیں گے اس وقت 12 جنوری کو ملتان میں یہ طے پا چکا تھا کہ کچھ بھی ہو جائے اب ایٹمی طاقت بننا ہو گا۔ اسی اثنا میں 18 مئی 1974ء کو بھارت نے جب ایٹمی تجربات کیئے تو گویا اس کے اس اقدام نے ہمارے اس جذبے کو تقویت دی اور ہمیں پوری شدت سے اس پہ ابھارا کہ ایٹم کا حصول اب ہمارے لیئے کتنا ناگزیر ہو چکا ہے۔۔یہی وہ وقت تھا جب بھٹو کا یہ شہرہ آفاق بیان سامنے آیا کہ ہم گھاس کھا لیں گے مگر ایٹم بم بنایئں گے۔
پاکستان سے کوسوں دور ہالینڈ میں موجود پاکستان کا ایک بیٹا عبدالقدیر خان بھی اس ساری صورتحال کو بڑی ہی باریک بینی سے دیکھ رہا تھا۔ وہ خود بھی وہاں کی ایک جوہری تنصیب سے وابستہ تھا۔اس نے اگست 1974ء میں مسٹر بھٹو کو ایک خط لکھا جو ہماری روایتی بیوری کریسی کی فائلوں میں ہی کہیں دب کر رہ گیا۔ ٹھیک ایک ماہ بعد اے کیو خان نے دوبارہ ایک خط پوری تفصیل سے لکھا اور اس بار اس خط کو ہالینڈ میں تعینات پاکستانی سفیر کے حوالہ کرتے ہوئے اسکو جتنا جلد ممکن ہو وزیراعظم پاکستان تک پہنچانے کی درخواست کی۔ اس خط میں بتایا اور سمجھایا گیا کہ ہم پروٹونیم کی بجائے یورینیم کے ذریعہ جلد اپنے مطلوبہ مقاصد حاصل کر سکتے ہیں۔ بھٹو نے ڈاکٹر خان کو پاکستان بلا لیا، اور یوں طویل ملاقاتوں اور میٹینگز کے بعد “پروجیکٹ 706” کا آغاذ کیا گیا۔ ڈاکٹر خان 1975ء کے آخری دنوں میں اپنے تین عدد مخصوص سوٹ کیسوں کیساتھ مستقل پاکستان شفٹ ہو گئے۔ بتایا جاتا ہے کہ ان سوٹ کیسوں میں انتہائی خفیہ ڈیزائن اور سپلائرز کی لسٹیں تھیں۔ ابتدائی طور پر چکلالہ میں ایئرپورٹ ڈویلپمنٹ ورکشاپ کے نام سے کام کا آغاذ کیا گیا۔جو درحقیقت بم بنانے کی آذمائشی منصوبے کی ابتداء تھی۔ جبکہ عین اسی وقت کہوٹہ میں بھی کام کا آغاذ کر دیا گیا جو کہ دنیا کی آنکھ سے کچھ عرصہ سے اوجھل رہا اور سب کی توجہ چکلالہ کیطرف ہی مبذول رہی۔۔
یہاں کہانی نے ایک فیصلہ کن موڑ لیا۔ 1979ء تک دنیا کی اکثر حکومتیں اور ایجنسیسز جان چکی ہوتی ہیں کہ پاکستان چکلالہ میں اس منصوبہ پہ کام شروع کر چکا ہے مگر بھارت کا روایتی غرور اور براہمن سوچ اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے یکسر انکاری ہو جاتی ہے۔ بھارتیوں کا خیال تھا کہ اگر پاکستانیوں کے پاس نظریاتی علم موجود ہو بھی تو ان کے پاس مطلوبہ صنعتی صلاحیت موجود نہیں۔ لہذا جب دنیا میں یہ بحث چلی کہ پاکستان ایسا کچھ کرنے کی کوششوں میں مصروف عمل ہے تو بھارتیوں نے کہا وہ ملک جو بایئسیکل تیار نہیں کر سکتا وہ ایٹم کیسے بنائے گا۔ یہ بھی قدرت کیطرف سے ایک ایسی مدد تھی جسکو آگے چل کر پاکستان نے اپنے حق میں خوب اچھی طرح استعمال کیا۔
