پاکستان میں ٹیکسٹائل انڈسٹری،زوال کیوں اور حل کیسے؟

تحریر:اللہ نواز خان

allahnawazk012@gmail.com
پاکستان میں ٹیکسٹائل انڈسٹری زوال پذیرہو رہی ہے۔ٹیکسٹائل صنعت کی وجہ سے معیشت کو استحکام حاصل تھامگراب یہ انڈسٹری سخت مشکلات کا شکار ہوگئی ہے۔ناقص پالیسیوں نے بھی اس شعبے کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔اس شعبے کی وجہ سے لاکھوں افراد ملازمت کر رہے تھے اور اور سرمایہ بھی حاصل ہو رہا تھا۔اب تقریبا 144 ملز بند ہو چکی ہیں،جس کی وجہ سے لاکھوں افراد بے روزگار ہو گئے۔صنعتوں کی بندش کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پیداوار میں بھی کمی ہو گئی ہے۔پیداوار میں کمی کی کئی وجوہات ہیں۔مثال کے طور پر شوگر انڈسٹری ٹیکسٹائل انڈسٹری کو ختم کر رہی ہے،کیونکہ جہاں کپاس کاشت کی جاتی تھی اب وہاں گنا کاشت کیا جا رہا ہے۔گنے کے علاوہ دیگر فصلیں بھی کاشت کی جا رہی ہیں جس کا نقصان ٹیکسٹائل انڈسٹری کو ہو رہا ہے،کیونکہ کپاس کی وجہ سے یہ انڈسٹری کامیاب تھی مگر کپاس کاشت نہ کرنے کی وجہ سے یہ انڈسٹری نقصان اٹھا رہی ہے۔اس کے علاوہ بہت سارقبہ ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی نظر بھی ہو گیا ہے اور بہت سا سرمایہ رئیل اسٹیٹ میں بھی لگا دیا گیا ہے۔سرمایہ کی کمی کی وجہ سے اس انڈسٹری کا کامیاب ہونا ناممکن تھا اس لیے یہ خسارے برداشت کرنے پڑے۔موسمیاتی تبدیلیوں نے بھی اس انڈسٹری کو سخت نقصان پہنچایا ہے۔بےموسمی بارشیں اور سیلابوں سے یہ انڈسٹری شدید متاثر ہوئی ہے۔پانی کی قلت اور غیر معیاری بیج بھی زوال پذیری کا سبب بنا ہے۔کپاس کی فصل کی نگہداشت بھی بہتر طریقے پر نہیں ہوتی اور بہتر طریقے پر نگہداشت نہ ہونا کپاس کی فصل کے لیے سخت نقصان دہ ہوتا ہے۔بعض اوقات کپاس کی فصل پر کیڑے حملہ آور ہوتے ہیں،لیکن کیڑے مار ادویات کا سپرے نہیں کیا جاتا جس کی وجہ سے فصل کو نقصان پہنچتا ہے۔کیڑے مار ادویات کا سپرے اسی وجہ سے بھی نہیں ہوتا کہ ادویات مہنگی ہوتی ہیں یاکاہلی کی وجہ سے سپرے نہیں ہو پاتا،نتیجے کے طور پر کپاس کی کم پیداوار حاصل ہوتی ہے۔پاکستان میں دیگر ممالک کی نسبت کپاس کی کاشت پر بہت زیادہ اخراجات آتے ہیں،جس کی وجہ سے کپاس کی قیمت بڑھ جاتی ہے۔بنگلہ دیش،ویتنام سمیت کچھ دیگر ممالک میں کپاس کی کاشت پر کم اخراجات آتے ہیں،یوں پاکستانی کپاس مہنگی ہونے کی وجہ سے عالمی مسابقت ممکن نہیں رہتی۔ کچھ دیگر وجوہات بھی ہیں جن کی وجہ سےماضی کی نسبت حال میں کپاس کی کاشت میں کمی دیکھنے میں آرہی ہے۔2005 تک 14 ملین بیلز حاصل ہوتی تھیں،اب 5 ملین بیلز تک گراوٹ دیکھنے میں آئی ہے۔