بچپن میں مجھے سہارا
میرے ابو جی ہی دیتے تھے
*تحریر ! سید شاکر علی شاہ*
وزیراعظم شہباز شریف کو دیکھ کر مجھے اپنا بچپن یاد اگیا بچپن میں گھر سے باہر میرا کسی سے جھگڑا ہو جاتا تو میں اپنے ابو جی کو ساتھ لے کر جاتا تو میرے ساتھ جھگڑنے والا ابو جی کو دیکھ کر ڈر جاتا اور مجھ سے معذرت کرتا اور اگر کوئی بڑا ہوتا تو پیار کرنا شروع کر دیتا گھر کے بھی تمام معاملات میرے ابو جی ہی درست کرتے تھے مسائل گھر میں ہوں یا باہر اس کا حل گھر کی کسی طاقتور شخصیت کے پاس ہی ہوتا ہے
وزیراعظم شہباز شریف کی ذاتی حیثیت کیا ہے پہلے تو اس کا اندازہ پاکستانی قوم کو بخوبی تھا لیکن اس بار دور اقتدار میں پوری دنیا دیکھ رہی ہے سب سے پہلے ملک کو ڈیفالٹ سے نکالنا اور اکانمی کا بحران یا ڈونلڈ ٹرمپ کی صدر بننے کے بعد حلف برداری اور اس کے بعد امریکہ میں پروٹوکول کے ساتھ قیام اور پھر پاکستان کا سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ اور اب امریکہ اسرائیل اور ایران کی جنگ ان تمام معاملات کو حل کرنے کے لیے میاں شہباز شریف صاحب کو ایک ہی سہارے کی ضرورت پڑتی ہے وہ ہیں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر صاحب جن کی وجہ سے اج ابنائے ہرمز کھول دیا گیا پاک فوج کی طاقت کو پوری دنیا جانتی ہے
ایوب خان ، یحیی خان ،ضیاء الحق ،اور مشرف کی طرح فیلڈ مارشل سید عاصم منیر صاحب نے مارشل لا نہیں لگایا لیکن پاکستان کی اکانمی کو پاؤں پر کھڑا کرنے میں گراں قدر خدمات سر انجام دی انٹرنیشنل پالیسیز اور جنگ بندی میں اہم کردار ادا کیا
یہ کام تو پوری قوم کے لیے فخر کا ہے لیکن اس کا سارا کریڈٹ میڈیا پر ا کر وزیراعظم اور وہ وزرا حاصل کر رہے ہیں جن کو فون کر کے یا کسی ٹی وی چینل سے معاملے کی تفصیل حاصل ہوتی ہے