1970 کے عشرے میں ایک “نیوکلیئر سپلائر گروپ” کے نام سے دنیا نے ایک اتحادی فورم تشکیل دیا جس میں شامل ممالک نے طے کیا کہ ایٹمی توانائی دوسرے ممالک کو کسی صورت منتقل نہیں ہونے دی جایئگی۔ 1976ء میں امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر نے بھٹو کو ایک عجیب و غریب ڈیل آفر کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگ ایٹمی پروگرام ترک کر دیں تو ہم ایران میں ایک ایسی ایٹمی تنصیب قائم کر دیں گے جو خطے کے تمام ممالک کی ایٹمی توانائی کی ضروریات کو پورا کرے گی۔ اس آفر کے دو ہی مقاصد تھے پہلا پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو رول بیک کرنا اور دوسرا امریکی کمپنیوں کو اس خطے میں لاکر مالی فوائد پہنچانا۔ مگر بھٹو نے اس کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔جس کے بعد امریکی سینیٹ نے پاکستانی امداد معطل کرنے کا بل منظور کیا۔ یوں ان مالی پابندیوں کے بعد ظاہری طور پہ چکلالہ منصوبہ روک دیا گیا تا کہ دنیا کو یہ تاثر دیا جائے کہ کام سست پڑ چکا ہے جبکہ کہوٹہ کو پوری رازداری سے مکمل آپریشنل رکھ کر کام کو جاری رکھنے کی حکمت عملی اپنائی گئی۔مگر پھر کہوٹہ بھی زیادہ دیر دنیا کی نظروں سے اوجھل نہ رہ سکا۔ امریکہ کو اسکا بھی علم ہو گیا جس پر اس نے باقاعدہ دھمکی تک دے ڈالی کہ ہم کہوٹہ پلانٹ کو تباہ کر دیں گے۔ یوں 1974ء میں جاری ہونے والا کہوٹہ پلان 1979ء میں راڈار پر آ گیا۔ جس کے بعد اسی سال اس وقت کے پاکستانی وزیرخارجہ ( صدارتی مشیر برائے امور خارجہ) آغا شاہی کو امریکہ طلب کر کے علیحدگی میں بٹھا کر دھمکی آمیز لہجے میں کہا گیا۔ ” مسٹر وزیر خارجہ، ادھر متوجہ ہوں، آپ جانتے ہیں کہ آپ لوگ موت کی وادی میں قدم رکھ رہے ہیں، ہمیں آپکا ایٹمی پروگرام قطعی قابل قبول نہیں، اور ہم کسی صورت اسکو جاری نہیں رکھنے دیں گے بلکہ اسکو اڑا دیں گے۔” پاکستانی وزیر خارجہ آغا شاہی نے بڑے تحمل سے انکی بات سنی اور مسکراتے ہوئے بھارتیوں کا حقارت سے کہا گیا جملہ دہراتے ہوئے جواب دیا کہ ہم تو پاکستان میں اپنی سایئکل نہیں تیار کر سکتے، ایٹم بم کیسے بنا سکتے ہیں۔۔
اسی اثنا میں 1979 کا وہ موڑ آیا جب سوویت یونین افغانستان میں گھس آیا تو ایک بار پھر امریکیوں کو ہماری بطور اتحادی ضرورت آ پڑی۔ یہ قدرت کیطرف سے ایک اور مدد تھی کہ ہم امریکہ کے اتحادی بنے اور جواب میں اس نے ہمارے ایٹمی پروگرام سے چشم پوشی اختیار کر لی۔
1980ء میں جب کہوٹہ ریسرچ لیبارٹری ناممکن کو ممکن بنانے کیلئے دن رات ایک کیئے ہوئے تھی اور دنیا بھر میں موجود سپلایئرز کیساتھ ڈاکٹر خان کے مراسم اور روابط اپنا کام دکھا رہے تھے اور جو پرزہ جات نہ ملتے انکو مقامی سطح پر تیار کیا جا رہا تھا تو ان دنوں ایک مشکل یہ آ پڑی کہ بین الاقوامی کڑی نگرانی کیوجہ سے یورنیم درآمد کرنا ناممکن ہو گیا تو قدرت ایکبار پھر مہربان ہوئی اور ڈیرہ غازی خان کے علاقہ ” بغل چور” میں کچھ زخائر دریافت ہوئے۔ جس پہ کام شروع کیا گیا تو پاکستان نے وہاں سے یورنیم نکال کر اپنی “UF 6” گیس خود تیار کرنی شروع کر دی۔جب یہ مرحلہ طے ہوا تو ایک اور خطرے نے سر اٹھا لیا۔۔ اہم پرزہ جات تیار کرنے والی کچھ یورپین کمپنیاں جو اسلام آباد کیساتھ تعاون کر رہی تھیں ان کے چیف ایگزیگٹوز کو دھمکی آمیز کالز اور قاتلانہ حملوں کا سامنا کرنا پڑ گیا۔ یہ سب موساد کر رہی تھی اور وہ کسی صورت پاکستان کو بطور ایٹمی قوت نہیں دیکھنا چاہ رہے تھے۔ 1980ء کی دہائی میں راء اور موساد مسلسل پتہ لگانے کی جستجو میں رہیں کہ پاکستان نے اس میدان میں کتنا سفر طے کر لیا ہے۔ جبکہ کچھ اور ممالک بھی سن گن لے رہے تھے۔ امریکی وزرات خارجہ کا ایک سنیئر اہلکار پکنک منانے کہوٹہ کیطرف نکل کھڑا ہوا جسکو سیکورٹی اداروں نے تنںبیہ کرتے ہوئے واپس بجھوا دیا، اسی طرح فرانسیسی سفیر بھی ایکبار کہوٹہ کے قریب پہنچنے میں کامیاب ہو گیا جسکو کمبل میں لپیٹ کر اچھی خاصی دہلائی کی گئی اور جو بعد میں “کمبل ٹریٹمینٹ” کے عنوان سے سفارتی حلقوں میں اچھا خاصا مشہور ہوا۔ جب کوئی بھی حربہ کارگر ثابت نہ ہوا تو بالآخر 1980ء میں بھارت اور اسرایئل نے مشترکہ طور پر کہوٹہ پہ حملے کا پلان بنایا۔ جسکا انکشاف ایک سنیئر بھارتی سفارتکار ڈبلیو پی ایس سدھو نے 1996ء میں کیا تھا کہ جون 1981ء میں کہوٹہ فضائی حملہ طے پا چکا تھا۔

غلام شبیر منہاس

دوسری قسط

ایٹمی دھماکوں کی کہانی، بنانے سے بچانے تک۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بھارتی وزارت خارجہ کے سنیئر فیلو ڈبلیو پی ایس سدھو نے 1997ء میں جب یہ انکشاف کیا کہ 1981ء میں کہوٹہ پر فضائی حملہ کا فیصلہ کر لیا گیا تھا مگر ہر بار کیطرح پاکستان کو یہ بھنک بھی پڑ گئی اور انکی جوابی کارروائی کے ڈر کیوجہ سے اس حملہ کو ایک طویل مشاورت کے بعد ملتوی کر دیا گیا۔ بھارتی فوجی حکام نے جب یہ محسوس کر لیا کہ سیکورٹی اور دفاع کے اس کڑے حصار میں کہوٹہ کو نشانہ بنانا ممکن نہیں ہو گا تو فروری 1983ء میں ایک بھارتی وفد کہوٹہ کے فضائی حصار کو قابو میں لا کر حملہ کرنے کی غرض سے “الیکٹرک وار فیئر” کا سامان خریدنے اسرایئل کے خفیہ دورے پر بھی گیا۔ مگر ہندوستان کو یہ پلان بھی اس وقت روکنا پڑا جب 1983ء میں ویانا میں بھارتی آفیشلز کو اس وقت کے پاکستان توانائی کمیشن کے چیئرمین منیر احمد خان کیطرف سے یہ دو ٹوک پیغام دیا گیا کہ اگر ہندوستان نے کہوٹہ پہ کوئی بھی مہم جوئی کرنے کی حماقت کی تو بھارت کے تمام پلانٹس اڑا دیئے جایئں گے۔
مارچ 1984ء میں اس وقت کی بھارتی وزیراعظم اندراگاندہی نے ایک اور منصوبے کی منظوری دی جس کے تحت اسرایئلی جنگی طیاروں کو گجرات کا جام نگر ایئربیس استعمال کرنے کی اجازت دے دی گئی تا کہ وہ یہاں سے کہوٹہ پر حملہ آور ہو سکیں۔ اس وقت کے پاکستانی آرمی چیف و صدر جنرل ضیاءالحق نے اس پہ فیصلہ کر لیا تھا کہ اس بار اس حملہ کو روکا اور قبل از وقت کچھ بھی بتایا نہیں جایئگا، بلکہ اسکو ناکام بناتے ہوئے ان دونوں ممالک کو ہمیشہ کیلئے ایک مثال بنا کر اس باب کو ہی بند کر دیا جایئگا۔ جنرل ضیاء نے اس حوالہ سے وسیع تیاریوں کا بھی حکم صادر کر دیا۔ امریکی جو اس ساری صورتحال پر نظر رکھے ہوئے تھے انہوں نے سیٹلایئٹ پر جب اتنے بڑے پیمانے پر پاکستانی فوج اور جنگی طیاروں کی نقل و حرکت دیکھی تو واشنگٹن نے فوری طور دہلی اور تل ابیب کو اس خطرناک موو پر آگاہ کر دیا۔ جس کیوجہ سے اس منصوبہ پر بھی عمل درآمد روک دیا گیا۔اس کے بعد پاکستان نے پہلی بار اسرایئل کو بھی خبردار کرتے ہوئے شٹ اپ کال دی اور بتایا کہ پاکستان عراق نہیں اور نہ ہی پاکستانی فوج عراقی فوج ہے۔ تم کسی غلط فہمی میں نہ رہنا، پاکستان کی ایٹمی تنصیبات پر کسی بھی مہم جوئی کی صورت میں دنیا سے تمہارا ناپاک وجود ہمیشہ کیلئے مٹا دیا جایئگا۔ یوں دشمنوں کا یہ پلان بھی ناکامی سے دوچار ہوا۔
1986ء میں بھارت نے پاکستان پر ایک جنگ مسلط کرنے کی کوشش بھی کی جس کے نتیجہ میں کہوٹہ کو نشانہ بنایا جانا تھا۔ ہندوستان اپنی پانچ لاکھ فوج، جہازوں، ٹینکوں اور بکتربند کیساتھ سندھ کے بارڈر پر لے آیا۔ انہیں بظاہر جنگی مشقوں کا نام دیا گیا مگر اتنی بڑی فوج کی تمام تر جنگی سازوسامان کیساتھ اس وسیع پیمانے پر نقل و حرکت اور پاکستانی علاقوں کے قریب پڑاو کو جنگی مشقیں نہیں کہا جا سکتا تھا۔ یہ وہ موقعہ تھا جب ضیاءالحق کرکٹ میچ دیکھنے ہندوستان جا پہنچے اور وہاں راجیو گاندہی کو بتا دیا کہ اس کا انجام کیا ہو گا۔ اور یہی نہیں بلکہ اس وقت کے وزیراعظم پاکستان محمد خان جونیجو نے بھی ریڈ لائن پر جا کر راجیو کو فون کال ملائی اور اس مسلط کردہ جنگ کے ممکنہ نتائج سے آگاہ کیا۔ ان کٹھن حالات میں سے گزر کر پاکستان اس فیز میں آن پہنچا کہ جب باقاعدہ دھماکہ کر کے دنیا کو بتانا اور دکھانا باقی رہ گیا تھا۔
بارہ اور تیرا مئی کے بھارتی دھماکوں نے ہمیں یہ جواز بھی دے دیا۔ اور ان کے جواب میں تیزی سے جوابی دھماکوں کی تیاریاں شروع کر دی گیئں۔ اس دوران امریکہ سمیت دنیا بھر سے دباو بھی آیا اور بیشمار آفرز بھی ہویئں۔اسوقت کے امریکی صدر بل کلنٹن نے کئی بار اس وقت کے پاکستانی وزیراعظم نوازشریف سے طویل بات چیت کی مگر یہ طے کر لیا گیا کہ اب دنیا کو اپنی یہ پوشیدہ صلاحیت دکھانے کا وقت آن پہنچا ہے۔ حالانکہ زبانی طور پہ اپنے دشمنون اور دوستوں کو بتایا جا چکا تھا کہ ہم اپنی منزل حاصل کر چکے ہیں۔ 1984ء میں سی آئی اے نے جب ہمیں بھارتی و اسرایئلی حملے کا عندیہ دیا (کیونکہ ہم افغان وار میں ان کے اتحادی بھی تھے) تو ہم نے حملہ آوروں کو بتا دیا تھا کہ بس کر دیں اب بہت تاخیر ہو چکی ہے۔ اسی طرح 30 مارچ 1987ء میں جنرل ضیاءالحق نے ایک انٹرویو میں بھی کہہ دیا تھا کہ ہم ایٹمی صلاحیت حاصل کر چکے ہیں۔ جب ہندوستان نے ایٹمی تجربات کیئے تو محترمہ بینظیر بھٹو اس وقت دبئی میں قیام پذیر تھیں۔ وہ فوری طور واپس پاکستان پہنچیں اور 19 مئی 1998ء کو کراچی ایئرپورٹ پہ اترتے ہوئے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کے پاس بھی اب ایٹمی صلاحیت موجود ہے۔
