امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات:کیا امن ممکن ہے یا جنگ لوٹ آئے گی؟
تحریر: اللہ نواز خان
allahnawazk012@gmail.com
امریکہ اور ایران کے درمیان عارضی جنگ بندی ہو چکی ہے۔جنگ کو مکمل طور پر بند کرنے کے لیے ایران اور امریکہ کے درمیان پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں مذاکرات ہو رہے ہیں۔جس وقت یہ الفاظ لکھے جا رہے ہیں،اس وقت تک مذاکرات شروع نہیں ہوئے لیکن جلدی شروع ہونے والے ہیں۔دونوں فریقین کی طرف سے مذاکراتی ٹیمیں اسلام اباد میں پہنچ چکی ہیں۔فریقین کو مذاکرات کی میز پر بٹھانے کے لیے پاکستان نے اہم کردار ادا کیا ہے۔اسی لیےپاکستان کے کردار کو عالمی طور پر سراہا جا رہا ہے۔یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں کچھ کہنا انتہائی مشکل ہے۔مذاکرات سے قبل لبنان پر اسرائیل نے حملہ بھی کر دیا اور ایران نے واضح طور پر کہا لبنان پر حملے رکنے چاہیے۔آبنائے ہرمز کو کھول دیا گیا ہے اور اس وجہ سے تیل کی قیمتیں بھی کم ہو گئی ہیں۔امریکہ واسرائیل نے مشترکہ طور پر ایران کے ساتھ جنگ شروع کر رکھی تھی۔جنگ اس بنیاد پر شروع ہوئی تھی کہ ایران یورنیم کو اس حد تک افزودہ کر چکا ہے کہ فوجی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکے۔جنگ شروع ہو گئی لیکن امریکہ اپنے اہداف مکمل نہ کر سکا۔جنگ شروع ہونے کے بعدامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت نقصان پہنچانے کی دھمکی دی تھی،بلکہ کہا تھا کہ ایرانی تہذیب کو تباہ کر دیا جائے گا۔اس سلسلے میں ڈیڈ لائن دے دی گئی تھی،ڈیڈ لائن کی مدت ختم ہونے سے کچھ وقت پہلے پاکستان اور چند دیگر ممالک کی کوششوں سے دونوں فریقین نے مذاکرات پرآمادگی ظاہر کی۔اب یہ مذاکرات برابری کی سطح پر ہو رہے ہیں،اس سےیہ معلوم ہوتا ہے کہ ایران بھی ایک مضبوط فریق ہے۔حالانکہ ایران معاشی طور پر بھی کمزورہے اور مخالفین کی نسبت جدید اسلحہ بھی موجود نہیں ہے۔اس کے باوجود ایران مقابلے پر ڈٹا ہوا ہے۔
اب یہ مذاکرات ہوں گے تو علم ہوگا کہ فریقین ایک دوسرے کو کس طرح مطمئن کرتے ہیں؟اصل مسئلہ یورنیم کا ہے اور اسی بنیاد پر جنگ شروع ہوئی تھی۔اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا امریکہ یورنیم سے دستبرداری کا مطالبہ ایران سے منظور کروا سکتا ہے یا نہیں؟ایران کاواضح طور پر موقف رہا ہے کہ یورنیم کو مثبت مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔جوہری پروگرام سے دستبرداری کا مطلب یہ ہوگا کہ ایران اپنی سلامتی کو کمزور کر رہا ہے۔یہ مذاکرات بہت ہی مشکل سے کامیاب ہوں گے کیونکہ دونوں فریقین میں اعتماد کافقدان ہے۔دونوں فریقین نے ایک دوسرے کو شرائط بھی پہلے ہی سے پیش کی ہوئی ہیں۔دونوں فریقین ایک دوسری کی شرائط کو مشکل سے تسلیم کریں گے۔دونوں ممالک کافی عرصے کے بعد براہ راست ایک دوسرے سے مذاکرات کر رہے ہیں،ہو سکتا ہے کوئی بڑی پیشرفت نہ بھی ہوئی تو کچھ نہ کچھ حل نکل آئے گا۔لیکن ان مذکرات کی کامیابی اس لیے بھی مشکل ہے کہ اسرائیل نہیں چاہے گا کہ ایران کی صورت میں ایک مستقل دشمن مشرق وسطی میں موجود رہے۔