امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی
تحریر: اللہ نواز خان

allahnawazk012@gmail.com

امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ دو ہفتوں کے لیے معطل ہو گئی ہے۔اس خبر کو سن کر امن پسندوں کو بہت خوشی ہوئی اور یہ توقع کی جا رہی ہے کہ یہ جنگ مستقل بنیادوں پر ختم ہوگی۔یہ جنگ پورے خطے میں پھیل رہی تھی اور عالمی طور پر اس کے اثرات محسوس کیے جا رہے تھے۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہو گیا تھا۔خطے کے وہ ممالک بھی نقصان اٹھا رہے تھے جہاں امریکی اڈے موجود ہیں۔جنگ کی وجہ سے بہت زیادہ نقصان ہو رہا تھا،اب وہ نقصان رک گیا ہے۔کم از کم دو ہفتے امن رہے گا،پھر مذاکرات کی کامیابی کی بعد مستقل جنگ بندی ہو سکتی ہے۔اس جنگ بندی کو اس وجہ سے بھی اہمیت دی جا رہی ہے کیونکہ مطالبات تسلیم نہ کرنے کی وجہ سے امریکہ نے دھمکی دی تھی کہ ایران کی پوری تہذیب کو مٹا دیا جائے گا۔یہ خوفناک دھمکی تھی اور اس دھمکی سے پوری دنیا میں تشویش بہت زیادہ بڑھ گئی تھی۔امریکی صدر کی ڈیڈ لائن پوری ہونے والی تھی کہ پاکستان کی کوششوں سے جنگ بند کر دی گئی۔اسلام آباد میں جمعہ کے دن مذاکراتی ٹیموں کی میٹنگ ہوگی۔ہو سکتا ہے یہ مذاکرات کامیاب نہ ہوں اور دوبارہ جنگ شروع ہو جائے۔اگر مذاکرات کامیاب نہیں بھی ہوتے تو کم از کم دو ہفتوں کے لیے امن تو قائم ہو گیا ہے۔عالمی برادری کوشش کرے کہ یہ مذاکرات کامیاب ہو جائیں تاکہ مستقل طور پر یہ جنگ بند ہو جائے۔اس جنگ سے ایران کو بھی نقصان پہنچ رہا تھا اور دیگرممالک بھی نقصان اٹھا رہے تھے۔امریکہ کےلیے بھی یہ جنگ بہت ہی مہنگی ثابت ہو رہی تھی۔اب یہ جنگ بندی امریکہ، ایران سمیت پورے خطے کے لیے بہتر ہوگی بلکہ پوری دنیا کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگی۔ایران اور امریکہ کے درمیان لڑی والی جنگ کے بارے میں یہ امکان نہیں تھا کہ یہ ایٹمی جنگ میں تبدیل ہو جائے،لیکن یہ خدشہ موجود تھا کہ ایسا ہو سکتا ہے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی آخری لمحات میں ہوئی۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جو ڈیڈ لائن دی تھی اس میں ایک گھنٹہ اٹھائیس منٹ باقی رہ گئے تھے۔یہ بہت بڑی کامیابی ہےکہ جنگ کو روک دیا گیا ہے۔اس جنگ بندی کے بارے میں امریکی صدر نے سوشل میڈیا پر پیغام نشر کیا کہ جنگ کو دو ہفتوں کے لیےمعطل کیا جا رہا ہے۔اس جنگ کو روکنے کے لیے پاکستان کی مثبت سفارتی کوششیں بہت ہی اہم ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ”میں پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ہونے والی گفتگو کی بنیاد پر دو ہفتوں کی مدت کے لیے ایران پر بمباری اور حملوں کو معطل کرتا ہوں”جس وقت امریکی صدر نے یہ پیغام نشر کیا اس وقت پاکستان میں رات کاوقت 3:32،ایران میں رات کا وقت 2:02 اور امریکہ میں شام کاوقت 6:32 تھا۔ہو سکتا ہے امریکہ حملہ نہ کرتا،لیکن امکان موجود تھا کہ مقررہ وقت گزرنے کے بعد حملہ ہوگا۔امریکی صدر نے ایرانی تہذیب کے مکمل طور پر تباہ کرنے کی دھمکی دی تھی۔