اس کا مطلب ہے کہ 65 فیصد کمی ہوئی اور یہ کوئی معمولی کمی نہیں بلکہ بہت بڑا نقصان ہے۔پاکستان میں کپاس کی کمی کی وجہ سے خام مال درآمد کرنا پڑتا ہے،جس کا خسارہ اٹھانا پڑ رہا ہے۔ٹیکسٹائل انڈسٹریز کپاس کے علاوہ دیگر پالیسیوں کی وجہ سے بھی زوال پذیر ہو رہی ہے۔مہنگی اورناقابل بھروسہ توانائی کی وجہ سےاس انڈسٹری کو ناقابل تصور نقصان پہنچ رہا ہے۔صنعتی بجلی کی نرخ فی یونٹ بہت زیادہ ہیں جو بنگلہ دیش، ویتنام اور انڈیا سے تقریبا دو گنا ہیں۔گیس بھی مہنگی ہے جس سے پیداواری لاگت میں اضافہ ہو جاتا ہے اور ملز کی صلاحیت بھی کم ہوتی ہے۔ٹرانسپورٹ کے مسائل بھی ہیں۔مثال کے طور پر کھیتوں سے لے کرملز تک کپاس پہنچانا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔کرائے اور مزدوری کے اخراجات بہت زیادہ آتے ہیں،یوں ٹیکسٹائل انڈسٹری کو مہنگے داموں کپاس دستیاب ہوتی ہے۔بھاری ٹیکسز نے بھی اس انڈسٹری کو کامیابی سے ہم کنار ہونے سے روکا ہے۔بلند شرح سود اور گلوبل ڈیمانڈ میں سست روی بھی اس انڈسٹری کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے۔
مشکلات کے باوجود ٹیکسٹائل انڈسٹری کو سنبھالا جا سکتا ہے۔اب بھی یہ صنعت ملک کو فائدہ پہنچا رہی ہے۔اس انڈسٹری کو خصوص توجہ دی جائے تاکہ یہ آگےکی طرف بڑھ سکے۔سبسڈی کے ذریعے اس انڈسٹری کو سنبھالا جا سکتا ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق اس انڈسٹری کو سنبھالنے کے لیے حکومت پلان بنا رہی ہے۔امید کی جانی چاہیے کہ اس انڈسٹری کے لیے یہ پلان بہت ہی بہترین ثابت ہوگا۔سستی توانائی بھی مہیاکر کے اس انڈسٹری کو سنبھالا جا سکتا ہے۔بہت سے رقبہ جات غیرآباد پڑے ہیں ان کو آباد کر کے کپاس کاشت کی جا سکتی ہے۔کیڑے مار ادویات بھی سستی کی جائیں۔جدید تحقیقات سے بھی کسانوں کو آگاہی دی جائے تاکہ وہ فصلوں کی بہتر نگہداشت کر سکیں۔رپورٹس کے مطابق پنجاب میں زیادہ رقبہ پر کپاس کاشت کی جا رہی ہے،اسی طرح دوسرے علاقہ جات میں بھی کپاس کاشت کرنے کی حوصلہ افزائی کی جائے۔پانی کی قلت جیسے مسائل پر بھی قابو پانا ضروری ہے تاکہ پانی کی قلت نہ رہے۔ٹیکسٹائل انڈسٹری پر فوری طور پر توجہ نہ دی گئی تو مستقبل میں زیادہ مسائل بڑھ جائیں گے۔ٹیکسٹائل انڈسٹری ملک کی معاشی حالت بہت ہی بہتر بنا سکتی ہے۔بہت سی ملز میں پرانی مشینری کا استعمال ہو رہا ہے،اس لیے ضروری ہے کہ نئی مشینری ملز میں نصب کی جائے۔نئی مشینری کے لیے حکومت خصوصی فنڈز مہیا کرے۔عالمی منڈیوں میں بھی اس انڈسٹری کی پیداوار کو فروخت کرنے کے لیےآسانیاں پیدا کی جائیں۔جتنی بھی ملز بند ہو چکی ہیں،ان کو دوبارہ بحال کرنا ہوگا ورنہ پاکستانی معیشت مزید خسارے کا شکار ہوتی رہے گی۔