تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور عوامی مشکلات

تحریر: اللہ نواز خان

allahnawazk012@gmail.com

افواہیں تھیں کہ حکومت تیل کی قیمتوں میں بہت بڑا اضافہ کرنے والی ہے،ان افواہوں پریقین نہیں تھا لیکن وہ افواہیں حقیقت میں بدل گئیں۔پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا۔پٹرول فی لیٹر 137.23 روپے اور ڈیزل 184.49 روپے مہنگا کر دیا گیا،اس طرح پٹرول کی نئی قیمت458.41 اور ڈیزل کی نئی قیمت 520.35 روپے مقرر کر دی گئی ہے. اتنا غیر معمولی اضافہ کسی بھی پاکستانی کی توقع کے بغیر ہوا ہے۔حکومت نے اس اضافے کے لیےیہ جوازپیش کیا کہ مشرق وسطی میں جنگ کی وجہ سے قیمتوں میں اضافہ کیا جا رہا ہے اور یہ بھی کہ عالمی طور پر تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔پاکستانی پہلے ہی سے مختلف مسائل کا شکار ہیں،اب تیل کی قیمیتیں بڑھا کر مسائل میں مزید اضافہ کر دیا گیا ہے۔ساتھ ہی یہ قوم کو خوشخبری بھی سنا دی گئی ہے کہ سبسڈی بھی دی جائے گی۔سبسڈی کی صورتحال ابھی تک واضح نہیں، لیکن خبروں کے مطابق سبسڈی موٹر سائیکلوں،ٹرانسپورٹ اور کسانوں کو دی جائے گی۔اب یہ سبسڈی آسانی سے ملے گی یا مشکل سے،کچھ نہیں کہا جا سکتا۔یہ دعوی کیا جا سکتا ہے کہ یہ سبسڈی مہنگائی کی نسبت بہت ہی معمولی سی ہوگی۔یہ سبسڈی کرپشن کی نظر بھی ہو سکتی ہے اور بلکہ ممکنہ طور پر کرپشن کا شکار ہو جائے گی۔بہت سے افراد اس سبسڈی سے محروم بھی ہو جائیں گے،جس طرح ماضی میں اکثریت محروم رہ جاتی ہے۔مہنگائی پہلے ہی بہت بڑھی ہوئی تھی،اب مزید بڑھ جائے گی۔
پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ عوام کے لیے ناقابل برداشت ہے۔سوشل میڈیا پر زبردست تنقید کی جا رہی ہے۔مختلف قسم کے تبصرے کیے جا رہے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ اضافہ ضروری نہیں تھا۔پاکستان میں اکثر ایسی پالیسیاں بنائی جاتی ہیں،جو کہ ائی ایم ایف کی شرائط کے مطابق ہوتی ہیں اور یہ پالیسیاں عوام کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتی ہیں۔عوامی حلقوں کی طرف سے یہ کہا جا رہا ہے کہ پاکستان کوآبنائے ہرمز سے تیل گزارنے کی اجازت ہےتوقیمتوں میں اضافہ کیوں کیا گیا ہے؟حکومت کا جواز یہ ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ چکی ہیں اور پہلے عوام کو سبسڈی دی جا رہی تھی۔حکومتی اراکین کا یہ موقف بھی ہے کہ مشکل حالات میں قیمتوں کو کنٹرول کیا جا رہا تھا،اب کنٹرول کرناناممکن ہو گیا ہے اس لیے قیمتوں میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔بہرحال قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا ہے اور اب مشکل ہے کہ کمی کر دی جائے۔مشرق وسطی کی صورتحال بہت ہی بگڑ رہی ہے،مشکل ہے کہ ایران، امریکہ جنگ جلد رکے اور اس طرح صورتحال مزید خراب ہوتی جائے گی۔کہا جا سکتا ہے کہ چند دنوں کے بعد قیمتوں میں مزید اضافہ ہوگا۔آئی ایم ایف مزید ٹیکسز لگانے پر زور دے گا۔مہنگائی پہلے بھی بہت زیادہ ہے اور زیادہ ٹیکسز بڑھانے پر مہنگائی میں غیر معمولی اضافہ ہوگا۔
