مسلم دنیا سے دور یورپی ملک البانیہ
تحریر: سلمان احمد قریشی
البانیہ جنوب مشرقی یورپ میں واقع ایک چھوٹا مگر منفرد ملک ہے، جس کی آبادی کی اکثریت مسلمان ہے، لیکن اپنی سیاسی، سماجی اور خارجی سمت کے اعتبار سے یہ مکمل طور پر یورپی صف میں کھڑا دکھائی دیتا ہے۔ مسلم دنیا سے یہ خاصا منفرد اور سیاسی طور پر الگ تھلگ ہے۔ یہاں تقریباً 60 فیصد آبادی مسلمان ہے، تاہم یہ نہ تو اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کا فعال رکن ہے اور نہ ہی عرب یا دیگر مسلم ممالک کے ساتھ گہرے تعلقات رکھتا ہے۔ مجموعی آبادی کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ کیتھولک یا آرتھوڈوکس مسیحی ہے۔
تاہم عقیدے کے اختلاف کے باوجود یہاں کے عوام خوش اسلوبی سے مل جل کر زندگی گزارتے ہیں۔ مختلف مذاہب کے لوگ ایک دوسرے کے مذہبی تہواروں میں شریک ہوتے ہیں۔ پوپ فرانسس نے 2014 میں اپنے یورپی دورے کا آغاز البانیہ سے کیا تاکہ یہاں مسلمانوں اور مسیحیوں کے درمیان مذہبی رواداری کو سراہا جا سکے۔ البانیہ آج دنیا میں مذہبی ہم آہنگی کی ایک قابلِ تقلید مثال کے طور پر جانا جاتا ہے۔
البانیہ کا رقبہ 28,748 مربع کلومیٹر ہے اور یہ بلقان کے جزیرہ نما پر واقع ہے۔ مغرب میں بحیرہ ایڈریاٹک، جنوب مغرب میں بحیرہ آیونئین، شمال مغرب میں مونٹی نیگرو، شمال مشرق میں کوسوو، مشرق میں شمالی مقدونیہ اور جنوب میں یونان سے ملتا ہے۔ شمال سے جنوب تک 340 کلومیٹر اور مشرق سے مغرب تک 148 کلومیٹر تک پھیلا ہوا یہ ملک پہاڑوں، جھیلوں، وادیوں اور ساحلی پٹیوں کی خوبصورتی سے مالا مال ہے۔
البانیہ میں البانوی الپس، کوراب، پنڈس، سیراونین اور سکندربیگ جیسے پہاڑی سلسلے موجود ہیں۔ شکوڈیر جھیل جنوبی یورپ کی سب سے بڑی جھیلوں میں سے ہے، جب کہ اوہرڈ اور پریسپا جھیلیں قدیم اور بلند ترین جھیلوں میں شمار ہوتی ہیں۔ دریاؤں میں دریائے ڈرین سب سے طویل ہے، جب کہ دریائے وجوسے یورپ کے آخری قدرتی دریاؤں میں شامل ہے۔
قدرتی حسن، پہاڑ، دریا، آثارِ قدیمہ اور مساجد و کلیسا کی موجودگی کی وجہ سے ہر سال لاکھوں سیاح البانیہ کا رخ کرتے ہیں۔ بیرات اور جیجروکاسترا جیسے شہر یونیسکو کے عالمی ورثے میں شامل ہیں۔ اگرچہ معیشت کمزور ہے، مگر ملک کی قدرتی اور ثقافتی کشش اسے یورپ کے اہم سیاحتی مراکز میں بدل رہی ہے۔
دوسری جنگِ عظیم کے دوران البانیہ وہ واحد یورپی ملک تھا جہاں نازی قبضے کے باوجود یہودیوں کو نہ صرف قتل نہیں کیا گیا بلکہ مقامی مسلمانوں نے ان کو پناہ دی۔ جنگ کے بعد یہاں یہودی آبادی میں اضافہ ہوا، جو تاریخ میں ایک انوکھا واقعہ ہے۔
البانیہ کے عوام کی اکثریت البانوی نسل سے تعلق رکھتی ہے۔ اصل میں، “البانیہ” نام “اللیریہ” نامی قدیم قبیلے سے آیا ہے۔ ان کی زبان اور نسل کو یورپ کی قدیم ترین شناختوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ملک کا مقامی نام “شقپیریہ” ہے، جس کا مطلب ہے “عقاب کی سرزمین”۔
