گندم کابحران اور قومی غذائی خطرہ

تحریر:اللہ نواز خان

allahnawazk012@gmail.com

گندم پاکستان کی اہم ترین فصل ہے،جو کہ ملک کی غذائی ضروریات کو پورا کرتی ہے۔سب سے زیادہ گندم پنجاب میں کاشت کی جاتی ہے۔حال میں گندم کی کاشت بہت ہی کم ہو رہی ہے،حالانکہ اس فصل پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔کسان گندم کی فصل کاشت کرنے سے اس لیے گریز کر رہے ہیں کہ گندم کی کاشت پر بھاری سرمایہ خرچ ہوتا ہے،لیکن خسارے پر گندم بیچنی پڑتی ہے۔اب کون چاہے گا کہ اس کو خسارہ ہو۔گندم کے مسائل بہت ہی بڑھ رہے ہیں،اگر مسائل پر قابو نہ پایا گیا تو مستقبل میں بہت بڑا نقصان برداشت کرنا پڑے گا۔اگر گندم کی پیداوار کم ہو جائے گی تو جو گندم مارکیٹ میں دستیاب ہوگی وہ مہنگے داموں خریدنی پڑے گی۔گندم سے آٹا بنتا ہے اور آٹا مہنگا ہو جائے تو پاکستانی عوام کے لیے آٹا خریدنا انتہائی مشکل ہو جائے گا۔پاکستان میں کسانوں کو بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔2025۔2026 میں گندم کی کاشت کا رقبہ کم ہو کر9.1 ملین ہیکٹر ہو چکا ہے،جب کہ پچھلے سال 10.37 ملین ہیکٹر تھا۔اس سال11.8 فیصد پیداوار میں کمی متوقع ہے۔جو رقبہ گندم کی کاشت کے لیے استعمال ہو رہا تھا وہ اب انتہائی کم ہو گیا ہے۔اس رقبے پر دیگر فصلات کی کاشت شروع ہو گئی ہے۔ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی وجہ سے بھی فصلات متاثر ہو رہی ہیں۔سر سبز کھیتوں کو ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں تبدیل کر کے بھاری منافع کمایا جا رہا ہے۔بعض رقبے بارانی علاقوں میں ہیں اور بارانی علاقوں میں پیداوار پر بارشوں کا دارومدار ہوتا ہے۔موسمی تبدیلیاں بھی فصلوں کو متاثر کرتی ہیں۔کہیں بہت زیادہ بارشیں ہو رہی ہیں اور کہیں بارشیں انتہائی کم ہوئیں۔بے موسمی بارشوں نے بھی فصلوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔بعض جگہوں پرژالہ باری بھی ہوئی،جس کی وجہ سے بہت زیادہ نقصان ہوا۔سیلابوں کی وجہ سے بھی بہت نقصان ہوا ہے۔سیلابوں سے کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں،صرف فصلیں تباہ نہیں ہوئی بلکہ وہ رقبے بھی متاثر ہوئے جہاں گندم کی فصل کاشت ہوتی تھی۔2025 میں سیلاب سے گندم کے کےذخائر 30 فیصد تک تباہ ہو گئے۔اب کسان اس لیے بھی فصل کاشت کرنے سے گریز کر رہے ہیں کہ پچھلے سال بہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑا۔اس سال حکومت نے گندم فی من 3500 روپے نرخ مقرر کیے ہیں،حالانکہ کسانوں کے اخراجات بہت زیادہ ہوئے ہیں۔پچھلےسال تو کسانوں کو بہت بڑا خسارہ اٹھانا پڑا۔کسان کی پریشانی بجا ہے،کیونکہ اس کو بھاری اخراجات خرچ کرنےکےعلاوہ سخت محنت کرنا پڑتی ہے۔جن کسانوں کے رقبے دریاؤں یا نہروں کے ساتھ ہیں،وہاں پانی سستا دستیاب ہوتا ہے۔جن کسانوں کے رقبےٹیوب ویلز کے پانی سے سیراب ہوتے ہیں،ان کو پانی بہت ہی مہنگا میسر ہوتا ہے۔پانی اس لیے مہنگا میسر ہوتا ہے کہ بجلی مہنگی ہے۔پانی کے علاوہ کھاد بھی مہنگی ہو گئی ہے اور معیاری بیج بھی انتہائی مہنگے ہیں۔اس کے علاوہ زمین کو گندم کی فصل کے لیے تیار کرنا بھی انتہائی مہنگا عمل ہوتا ہے۔