کالا چشمہ 🕶️
تحریر ! سید شاکر علی شاہ
انسان نے جہاز اڑا دیا چاند پر پہنچا دیا براہ راست کیمرے سے دکھا دیا لیکن دلوں کے راز کو نہیں جان پایا ،یہ صرف اللہ کی ذات ہی اپ کے دلوں کے راز جانتی ہے
اسی لیے لوگوں کی پہچان کرنا بہت مشکل ہو گیا ہے اکثریت میں لوگ منافقت سے کام لیتے ہیں اپ کے سامنے اچھا ادمی بیٹھا ہے یا برا اپ فیصلہ ہی نہیں کر پائیں گے اس کے لیے ایک کہانی اپ کی نظر کر رہا ہوں ،
فاطمہ دوپہر ایک بجے یونیورسٹی سے گھر جانے کے لیے بس سٹاپ کی طرف چلی جون کا مہینہ سورج بھی اپنی آب و تاب کے ساتھ چمک رہا تھا
فاطمہ سیکنڈ ایئر کی سٹوڈنٹ جو پاکستان کے سسٹم سے اکتا کر پاکستان کی نئی نسل کے بارے میں کچھ نہ کچھ لکھتی رہتی تھی ابھی وہ یونیورسٹی کے گیٹ سے باہر ہی نکلی تھی ساتھ والے کالج سے موٹر سائیکلوں پر چند نوجوان پاس سے ایسے گزرے جیسے کوئی تیز اندھی مٹی اور گندگی اڑاتی ہوئی جاتی ہے ان کی بھی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ کسی گندگی سے کم نہیں تھے
تیز دھوپ میں اہستہ اہستہ چلتی ہوئی کئی اتی جاتی گندی نظروں سے بچتی بچاتی وہ بس سٹاپ پر پہنچی تو وہاں پر بھی بس میں جانے کے لیے نوجوانوں کا ہجوم کھڑا تھا سب کی نگاہیں اسی کی طرف تھی جیسے اس کا انتظار کر رہی ہوں
بس کے اتے ہی دل ہی دل میں گھبرائی اور سسٹم کو کوستی ہوئی فاطمہ بچ بچا کر بس کی ایک سیٹ پر جا کر بیٹھتے ہی اس نے محسوس کیا دوسری جانب سیٹ پر بیٹھا ہوا ایک نوجوان لڑکا کالا چشمہ پہن کر فاطمہ کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا فاطمہ نے کئی بار دھیان ادھر ادھر کیا لیکن وہ مسلسل اسے دیکھ رہا تھا اور مسکرا رہا تھا پہلے تو فاطمہ دل میں گالیاں دینے کے ساتھ انکھوں سے گھورتی بھی رہی لیکن اس لڑکے کی حرکات کچھ زیادہ ہی فاطمہ کو منفی دکھائی دے رہی تھی پھر اچانک کھڑے ہو کر فاطمہ نے اس کو ماں بہن کی گالیاں جب دینا شروع کی تو ایک منچلہ نوجوان کھڑا ہوا اس نے کالے چشمے والے کو گریبان سے پکڑا اور اٹھا کر ایک زوردار تھپڑ جب اس کے منہ پر مارا تو اس کا کالا چشمہ دور جا گرا اس کے چہرے کو دیکھتے ہی ساری بس میں سکتہ طاری ہو گیا کیوں کہ کالے چشمے کے نیچے انکھیں نہیں تھی دو گہرے کھڈے تھے اور وہ بد قسمت انکھیں نہ ہونے کی وجہ سے رو بھی نہیں پا رہا تھا لیکن فاطمہ اج تک اس کے حصے کہ انسو بہا رہی ہے 😭