البانیہ تقریباً چار صدیوں تک سلطنت عثمانیہ کے زیرِ اثر رہا، جہاں اسلام نے گہری جڑیں پکڑیں۔ مگر 20ویں صدی میں اینور ہوژا کی کمیونسٹ حکومت نے مذہب کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا۔ 1967ء میں اسے دنیا کی پہلی “ملحد ریاست” قرار دیا گیا۔ مذہبی آزادی 1990 میں بحال ہوئی، مگر مذہبی روایات کو شدید نقصان پہنچ چکا تھا۔
28 نومبر 1944ء کو البانوی گوریلا افواج نے جرمنی سے آزادی حاصل کی۔ یہ مشرقی یورپ کی واحد قوم تھی جس نے روسی مدد کے بغیر آزادی حاصل کی۔ اینور ہوژا کی سخت گیر کمیونسٹ حکومت نے مذہب، معیشت اور آزادیوں پر قدغن لگا دی۔ ان کے بعد رمیز عالیہ نے کچھ اصلاحات کیں اور 1990 میں مذہبی آزادی بحال کی۔ 1992 کے بعد صدر سالی بیریشا نے آزاد معیشت، جمہوریت اور مغرب کے ساتھ تعلقات کو فروغ دیا۔
2013 سے ایڈی راما ملک کے وزیراعظم ہیں، جو سوشلسٹ پارٹی کے سربراہ ہیں۔ ان کی قیادت میں البانیہ نے یورپی یونین میں شمولیت کو اپنی خارجہ پالیسی کی بنیادی ترجیح بنایا ہے۔ موجودہ صدر باجرام بوجا 2022 میں منصب پر فائز ہوئے۔ وہ سابق فوجی افسر ہیں اور ملکی استحکام، دفاع اور یورپی انضمام پر کام کر رہے ہیں۔
کمیونزم کے خاتمے کے بعد البانیہ نے آزاد معیشت اختیار کی ہے۔ سیاحت، زراعت اور خدمات کا شعبہ اہم ہے، مگر بدعنوانی، بے روزگاری اور کمزور انفراسٹرکچر چیلنج ہیں۔ یورپی یونین میں شمولیت کی خواہش ہی البانیہ کی مغربی وابستگی کی بنیادی وجہ ہے۔
البانیہ نے 1992 میں او آئی سی کی رکنیت حاصل کی، مگر اس کی شرکت رسمی ہے۔ فلسطین، کشمیر یا روہنگیا جیسے مسائل پر وہ خاموش یا محتاط موقف اختیار کرتا ہے۔ اسرائیل سے سفارتی تعلقات اور مذہب کو نجی معاملہ سمجھنا اس کی سیکولر پالیسی کی مثالیں ہیں۔ یورپی انضمام کی خواہش، نیٹو رکنیت، اور مغرب سے قربت اسے مسلم دنیا سے کافی فاصلے پر لے جاتی ہیں۔
البانیہ کا دارالحکومت ترانہ (Tirana) نہ صرف سیاسی و اقتصادی مرکز ہے بلکہ تعلیمی و ثقافتی سرگرمیوں کا گڑھ بھی ہے۔ یہاں جدید یورپی عمارات اور عثمانی دور کی نشانیاں ایک ساتھ دیکھی جا سکتی ہیں۔
پاکستان اور البانیہ کے درمیان 1990 کی دہائی میں سفارتی تعلقات قائم ہوئے۔ دو طرفہ تجارت محدود ہے، مگر دوستانہ روابط موجود ہیں۔ پاکستان نے البانیہ کی یورپی انضمام کی حمایت کی ہے، جب کہ البانیہ نے پاکستان کے امن اقدامات کو سراہا ہے۔ ثقافتی اور تعلیمی تعاون کی مزید گنجائش ہے، جیسے کہ تعلیمی وظائف، اسلامی ورثے پر تحقیق، اور سیاحت میں باہمی سرمایہ کاری۔
اگرچہ البانیہ ایک مسلم اکثریتی ملک ہے، مگر اس کی تاریخ، طرزِ حکمرانی اور خارجہ پالیسی اسے مسلم دنیا سے ایک الگ راستے پر ڈالتی ہیں۔ سیکولر ازم، یورپی وابستگی اور مغرب کی ثقافتی اقدار کو اپنانا اس کی شناخت کا حصہ بن چکے ہیں۔ پاکستان جیسے ممالک کے لیے یہ ایک چیلنج اور موقع دونوں ہے کہ وہ دانشمندی، شفافیت اور تدریجی سفارتی کوششوں سے البانیہ جیسے ممالک سے تعلقات کو فروغ دیں۔