ڈیزل کی بڑھتی قیمتیں گندم کی فصل پر اثر انداز ہو رہی ہیں،کیونکہ فصل کاشت کرنے کے لیے ٹریکٹر کے ہل چلائے جاتے ہیں اور فی گھنٹہ کسانوں کو زیادہ ادائیگی کرنا پڑتی ہے۔فصل کی نہگداشت بھی انتہائی ضروری ہوتی ہے۔فصلوں پر وقتا فوقتا بیماریاں بھی حملہ آور ہوتی ہیں اور فضول جڑی بوٹیوں کو تلف بھی کرنا ہوتا ہے،بیماریوں اور جڑی بوٹیوں کو تلف کرنے کے لیے سپرے کیا جاتا ہے۔سپرے کے لیے ادویات انتہائی مہنگی ہو گئی ہیں،لازمی طور پر اس مہنگائی سے کسان متاثر ہوتا رہتا ہے۔علاوہ ازیں اناج کو کھیت سے لے کر گھر یا مارکیٹ تک پہنچانا ہوتا ہے،اس طرح پھر اخراجات آتے ہیں اور وہ اخراجات مجبورا کسان برداشت کرتا ہے۔ناگہانی آفات کا خدشہ بھی موجود ہوتاہے۔بعض اوقات بارشوں سےفصل گرجاتی ہے اورگری ہوئی فصل کادانہ نہیں بنتا۔
گندم کی کاشت کم ہونا انتہائی افسوسناک امر ہے۔حکومت کو فوری طور پر توجہ دے تاکہ اس بحران سے نپٹا جا سکے۔کسی بھی فصل کے لیے پانی انتہائی اہم ہوتا ہے،اس لیے ضروری ہے کہ پانی پر کسانوں کو سبسڈی دی جائے۔ٹیوب ویلز کے لیے ایک خصوصی پیکج ہو،جس سے کسان بھی فائدہ اٹھا سکیں۔معیاری بیج کی دستیابی بھی ضروری ہےکیونکہ بعض اوقات بھاری اخرجات کرنے کے باوجود بھی اناج کم حاصل ہوتا ہے،اسی لیے ضروری ہے کہ بیج معیاری ہوتاکہ بہترین فصل کاشت ہو سکے۔کھاد کی قیمتیں بھی کم کی جائیں اور کھیتوں میں استعمال ہونے والی مشینری بھی سستی کی جائے۔مشینری سستی ہونے کے علاوہ جدید بھی ہو تاکہ زیادہ فائدہ اٹھایا جا سکے۔سپرے میں استعمال کی جانے والی ادویات بھی سستی ہونا ضروری ہیں،ورنہ مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکیں گے۔بعض رقبے کاشت کے قابل ہیں لیکن ان پر فصل کاشت نہیں کی جا رہی،حکومت کو چاہیے کہ ان کےمالکان کو پابند کیا جائے کہ وہ گندم کاشت کریں یادیگرکسانوں کے حوالے کیے جائیں تاکہ وہاں فصلیں کاشت کی جا سکیں۔جو رقبے سیلاب یا بارشوں سے متاثر ہو گئے ہیں،ان کو دوبارہ کاشت کے قابل بنانے کے لیےحکومت کسانوں کی مدد کرے۔حکومت کچھ منصوبہ جات میں سبسڈی دے رہی ہے،لیکن یہ خیال رکھنا ضروری ہے کہ حقدار تک حق پہنچے۔کم رقبوں والے کسان ان سبسڈیزسے محروم رہ جاتے ہیں۔بعض اوقات ایسابھی ہوتاہےکہ ٹھیکے پررقبہ حاصل کرنے والے کسانوں کو سبسڈی نہیں ملتی،کیونکہ سبسڈی اصل مالک کو مل جاتی ہے،ٹھیکے پر حاصل کرنے والے کسانوں کو ہی سبسڈی ملنی چاہیے۔
پاکستان ایک زرعی ملک ہے لیکن یہاں اٹے کی قلت پیدا ہو جاتی ہے،جو کہ انتہائی افسوسناک ہے۔اگر گندم زیادہ کاشت کی جائے تو اس کو برآمد کرکے بہت زیادہ سرمایہ حاصل ہوسکتاہے۔کسان کو خوشحال کرنا ضروری ہے تاکہ وہ زیادہ گندم کاشت کر سکے۔زراعت کی جدید تحقیقات سےبھی کسانوں کو روشناس کرانا ضروری ہے،تاکہ کسان زیادہ سے زیادہ فصل اگا سکیں۔حکومت کسانوں کی معاونت کر بھی رہی ہے مثلا کسان کارڈ سے بہت سے کسان فائدہ اٹھا رہے ہیں۔بلا سود قرضے یا بغیر گارنٹی کےقرضے دیے جا رہے ہیں جو کہ فائدہ مند ہیں،لیکن اس سے زیادہ مدد کی ضرورت ہے۔کسان کےاگر گندم کی کاشت پر اخراجات کم ہوں گے تو وہ سستی گندم بیچے گا،جس کا فائدہ عوام کو ہوگا۔اس لیے ضروری ہے کہ گندم کی کاشت کے لیے تمام لوازمات پر سبسڈی دی جائے۔