لالہ انیس الرحمن بٹ خدمت، دیانت اور ٹوبہ ٹیک سنگھ میں خدمتِ خلق، تاجروں کی نمائندگی اور عوامی اعتماد کی درخشاں علامت

تحریر محمد زاہد مجید انور

*شہرِ ٹوبہ ٹیک سنگھ کی شناخت صرف اس کی زرعی اہمیت، کاروباری سرگرمیوں یا سیاسی روایات تک محدود نہیں بلکہ یہ شہر ایسی باکردار اور خدمت گزار شخصیات کی وجہ سے بھی پہچانا جاتا ہے جنہوں نے اپنی زندگی عوامی خدمت، فلاحِ انسانیت اور سماجی بہتری کے لیے وقف کر رکھی ہے۔ انہی ممتاز شخصیات میں ایک نمایاں اور قابلِ احترام نام لالہ انیس الرحمن بٹ کا ہے، جو نہ صرف مرکزی انجمن تاجران ٹوبہ ٹیک سنگھ کے سابق صدر اور بلدیہ کے سابق کونسلر رہے بلکہ اپنی خلوص بھری خدمات، اعلیٰ اخلاق اور عوام دوستی کے باعث شہر بھر میں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔لالہ انیس الرحمن بٹ نے اپنی عملی زندگی میں ہمیشہ خدمتِ خلق کو ترجیح دی۔ کاروباری میدان میں کامیابی حاصل کرنے کے باوجود انہوں نے عوام سے اپنا تعلق کبھی کمزور نہیں ہونے دیا۔ ان کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ وہ ہر وقت عام آدمی کے مسائل سننے اور ان کے حل کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تاجروں، مزدوروں، نوجوانوں، بزرگوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کے دلوں میں ان کے لیے خصوصی محبت اور احترام پایا جاتا ہے۔مرکزی انجمن تاجران ٹوبہ ٹیک سنگھ کے صدر کی حیثیت سے انہوں نے تاجروں کے حقوق کے تحفظ اور کاروباری برادری کو درپیش مسائل کے حل کے لیے بھرپور کردار ادا کیا۔ ان کی قیادت میں انجمن تاجران نے نہ صرف تاجروں کی نمائندگی مؤثر انداز میں کی بلکہ شہر کی مجموعی ترقی، ٹریفک کے مسائل، صفائی ستھرائی اور دیگر شہری معاملات میں بھی مثبت اور تعمیری کردار ادا کیا۔ وہ ہمیشہ اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ تاجر برادری کسی بھی شہر کی معاشی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے اور اس کے مسائل کے حل کے بغیر ترقی کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔بلدیہ کے کونسلر کے طور پر بھی لالہ انیس الرحمن بٹ کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ انہوں نے اپنے دورِ نمائندگی میں عوامی فلاح و بہبود کے متعدد منصوبوں کی حمایت کی اور شہری سہولیات کی بہتری کے لیے آواز بلند کی۔ ان کی کوشش رہی کہ بنیادی شہری مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل ہوں اور عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں میسر آئیں۔سماجی خدمات کے میدان میں بھی ان کا کردار انتہائی قابلِ ستائش ہے۔ بارشوں اور سیلاب کے دوران انہوں نے متاثرہ خاندانوں کی مدد کے لیے ذاتی وسائل سے ریلیف کیمپ قائم کیے، راشن اور ضروری اشیائے خورونوش تقسیم کیں اور مصیبت زدہ افراد کے دکھ درد میں برابر کے شریک رہے۔ اسی طرح مستحق اور نادار طلبہ کی تعلیمی معاونت، غریب خاندانوں کی مالی مدد اور ضرورت مند افراد کی خاموشی سے دستگیری ان کی شخصیت کا وہ روشن پہلو ہے جسے شہر کے لوگ آج بھی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔لالہ انیس الرحمن بٹ نے ہمیشہ پینے کے صاف پانی، صفائی ستھرائی اور شہری مسائل جیسے اہم عوامی معاملات کو اجاگر کیا۔ وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ایک مہذب اور ترقی یافتہ معاشرہ اسی وقت تشکیل پاتا ہے جب عوام کی بنیادی ضروریات کو ترجیح دی جائے۔ ان کی یہی سوچ انہیں ایک عام سیاستدان یا تاجر سے ممتاز بناتی ہے۔آج جب لالہ انیس الرحمن بٹ علالت کے باعث زیرِ علاج ہیں تو پورا شہر ان کی صحت کے لیے دعاگو ہے۔ ان کی بیماری کی خبر نے ان تمام لوگوں کو فکرمند کر دیا ہے جو ان کی خدمات، شفقت اور خلوص سے مستفید ہوتے رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسی شخصیات کسی ایک خاندان یا طبقے کا سرمایہ نہیں ہوتیں بلکہ پورے معاشرے کا قیمتی اثاثہ ہوتی ہیں۔ ان کی موجودگی لوگوں کے لیے حوصلے، اعتماد اور امید کا باعث بنتی ہے۔ہم سب کی دلی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے لالہ انیس الرحمن بٹ کو جلد صحتِ کاملہ و عاجلہ عطا فرمائے، انہیں درازیٔ عمر، تندرستی اور خوشیوں بھری زندگی نصیب فرمائے اور وہ ایک بار پھر اسی جوش و جذبے کے ساتھ عوامی، سماجی اور کاروباری میدان میں اپنی مثبت خدمات انجام دیتے نظر آئیں۔بلاشبہ لالہ انیس الرحمن بٹ صرف ایک تاجر، سیاستدان یا سابق کونسلر نہیں بلکہ خدمت، دیانت، خلوص اور عوامی اعتماد کی ایک روشن مثال ہیں۔ ان کی زندگی آنے والی نسلوں کے لیے اس بات کا پیغام ہے کہ اصل عظمت عہدوں میں نہیں بلکہ لوگوں کے دلوں میں جگہ بنانے میں ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ انہیں صحتِ کاملہ عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین۔*