ماحولیات کے تحفظ کیلئے درخت لگائیں

تحریر۔۔،مظہر حسین باٹی

درخت ماحول کو صاف ستھرا رکھتے ہیں آکسیجن وافر مقدار میں صاف و شفاف مہیا ہوتی ہے،درخت سخت گرمی میں جہاں ٹھنڈک فراہم کرتے ہیں وہاں کڑی دھوپ میں انسانوں،جانوروں اور چرند پرند کے لیے سایہ بھی مہیا کرتے ہیں،شدید گرمی کے موسم میں درختوں کی گھنی چھاؤں میں بیٹھنے سے یقینا بہت سکون ملتا ہے انسانی طبیعت ہشاش بشاش ہو جاتی ہے،ہمارے اردگرد جس ماحول میں زیادہ درخت ہوں گے وہاں ماحول صاف ستھرا رہتا ہے درخت سیلاب میں پانی کے کٹاؤ کی شدت کو کم کرتے ہیں،فضائی آلودگی درختوں سے کم ہوتی ہے،محکمہ جنگلات کی طرف سے شجر کاری مہم کے دوران سالانہ ہزاروں درخت لگائے جاتے ہیں جن کی دیکھ بھال سے نہروں یا راجباہ سے ملازمین کڑی دھوپ میں پانی لگا رہے ہوتے ہیں،اگر ہر شخص اپنے حصے کا ہر سال یا چھ ماہ بعد اپنے اردگرد یا کسی بھی جگہ پر پودا لگائے تو یقینا ہر طرف درخت ہی درخت ہوں گے،درختوں کے بے شمار فوائد ہیں ان کی قیمتی لکڑی سے ہمہ قسم کا فرنیچر،گاڑیوں کے مختلف حصوں میں لکڑی کا کام کیا جاتا ہے،کشتیاں بھی لکڑی سے تیار کی جاتی ہیں ہمارے ملک بہت سے ایسے کام ہیں جہاں پر لکڑی کا استعمال کیا جاتا ہے،جب درخت پر صبح سویرے پرندے چہچہا رہے ہوتے ہیں تو یقینا دل کو تازگی اور کانوں کو سکون میسر ہوتا ہے،اگر ایک شخص درخت لگاتا ہے تو اس کے سایے میں انسان بھی بیٹھتے ہیں اور جانور بھی باندھے جاتے ہیں حتی کہ پرندوں کے گھونسلے بھی درختوں پر ہوتے ہیں اور درختوں کی ٹہنیاں پرندوں کے پرسکون بیٹھنے کے کام آتی ہیں،جس میں درخت ہوتے ہیں وہاں پر پورا گھر اسکی چھاؤں استعمال کرتا ہے اور اس گھر میں ایئر کنڈیشنڈ کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی،درخت لگانا صدقہ جاریہ بھی ہے،ہمیں چاہیے کہ ہم محکمہ جنگلات کے ملازمین کی حوصلہ افزائی کے لیے درختوں کے پودے لگانے میں ان کا ساتھ دیں اور ہر پبلک پوائنٹس پر درخت لگانے کی تبلیغ کریں اور خود بھی درخت لگانے میں پہل کریں۔
ہمارے ملک پاکستان میں بہت بڑے بڑے جنگلات ہیں جہاں پر ہر قسم کے درخت موجود ہیں جنگلات میں چرند پرند کا بسیرا ہوتا ہے اور ہمہ قسم کے جانور بھی جنگلوں میں رہتے ہیں،درختوں سے تیز آندھی کی شدت میں کمی آتی ہے،
ایک وقت ہوتا تھا جب جس گاؤں میں بجلی وغیرہ نہیں ہوتی تھی تو پورے گاؤں کے لوگ درختوں کی چھاؤں میں کھانا وغیرہ کھاتے،آرام کرتے اور شام کو اپنے گھروں میں چلے جاتے تھے درخت اگر لگایا جاتا ہے تو اس کی دیکھ بھال کرنا ان کو پانی وغیرہ دینا بھی ذمہ داری ہوتی ہے جو لوگ درختوں کے ساتھ ساتھ نمائشی پودے لگاتے ہیں وہ یقننا خوش و بااخلاق لوگ ہوتے ہیں،آپ صحراؤں کی زندگی کا اگر جائزہ لیں جہاں درخت نہیں ہیں تو آپکو موسموں کی شدت کا احساس ہوگا لہذا ہمیں چاہیے کہ ہر کوئی اپنی زندگی میں اپنے حصے کے زیادہ سے زیادہ درخت لگائیں،درخت جہاں ماحولیات آلودگی کو کم کرتے وہاں ماحول میں درجہ حرارت کو بھی کنٹرول میں رکھتے ہیں،درختوں کے انسانی زندگی میں بے شمار فوائد ہیں۔
ساون کا مہینہ شجرکاری کا سنہری موقع ہے 13 جولائی سے ساون کا مہینہ شروع ہو رہا ہے۔ بزرگوں سے سنا ہے کہ ساون میں اگر سوکھی لکڑی بھی زمین میں لگا دی جائے تو وہ سبز ہو جاتی ہے۔ یعنی یہ مہینہ درخت لگانے اور پودے لگانے کے لیے سب سے موزوں اور بابرکت وقت ہے۔
آئیے ہم سب مل کر شجرکاری کی تیاری کریں تاکہ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت پر قابو پایا جا سکے اور آنے والی نسلوں کو ایک بہتر ماحول فراہم کیا جا سکے۔