تیل کی قیمتیں جب بڑھتی ہیں تو مہنگائی خود بخود بڑھ جاتی ہے۔مثال کے طور پر ایک جگہ سے دوسری جگہ تک سبزیاں یا دیگر غذائی ضروریات پہنچانے کے لیے ٹرانسپورٹ کو استعمال کیا جاتا ہے،تیل مہنگا ہونے کی وجہ سے ٹرانسپورٹ کے کرائے بڑھ جاتے ہیں اور یوں تمام اشیاء کی قیمتیں بھی بڑھ جاتی ہیں۔اب جو پہلے ہی مشکل سے گزارا کر رہے تھے اب وہ کس طرح گزارا کریں گے؟بسوں،کوچوں اور دیگر ٹرانسپورٹ کےکرائے بھی بڑھ جائیں گے۔ادویات کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو جائے گا اور کپڑا سمیت ہر چیز کی قیمت کئی گنا زیادہ بڑھ جائے گی۔پاکستان میں عوام کی اکثریت دیہاڑی دار مزدور ہے اور کام نہ ہونے کی وجہ سے بےروزگاری مزید بڑھے گی۔مہنگائی کی وجہ سے غربت بڑھے گی اور بڑھتی غربت مختلف قسم کے بحران پیدا کر دے گی۔تیل کی بڑھتی قیمتوں کا اثر زراعت اور انڈسٹری پر بھی پڑے گا۔تیل کی قیمتوں کی وجہ سے بجلی کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو جائے گا اور زراعت میں استعمال ہونے والے لوازمات کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوگا۔بیج،کھادیں،پانی اور زراعت میں استعمال ہونے والی مشینری بھی مہنگی ہو جائے گی اور اس کا اثر زراعت پر بہت زیادہ پڑے گا۔تعمیرات کا شعبہ بھی زبردست متاثر ہوگا،کیونکہ تمام میٹیریل مہنگا ہو جائے گا۔جب تعمیرات کا شعبہ متاثر ہوگا تومزدور(تعمیرات سےوابستہ مزدور) بھی بہت ہی مشکل کا شکار ہو جائیں گے
پاکستان میں عوامی حالت کا خیال نہیں رکھا جاتا اور مشکل فیصلے عوام کو ہی مجبورا قبول کرنے پڑتے ہیں۔حکمران طبقہ شایدیہ سمجھتا ہے کہ عام عوام مطمئن ہے،لیکن احتجاج کسی بھی وقت اٹھ سکتا ہے۔حکمرانوں کو سوچنا چاہیے کہ عام آدمی کا بھی حق ہے کہ وہ بھی زندگی گزارے۔تیل کی قیمتوں میں اتنا اضافہ عوام کے لیے بہت ہی ناقابل برداشت ہے۔فوری طور پر قیمتوں میں کمی کی جائے تاکہ عام آدمی کو ریلیف مل سکے۔فوری طور پر قیمتیں اگر کم نہیں ہو سکتی تو جو سبسڈی دی جا رہی ہے،اس سبسڈی کو حقدار تک پہنچنا چاہیے۔حکومت اور عوام کے درمیان پہلے بھی بہت سے فاصلے بڑھے ہوئے ہیں،اس طرح کے اعمال سےفاصلے مزید بڑھ جائیں گے۔حکومت صرف یہ واضح کرتی ہے کہ ایسا مجبورا کیا جا رہا ہے اور یہ وضاحت کر کے سمجھا جاتا ہے کہ اب بری الزمہ ہو گئے ہیں۔بری الذمہ قطعا نہیں ہوا جا سکتا بلکہ ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔لگتا ہے کہ قیمتوں میں کمی نہیں ہوگی بلکہ مزید اضافہ ہوگا۔دعا کی جا سکتی ہے کہ اللہ پاک پاکستانیوں کے حال پر رحم کرے۔