بالآخر مئی کا وہ آخری عشرہ شروع ہوا جس میں دھماکے کیئے جانے تھے۔ اس پورے مشن کو کامیاب بنانے کیلئے تمام فورسسز نے ایک ناقابل تسخیر دفاعی حصار بنایا۔ اس میں پاک فضایئہ کا بڑا کلیدی کردار رہا ہے اور انہوں نے فضاء میں ایک دفاعی حصار بنایا اور اس پورے مشن کو “آپریشن بیدار 98” کا نام دیا۔ پی اے ایف کے سکواڈرن نائن کے پاس کوئٹہ سے چاغی تک کا علاقہ تھا جبکہ جیکب آباد کے شہباز ایئربیس پر سکواڈرن الیون تعینات کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ چھ بمبار طیارے ہر وقت فضاء میں موجود رہے۔ اگر ہم اسکو مختصر کریں تو کل ملا کر اس وقت پاک فضایئہ کے پاس فضا میں ساڑھے بارہ لاکھ پاونڈ وزن کا گولہ بارود موجود تھا۔ دھماکوں کیلئے تمام ضروری سامان جدید اور بھاری بھر کم طیاروں میں چکلالہ سے دالبدین ایئرپورٹ شفٹ کیا گیا۔جنکی فضا میں حفاظت کیلئے چار ایف سولہ جنگی لڑاکا طیارے فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں سے لیس ساتھ ساتھ موو کر رہے تھے۔ اور ان کو حکم تھا کہ اگر معلوم ہو کہ حساس سامان لیجانے والے طیاروں کو ہائی جیک یا ملکی سرحدوں سے باہر لیجایا جا رہا ہے تو انہیں تباہ کر دیا جائے۔
ان حالات میں جب ایک بار پھر اسرایئلی جنگی جہاز اس نقل و حرکت کو نشانہ بنانے کی غرض سے سری نگر رن وے پہ اترے تو نصف شب بھارتی ہائی کمشنر کو نیند سے بیدار کیا گیا اور اسکو دوٹوک انداز میں بنا کسی تمہید کے بتا دیا گیا کہ اگر کوئی ایسی ویسی حرکت کی گئی تو دونوں ممالک دنیا کے نقشے سے مٹا دیئے جایئں گے۔ ساتھ ہی کلنٹن نے بھی انہیں آگاہ کر دیا تھا کہ پاکستان کے ساتھ اسوقت کوئی پنگا نہ کرنا ورنہ بہت بھیانک نتائج نکلیں گے۔۔
کہانی ابھی مکمل نہیں ہوئی۔ بلکہ اسکو آپ ایک تمہیدی کہانی کہہ سکتے ہیں جس کے بعد کچھ مزید باتیں عرض کرنی ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ اس کہانی کو آخر تک تمام نوجوان نسل لازمی پڑھے۔ اب تک کی کہانی پر ummatdigitalpk نے ایک ویڈیو بنائی جو ان کے فیس بک پر موجود ہے۔ میرا دل چاہا کہ اسکو اپنی وال پہ شیئر کر دوں کیونکہ اس میں ایسی نادر معلومات تھیں کہ جن میں سے کچھ کا مجھے بھی علم نہیں تھا۔ مگر یہ پوری ویڈیو ان کے فیس بک پیج پر موجود نہیں تھی بلکہ ویڈیو کا کچھ حصہ دکھانے کے بعد انہوں نے پوری ویڈیو دیکھنے کیلئے یوٹیوب کا لنک دے دیا۔ اور مجھے اندازہ تھا کہ اسکو دیکھنے کیلئے بہت کم لوگوں کے پاس وقت اور دلچسپی ہو گی لہذا میں نے کئی گھنٹے لگا کر اسکو حرف بہ حرف لکھا اور پھر اسکو ٹائپ کر کے آپ کے سامنے آرٹیکلز کی شکل میں پیش کر دیا۔اس ضمن میں، میں نے ماضی کے ہفت روزہ تکبیر اور روزنامہ امت بھی کھنگالے۔۔۔میں چاہ رہا تھا کہ اس سال یوم تکبیر پر ہم نوجوان نسل کو آگاہ کریں کہ ریاستوں کو اپنا وجود قائم رکھنے کیلئے کیا کچھ کرنا پڑتا ہے۔۔کتنے بڑے بڑے لوگوں کی جانیں جاتی ہیں۔۔کتنے سانحات جنم لیتے ہیں اور کتنی ماوں کی کوکھ ویران ہوتیں ہیں، اجڑتی ہیں تب جا کر کہیں ہزاروں سال سے بےنور روتی نرگس کے چمن میں کوئی دیدہ ور پیدا ہوا کرتا ہے۔۔
غلام شبیر منہاس
جاری ہے