اگر مذاکرات کامیاب نہیں ہوتے تو خطے میں مزید کشیدگی پھیل جائے گی۔آبنائے ہرمز پھر بند ہو جائے گا نیز علاقائی جنگ دوبارہ شروع ہو سکتی ہے۔مذاکرات سے قبل عدم اعتمادکی وجہ سے فریقین ایک دوسرے پر کم بھروسہ کر رہے ہیں۔امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ ایران چالا کی نہ کرے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی یہ کہا ہے کہ اگر مذاکرات کامیاب نہیں ہوتے تو دوبارہ جنگ شروع ہو سکتی ہے۔
یہ بھی نہیں کہاجا سکتا کہ مذاکرات مکمل طور پر ناکام ہو جائیں گے،کیونکہ امریکہ خود بھی اس جنگ سے نکلنے کا خواہش مند ہے۔عالمی دباؤ بھی واشنگٹن پر بڑھ رہا ہے اور خطے کے دوسرے ممالک بھی امریکہ پر دباؤ بڑھا رہے ہیں کہ یہ جنگ بند کی جائے کیونکہ اس جنگ میں ان کا بڑا نقصان ہو رہا ہے۔آبنائے ہرمز کی بندش سے تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں،جس کی وجہ سے عالمی معیشت متاثر ہو رہی ہے اور مہنگائی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔درآمدات اور برآمدات بھی متاثر ہو رہی ہیں۔اس لیے ممکن ہے کہ جنگ مکمل طور پر بند ہو جائے۔اس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ یہ جنگ بندی عارضی جنگ بندی ہوگی۔ایران جوہری توانائی سے دستبردار نہیں ہوتا تو امکان موجود رہے گا کہ کسی وقت دوبارہ جنگ شروع ہو سکتی ہے۔ممکن ہے کہ مذاکرات کامیاب ہو جائیں تو یہ ایک بہت بڑی کامیابی ہوگی۔مذاکرات کی کامیابی سےآبنائےہرمز مکمل طور پر کھل جائے گا۔ایران پر بھی عالمی معاشی پابندیاں ختم یا نرم ہو سکتی ہیں جس کا فائدہ ایران کو ہوگا۔خلیج میں کشیدگی کم ہو جائے گی،جس کی وجہ سے خطہ پرامن ہو جائے گا۔عالمی تجارت بھی بہتر طریقے پر شروع ہو سکے گی۔
ایران اور امریکہ کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو علم ہوتا ہے کہ امریکہ کی نسبت ایران انتہائی کمزور ملک ہے۔امریکی ڈالر عالمی طور پر ایک مضبوط کرنسی تسلیم کی جاتی ہے،جبکہ ایرانی کرنسی غیر مستحکم ہے اور ڈالر کے مقابلے میں انتہائی کم ویلیو رکھتی ہے۔امریکہ کے پاس جدید اسلحہ موجود ہے اور نیٹو جیسا اتحاد بھی امریکہ کے ساتھ ہے نیز امریکہ چند دیگر وجوہات کی وجہ سے بھی ایران سے آگے ہے،اسی وجہ سے امریکہ ایران سے زیادہ مضبوط ہےاس لیےاگر امریکہ اپنے مطالبات تسلیم نہ کروا سکا تو دوبارہ جنگ شروع ہو جائے گی۔اس جنگ سےنہ صرف مشرق وسطی کاخطہ بدامنی کا شکار رہے گا بلکہ عالمی بدامنی پھیل جائے گی۔اس امکان کو رد نہیں کیاجاسکتا کہ چند بڑی طاقتیں بھی اس جنگ میں شامل ہو جائیں۔ہو سکتا ہے بڑی طاقتیں ایران کا ساتھ دیں،اس طرح امریکہ بری طرح شکست کا شکار ہو جائے گا۔یہ بھی ممکن ہے کہ نیٹو اور دیگر طاقتیں امریکہ کا ساتھ دیں،اس طرح ایران کو بہت بڑا نقصان پہنچ سکتا ہے۔بحرحال مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں،لیکن جنگ کا وقفہ بہتر ہے کہ انسان قتل ہونے سے کچھ وقت کے لیےسہی بچ رہے ہیں۔اس جنگ کو رکنا چاہیے اور اس سلسلے میں عالمی برادری کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔







