مہنگی بجلی اور لوڈ شیڈنگ کا عذاب

تحریر: اللہ نواز خان

allahnawazk012@gmail.com

پاکستان میں بجلی بہت ہی مہنگی ہوگئی ہے اور لوڈ شیڈنگ کا عذاب بھی شروع ہوگیاہے۔مختلف قسم کے ٹیکسز لگا کر بجلی کی قیمتوں میں روز بروز اضافہ کیا جاتا ہے۔سلیب سسٹم ایک ایسا ظلم ہے جس سے عوام کی پریشانیوں میں بہت زیادہ اضافہ ہوگیاہے۔مزیدظلم کہ لوڈشیڈنگ میں بہت زیادہ اضافہ ہو گیا ہے۔حکومت نے حال ہی میں بجلی کی قیمتوں کوکنٹرول کرنےکے لیے اعلان کیا ہے کہ شام پانچ بجے سے رات ایک بجے تک (پیک آورزمیں) روزانہ تقریبا سوا دو گھنٹے لوڈ شیڈنگ کی جائے گی۔پیک آورز کے دوران لوڈ شیڈنگ کرنے کے لیے حکومت نے دعوی کیا ہےکہ اگر لوڈ شیڈنگ نہ کی جاتی تو قیمت میں تین سے چھ روپے فی یونٹ اضافہ ہو سکتا تھا۔اب ممکنہ اضافہ 1.5روپے ہوا ہے،جب کہ حال ہی میں نیپرا(NEPRA) نے فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ(FCA) کے تحت 1.42 روپے فی یونٹ اضافہ کر دیاگیا ہے۔علاوہ ازیں دیگر ایڈجسٹمنٹس بھی جاری ہیں،جو کہ عوام پر ظلم کے مترادف ہے۔لوڈ شیڈنگ اور مہنگی بجلی کے بارے میں دعوی کیا جا رہا ہے کہ یہ سب ایران.امریکہ تنازع کی وجہ سے ہو رہا ہے،کیونکہ آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے ایندھن اور ایل این جی کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے۔حکومت کی طرف سے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ آئی ایم ایف کی شرائط بھی ہوتی ہیں کہ بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کیا جائے۔مہنگی بجلی کرنے کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ مہنگے ایندھن سے بجلی کو پیداکیاجاتا ہے۔مہنگے ایندھن کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔اگر بجلی مہنگے ایندھن کی بجائے سستے ایندھن سےپیداکی جائے تو بہت ہی کم قیمت پر عوام کو بجلی میسر ہوگی, لیکن ایسی پالیسیاں بنانے سے گریز کیا جاتا ہے جس سے عوام کو فائدہ حاصل ہو۔اب تو حالات خراب ہیں لیکن ماضی میں جب حالات درست تھے تو اس وقت بھی بجلی کی قیمتیں زیادہ تھیں۔ایندھن کی قلت کی وجہ سےبھی کم بجلی پیدا ہو رہی ہے،اس لیے لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے۔سر کلر ڈیبیٹ بھی تقریبا 1.9 ٹریلین روپے تک پہنچ گیا ہے،جو نظام کو کمزور کر رہا ہے۔ملک میں انسٹالڈ کپیسٹی 45000 میگا واٹ سے زیادہ ہے، لیکن مہنگے فیول کی وجہ سے استعمال نہیں ہو پا رہی اور کم استعمال کی وجہ سے بھی فی یونٹ لاگت بڑھ جاتی ہے۔