امکان موجود تھا کہ امریکی صدر اپنی دھمکی کو پورا کر سکتا ہے۔بہرحال یہ دھمکی بہت ہی خوفناک سمجھی جا رہی تھی۔جوابی طور پر ایران نے بھی وارننگ دی ہوئی تھی کہ امریکہ کو بھی مکمل جواب دیا جائے گا۔لازمی طور پر ایران کی طرف سے ان علاقوں کو نشانہ بنایا جاتا جہاں امریکی اڈے موجود ہیں اور یوں یہ جنگ پورے خطہ کے لیے خوفناک ثابت ہوتی۔ابھی پوری طرح جنگ بندی نہیں ہو سکی ہے بلکہ مذاکرات ہوں گے۔اب مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں،بہرحال اب جنگ بندی کی امید بن چکی ہے۔ایران اس جنگ سے بہت زیادہ متاثر ہو چکا ہے۔ایران پہلے بھی عالمی پابندیوں کی زد میں تھا،اب جنگ نے بھی بہت زیادہ متاثر کر دیا ہے۔ایران کو جنگ اتنا نقصان پہنچا چکی ہے کہ دوبارہ بحالی کے لیے بہت سا سرمایہ اور وقت درکار ہوگا۔ہو سکتا ہے اس جنگ بندی کے بعد عالمی پابندیاں ختم ہو جائیں یا پابندیوں میں کچھ نرمی کر دی جائے تو ایران کی دوبارہ بحالی بہتر طریقے سے ہو سکتی ہے۔ایران کواگرتیل اور گیس کی فروخت کی اجازت مل جائے تو ایرانی معیشت جلدہی مضبوط ہو سکتی ہے۔
یہ جنگ امریکہ کے لیے کتنی فائدہ مند ثابت ہوئی ہے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔امریکی صدر نے یہ دعوی کیا ہے کہ ہم فوجی اہداف حاصل کر چکے ہیں۔اب اس کا دعوی کتنا سچا ہے کچھ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ ایران بھی مسلسل جواب دیتا آیا ہے۔امریکی صدر نے یہ بھی کہاہے کہ ایران کے ساتھ طویل مدتی امن اورمشرق وسطی میں امن کے حوالے سے ایک حتمی معاہدے پر آگے بڑھ گئے ہیں۔مزید کہا کہ ایران کی جانب سے 10 نکات پر مشتمل ایک تجویز موصول ہوئی ہے اور ان کا خیال ہے کہ یہ مذاکرات کے لیے قابل عمل بنیاد فراہم کرتی ہے۔امریکہ نے بھی جنگ بندی کے لیے 15 نکاتی تجویز دی ہے۔اب آبنائے ہرمز بھی کھول دیا گیا ہے اور حملے بھی رک گئے ہیں۔جنگ کا ایک اور مسئلہ یہ بھی تھا کہ ایران جوہری توانائی سے دستبردار ہو جائے۔تہران نے ہمیشہ یہ مطالبہ مسترد کرتےہوئےاپنے دو ٹوک طور موقف کا اظہار کیا کہ ایٹمی توانائی مثبت مقاصد کے لیے ہے اور یہ اس کا حق ہے۔اب جوہری توانائی سے ایران دستبردار ہوتا ہے یا امریکہ اس مطالبے سے پیچھے ہٹتا ہے،فی الحال کچھ نہیں کہا جا سکتا۔امریکہ کے لیے بھی یہ ایک آزمائش ہوگی کہ ایران کو جوہری توانائی سے کس طرح دستبردار کیا جا سکتا ہے؟ایران کا یہ بھی سب سے بڑا مطالبہ ہوگا کہ ایران کو ہرجانہ دیا جائے۔ہرجانےمیں بہت بڑی رقم طلب کی جا سکتی ہے اور امریکہ کے لیے مطالبہ پورا کرنا مشکل ہوگا۔ایران کے دیگر مطالبات پورے ہوں گے یا نہیں،اسی طرح امریکی مطالبات بھی پورے ہو سکتے ہیں یا نہیں،کچھ نہیں کہا جا سکتا۔یہ امید ضرور ہے کہ اب جنگ مستقل بنیادوں پر ختم ہو جائے گی۔جنگ کا خاتمہ بہترین عمل ہوگا،بلکہ پورے خطے میں امن قائم کرنا ہوگا۔مشرق وسطی میں جہاں جہاں جنگ جاری ہے،وہاں جنگ کو رکنا چاہیے۔مشرق وسطی میں امن قائم ہونے کا مطلب یہ ہوگا کہ پوری دنیا میں امن قائم کرنے کی راہ ہموار ہو رہی ہے۔