میانوالی(اللہ نواز خان)گلن خیل روڈ ٹوٹ پھوٹ کا شکار۔معمولی سی بارش سے جھیل میں تبدیل ہو جاتا ہے۔کئی بار حادثات بھی ہوئے لیکن انتظامیہ کی خاموشی افسوسناک ہے۔
تفصیلات کے مطابق گلن خیل روڈ تا سکندرآباد تک سفر کرنا شہریوں کے لیے اذیت ناک بن چکا ہے۔معمولی سی بارشوں کے بعد سڑک کے نشیبی حصوں میں پانی جمع ہو کر جھیل کی صورت اختیار کر لیتا ہے، جس کے باعث ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہونا شروع ہو جاتی ہے۔روڈ کی خرابی کی وجہ سےمتعدد موٹر سائیکل سوار پھسل کر زخمی ہو چکے ہیں جبکہ گزشتہ روز ایک لوڈر الٹنےسے ڈرائیور بھی زخمی ہو گیا۔مقامی افراد کا کہنا ہے کہ سیمنٹ فیکٹری اور ایگری ٹیک جیسے بڑے صنعتی ادارے ماہانہ کروڑوں روپے کماتے ہیں، مگر افسوس کہ سڑک کے محض 50 فٹ کے خراب حصے کی مرمت تک نہیں کی جا رہی۔ اسی طرح جابہ پل بھی کئی سالوں سے تعمیر کا منتظر ہے، حالانکہ یہ سڑک اور پل ان ہی فیکٹریوں کی ملکیت میں آتے ہیں۔
واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے پہلے پکی چوک سے القائم ہسپتال تک سڑک کی کارپٹنگ پر کروڑوں روپے خرچ کیے جا چکے ہیں، مگر گلن خیل سڑک قلیل عرصے میں ہی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئی ہے۔ سڑک پر جگہ جگہ گہرے گڑھے بن چکے ہیں نیز گاڑیوں کی آمدورفت سے گرد و غبار کے بادل اٹھتے ہیں، جو شہریوں کی صحت کے لیے مضر ثابت ہو رہے ہیں۔
بارش کے بعد صورتحال مزید سنگین ہو جاتی ہے، جب سڑک پر پانی جمع ہونے سے کیچڑ بن جاتا ہے اور گاڑیاں پھنس جاتی ہیں۔ موٹر سائیکل سواروں، رکشہ ڈرائیوروں اور پیدل چلنے والوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ کئی گاڑیاں بھی نقصان کا شکار ہو چکی ہیں۔مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ اس سڑک پر اب تک کئی حادثات رونما ہو چکے ہیں جن میں قیمتی انسانی جانیں بھی ضائع ہو چکی ہیں، مگر متعلقہ ادارے تاحال خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ شہریوں نے فوری نوٹس لیتے ہوئے سڑک اور جابہ پل کی تعمیر کا مطالبہ کیا ہے تاکہ مزید حادثات سے بچا جا سکے۔