گرمیاں تقریبا شروع ہو چکی ہیں اور گرمیوں میں بجلی کی ضرورت بھی بہت زیادہ ہوتی ہے۔گرمیوں میں لوڈ شیڈنگ بہت ہی اذیت ناک ہوتی ہے اورآنے والے دنوں میں لوڈ شیڈنگ میں بہت زیادہ اضافہ ہونے کا امکان ہے۔لوڈشیڈنگ سے نظام زندگی متاثر ہو جاتا ہے،صرف نظام زندگی متاثر نہیں ہوتا بلکہ کاروبار بھی متاثر ہوتے ہیں۔حکومت کو فوری طور پر ایسے اقدامات اٹھانے ہوں گے جس سے لوڈ شیڈنگ بھی ختم ہو جائے اور بجلی کے بل بھی عام آدمی برداشت کر سکے۔سولر انرجی کا استعمال بھی بڑھانا ہوگا تاکہ بجلی کی قیمتیں بھی کنٹرول میں ہو سکیں اور لوڈشیڈنگ بھی ختم ہو سکے۔بہت سے علاقوں میں بجلی چوری ہوتی ہے اور اس چوری کی ادائیگی وہ افراد کرتے ہیں،جو بل ادا کرتے ہیں۔چوری کی سختی سے روک تھام کرنی ہوگی۔اعلی افسران اور حکمران طبقے کو بھی فری بجلی فراہم کی جاتی ہے،فری بجلی کی فراہمی پر کنٹرول کرنا ہوگا۔لائن لاسز کی ادائیگی بھی بل ادا کرنے والوں کے ذمہ ہوتی ہے،لائن لاسز کوبھی روکنا چاہیے۔بجلی کا کم استعمال بھی ضروری ہے۔بعض اوقات گھروں میں یا دفاتر میں بجلی ضائع ہو رہی ہوتی ہے،یہ عوامی فرض ہے کہ بجلی ضائع ہونے سے روکی جائے۔جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے بھی بجلی بچائی جا سکتی ہے،لہذا جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ضرورکرنا چاہیے۔میٹر ٹمپرنگ اور غیر قانونی کنکشن(کنڈا سسٹم) کا بھی خاتمہ کرنا ہوگا۔
بجلی کی قیمتوں کو بھی کنٹرول کرنا ہوگا اور لوڈ شیڈنگ بھی ختم کرنا ہوگی۔بجلی کا پورا نظام بہت ہی بگڑ چکا ہے اس کو درست کرنے کی فوری طور پر ضرورت ہے۔کوئلے سے بھی بجلی بنائی جا سکتی ہے اور یہ بجلی بہت ہی سستی ہوگی۔بجلی کی قیمتوں میں کمی کی جائے نیز سلیب سسٹم کابھی خاتمہ ضروری ہے۔ناجائز ٹیکسز کو ختم کر کے عوام کے لیےآسانی پیدا کی جا سکتی ہے۔ایک اور ظلم کا ذکر کرنا ضروری ہےکہ “میٹر کرایہ”کے نام پر ماہانہ فکسڈچارجز وصول کیے جا رہے ہیں اور یہ چارجز 300 روپے سے لے کر 900 روپے تک وصول کیے جاتے ہیں۔ایک صارف جب پہلے ہی میٹر کی قیمت ادا کر چکا ہے تو ماہانہ ادائیگی کیوں کرے؟میٹر کرایہ کے علاوہ جو بھی چارج وصول کیے جاتے ہیں،ان پر نظر ثانی کرنے کی فوری ضرورت ہے۔بجلی موجودہ دور کی ایک اہم ضرورت بن گئی ہے۔کارخانوں کو چلانے کے لیے بجلی کی ضرورت ہوتی ہے۔کارخانوں کے لیے سستی بجلی مہیا کی جانی چاہیے اور لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ بھی ضروری ہے تاکہ پاکستان خوشحالی کی طرف بڑھ سکے۔اب تو بجلی پر گاڑیاں منتقل کی جا رہی ہیں،اگر پاکستان میں بجلی کی یہی صورتحال رہی تو مستقبل بہت ہی پریشان کن ہوگا۔ماہرین کے مطابق 2040 تک تقریبا تمام گاڑیاں بجلی پر منتقل ہو سکتی ہیں۔اگر پاکستان میں بجلی کی پیداوار اور قیمتوں پر کنٹرول نہ کیا گیا تو پاکستان بہت ہی پیچھے رہ جائے گا۔